Mon 21 Jm2 1435 - 21 April 2014
97152

آنے والے رشتوں كو قبول كرنے سے انكار كر دينا جاد كا اثر تو نہيں ؟

ميں اٹھائيس برس كى ہوں، بااعتماد اور دين كا التزام كرنے والى ہوں، الحمد للہ ہر كوئى ميرا احترام كرتا اور مجھ سے محبت كرتا ہے، ميرى شادى نہيں ہوئى، سبب يہ ہے كہ جب بھى ميرا كوئى رشتہ آتا ہے تو ميں كوشش كرتى ہوں كہ اس ميں كوئى عيب نكالوں تا كہ اس رشتہ سے انكار كر دوں، ليكن پھر بعد ميں نادم ہوتى ہوں.
ميرى ايك سہيلى جو مجھ سے محبت بھى كرتى ہے اور ميرى مصلحت بھى چاہتى ہے كچھ ايام قبل اس نے مجھ سے كہا يہ جادو كى وجہ سے ہے جو چاہتا ہے كہ آپ كى شادى نہ ہو اس نے آپ پر جادو كر ركھا ہے.
ميں اس موضوع كے متعلق شرعى حكم معلوم كرنا چاہتى ہوں، آيا كيا ممكن ہے كہ واقعى ايسا ہو سكتا ہے ؟
يعنى كيا يہ ممكن ہے كہ وہ مجھے ايسا جادو كر ديں جو ميرے خيال ميں رشتہ سے انكار پيدا كر دے چاہے آنے والے رشتہ پر مطمئن بھى ہوں.
اور اگر يہ بات صحيح ہے تو يہ بتائيں كہ اس كا حل كيا ہے ؟
ميرى سہيلى نے مجھے يہ بھى كہا كہ كچھ ايسے افراد موجود ہيں جو يہ جادو ختم كر سكتے ہيں، برائے مہربانى ميرى مدد فرمائيں كيونكہ ميں اس واقع كى تصديق نہيں كرتى.

الحمد للہ:

اول:

جس رشتہ كو قبول كرنے سے آپ انكار كرتى ہيں وہ دو حالتوں سے خالى نہيں:

پہلى حالت:

وہ شخص حقيقى طور پر برى صفات كا مالك ہو.

دوسرى حالت:

يہ آپ كا وہم اور خيال ہو، اور حقيقى طور پر كچھ نہ ہو.

اگر تو پہلى حالت والا شخص ہوتو آپ نے اس رشتہ سے انكار كر كے اچھا كيا ہے، كيونكہ عورت كے ليے تو وہى خاوند صحيح ہو سكتا ہے جو دين و اخلاق حسنہ كا مالك ہو، ايسا شخص ہى خير و بھلائى كى راہنمائى كرتا ہے، اور اپنى بيوى كا اللہ كى اطاعت ميں ممد و معاون ثابت ہوتا ہے، اور اپنى اولاد كى تربيت بھى اخلاق حسنہ اور اچھے اقوال و اعمال پر كرتا ہے.

ليكن يہاں ہم ايك تنبيہ كرنا چاہتے ہيں جو بہت ہى اہم ہے وہ يہ كہ دل اور اندر كے معاملات پر حكم لگانا بشر كے ذمہ نہيں ہے، اور نہ ہى كسى كو اس كا حكم ديا گيا ہے، حتى كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ كو بھى نہيں.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" مجھے يہ حكم نہيں ديا گيا كہ ميں لوگوں كے دلوں كو چاك كروں، اور نہ ہى يہ حكم ديا گيا ہے كہ لوگوں كے پيٹ چاك كرتا پھروں "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 4351 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1064 ).

جب ہميں اس كا حكم ہى نہيں ديا گيا تو ہمارے ليے لوگوں كا جو كچھ ظاہر ہے وہى كافى ہے، لہذا جو بھى ہمارے سامنے خير و بھلائى ظاہر كرتا ہے ہم اسے امن ديں گے، اور اس پر اس كے ظاہر كے مطابق ہى حكم لگائيں گے، باقى دلوں كا معاملہ تو اللہ كے سپرد ہے.

عبد اللہ بن عتبہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے عمر بن خطاب رضى اللہ تعالى عنہ كو فرماتے ہوئے سنا:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں لوگوں كا مؤاخذہ وحى كے مطابق كيا جاتا تھا، اب وحى منقطع ہو چكى ہے اب ہم وہ ليں گے جو ہمارے سامنے تمہارے اعمال ظاہر ہوتے ہيں، اس ليے جس نے بھى ہمارے ليے خير و بھلائى ظاہر كى ہم اسے امن ديں گے، اور اسے قريب كرينگے، ليكن اس كے اندرونى اور سينہ كے معاملات پر ہميں كوئى دسترس نہيں، اللہ اس كے اندرونى معاملات خوب جانتا ہے، اور جو كوئى ہمارے ليے برائى ظاہر كرتا ہے ہم اسے امن نہيں ديں گے، چاہے وہ يہ كہتا پھرے كہ ميرا اندر صاف اور اچھا ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2641 ).

عزيز بہن: خدشہ ہے كہ اگر آپ لوگوں كو ٹٹولنے لگيں اور ان كے باطن كے بارہ ميں تلاش شروع كر دى تو پھر آپ كے ليے كوئى بھى سليم نہيں رہےگا؛ بلكہ آپ سب سے قبل اپنے آپ اور اپنے دل كو ديكھيں جو كچھ آپ لوگوں ميں عيب ٹٹولتى ہيں كيا وہ آپ ميں نہيں ؟

جو شخص اپنے كسى دوست ميں پائے جانے والے عيب سے چشم پوشى نہيں كرتا وہ قابل ملامت ہے، اور جو كوئى كوشش كر كے ہر عيب اور غلطى كو تلاش كرتا ہے تو وہ اسے مل جائيگى اور زمانے ميں اسے كوئى دوست ملےگا ہى نہيں.

معاويہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو فرماتے ہوئے سنا:

" !! اگر تم نے لوگوں كے عيب ٹٹولنے شروع كر ديے تو تم نے لوگوں كو خراب كر ديا، يا پھر قريب ہے كہ تم انہيں خراب كر دو.

!! تو ابو درداء رضى اللہ تعالى عنہ كہنے لگے: معاويہ رضى اللہ تعالى عنہ نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ايك كلمہ سنا جس سے اللہ تعالى نے نفع ديا "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 4888 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے اسے صحيح قرار ديا ہے.

مناوى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" كيونكہ لوگ ايك دوسرے كى عيب جوئى كرتے ہيں اور غيبت وغيرہ كرتے ہيں، يا پھر تہمت لگتى ہے جس كى كوئى اصل ہى نہيں ہوتى، يا پھر مقام و مرتبہ والوں كى چھوٹى چھوٹى غلطيوں كى بنا پر ہتك عزت كرنا.

بعض اوقات عيب ٹٹولنے كى بنا پر وہ خرابى پيدا ہو جاتى ہے جس خرابى كو دور كرنے كے ليے يہ كيا جاتا ہے ليكن اس كى بنا پر وہ اور زيادہ ہوجاتى ہے.

حاصل يہ ہوا كہ: شارع نے حتى الامكان ستر پوشى كا خيال ركھنے كا حكم ديا ہے "

ديكھيں: فيض القدير ( 1 / 559 ).

عزيز بہن: ہمارى آپ اور ان بہنوں كو جو اپنے ليے مناسب خاوند كى تلاش ميں ہيں يہ نصيحت ہے كہ: عورت كو اپنے ليے خاوند ميں اخلاقى اور دينى طور پر جو شروط لگائيں اس ميں تشدد سے كا مت ليں اس كى دو وجوہات ہيں:

پہلى وجہ:

ايسا ہو سكتا ہے كہ اس كے پاس وہ امتيازات اور صفات نہ ہوں جو دينى اور جمال و خوبصورتى كے اعتبار سے ہوتى ہيں جس كى بنا پر صاحب اخلاق اور صاحب دين شخص ايسى عورت كو تلاش كرتا ہے اور اس كے ساتھ ملنا چاہتا اور ازدواجى زندگى بسر كرنا چاہتا ہے، تو اس طرح اس كے اس رشتہ سے انكار كر دينے كى كوئى وجہ نہيں.

كيونكہ يہ مستحيل ہے كہ كوئى ايسا شخص آئے جس كے خيال ميں ہو اور وہ اسے بطور بيوى اس كا رشتہ طلب كرے، اس ليے عورت كو يہ چيز مدنظر ركھنى چاہيے كيونكہ يہ بہت اہم ہے.

دوسرى وجہ:

لوگوں ميں درجات پائے جاتے ہيں كسى كا اخلاق اور دين كم ہے، اور كسى كا زيادہ، جس عورت كے ليے كسى ايسے شخص كا رشتہ آئے جو صاحب دين اور بااخلاق ہو تو اسے معلوم ہونا چاہيے كہ اس آنے والے رشتہ سے بہتر اور اچھے بھى ہيں، اور يہ بھى ہو سكتا ہے كہ يہ باقيوں سے بہتر ہو.

اس ليے اسے مناسب حد پر راضى ہو جانا چاہيے كہ وہ اس كا خاوند ہو اور اس كى ستر پوشى كرے، اور اس كى خير و بھلائى كى طرف راہنمائى كرنے والا بنے، اور اسے اپنے ايمان ميں زيادتى كرنا پسند ہو، اور وہ اس كے پردے اور دين كو ناپسند كرنے والا شخص نہ ہو.

اگر دوسرى حالت ہے تو زيادہ احتمال يہى ہے كہ يہ حسد اور جادو كے سبب سے ہے، اور اسے معطل كرنے والا جادو كہتے ہيں.

اس حالت كو جاننے كے ليے ممكن ہے كہ جب كسى باخلاق اور دين والے شخص كا رشتہ آئے اور اس ميں كوئى ايسى چيز نہ ہو جسے عيب كہا جائے تو آپ اسے قبول كر ليں اور وہ آپ كو قبول كر لے، اور پھر معاملہ مكمل نہ ہو، يا پھر آپ بغير كسى ظاہرى سبب كے ہى اس رشتہ سے انكار كر ديں تو آپ كو علم ہو جائيگا كہ يہ جادو ہے.

شيخ عبد اللہ بن عبد الرحمن الجبرين رحمہ اللہ كا كہنا ہے:

" رہا شادى كو معطل كرنے والا جادو: تو بہت سارى عورتيں تعطل كى شكايت كرتى ہيں؛ وہ اس طرح كہ شروط پورى ہونے اور كسى مانع كہ نہ ہونے كے باوجود شادى نہيں ہوتى.

اور بعض اوقات تو منگنى بھى ہو جاتى ہے، اور پھر ايجاب و قبول بھى ہو جاتا ہے ليكن پھر شادى مكمل كيے بغير ہى واپس چلے جاتے ہيں، بلاشك و شبہ يہ ان حاسدوں كے عمل كى وجہ سے ہے جو اسے روكنے كے ليے كيا جاتا ہے، اور جس كى بنا پر يہ تغير پيدا ہوتا ہے، حتى كہ بعض خاندان تو اپنى عورتوں كى شادى ہى نہيں كر سكتے اور وہ بيٹھى رہتى ہيں، اور اگر كسى كى شادى ہو بھى جائے تو پھر ايسا كچھ ہونے لگتا ہے جس كى بنا پر ازدواجى زندگى اجيرن بن جاتى ہے "

ديكھيں: الصواعق المرسلۃ فى التصدى للمشعوذين والسحرۃ ( 175 ).

دوم:

الحمد للہ يہ دونوں معاملے حل كرنا بہت آسان ہيں اگر يہ حالت ہو كہ آپ جن شروط كى بنا پر شادى كرنا چاہتى ہيں ان ميں شدت سے كام ليتى ہيں تو آپ جان ليں كہ اس كا حل يہ ہے كہ آپ اس شخص سے شادى كرنے پر راضى ہو جائيں جس ميں مردانگى كى صفات پائى جائيں، اور وہ خير و بھلائى كى پسند كرتا ہو اور دين پر عمل كرنے والا ہو جو حرام كاموں سے باز رہے، اس سلسلہ ميں لوگ برابر نہيں ہيں.

اس ليے آپ ايسے شخص سے شادى كرنا قبول كريں جس كو نيك و صالح اور امانتدار اور دين پر عمل كرنے والے افراد اچھا كہيں، اور وہ آپ كے رشتہ كے ليے آنے والے شخص كے بارہ ميں معلومات بھى ركھتے ہوں، اور آپ كى حالت كو بھى انہيں علم ہو؛ اميد ہے كہ اللہ سبحانہ و تعالى اس ميں خير كثير عطا فرمائيگا.

رہا اس كا حل كہ اگر آپ كو نظر لگ گئى ہے يا پھر آپ پر جادو كيا گيا ہے تو آپ كو يہ جادو ختم كرنے كے ليے شرعى طريقہ اختيار كرتے ہوئے دم وغيرہ كرنا چاہيے.

اس سلسہ ميں آپ درج ذيل سوالات كے جوابات كا مطالعہ كريں:

سوال نمبر ( 12918 ) اور ( 11290 ) اور ( 13792 ).

جادو كے توڑ اور اسے ختم كرنے كے ليے لوگ تلاش كرنے كى ضرورت نہيں؛ بلكہ آپ خود اكيلى ہى شرعى دم كر كے ختم كر سكتى ہيں، اور اگر آپ كے ليےايسا كرنا مشكل ہو تو پھر آپ كوئى قابل اعتماد بہن تلاش كريں جو شرعى دم كرے، اور آپ كو چاہيے كہ اس كے ليے مردوں سے دور ہى رہيں.

اللہ سبحانہ و تعالى سے دعا ہے كہ وہ آپ كى مدد فرمائے اور آپ كو ہر قسم كى خير و بھلائى كى توفيق نصيب كرے، اور آپ كے دل كو دين اسلام پر ثابت ركھے، اور آپ كے ليے نيك و صالح خاوند كے حصول ميں آسانى پيدا فرمائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments