97444: متحرك كارٹون فلم بنانے كا حكم


ميرے چچا كا بيٹا كارٹون فلم ڈيزائن كرنے كا كام كرنا چاہتا ہے ـ اور وہ اس كا شديد اہتمام كرتا ہے ـ اسے مختلف زبانوں كے پروگرام ميں اچھى خاصى مہارت حاصل ہے، ليكن اسے يہ اشكال ہے كہ كہيں يہ متحرك كارٹوں اسلام ميں حرام نہ ہوں، جيسا كہ تصوير كى حرمت كا اشارہ ملتا ہے، اور وہ اس كام كو شروع كرنے سے قبل اس كے متعلق موثوق رائے معلوم كرنا چاہتا ہے، يا پھر اس كے متعلق احاديث جاننا چاہتا ہے، آپ سے گزارش ہے كہ اگر آپ كے پاس اس كے متعلق كوئى سوچ اور رائے ہے تو ہميں بتائيں، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

الحمد للہ:

اگر يہ متحرك اشكال اور كارٹوں ذى روح كى نہ ہوں مثلا درخت يا گاڑى وغيرہ كى ہوں تو اسے تيار كرنے اور اس كا مشاہدہ كرنے ميں كوئى حرج نہيں، كيونكہ يہ صرف اشكال ہيں.

ليكن اگر يہ ذى روح كى اشكال پر مشتمل ہوں ـ مثلا انسان اور حيوانات كى اشكال ميں ـ تو پھر اس ميں معاصر علماء كرام كے آراء مختلف ہيں، مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام نے متحرك اشكال اور كارٹوں فلم بنانے كى ممانعت اختيار كى ہے، چاہے وہ شرعى رنگ ميں رنگى ہو.

كميٹى كے فتاوى جات ميں درج ہے:

" كارٹون فلم كى خريد و فروخت اور استعمال كرنا جائز نہيں؛ كيونكہ يہ حرام تصاوير پر مشتمل ہے، اور بچوں كى تربيت شرعى طريقوں يعنى تعليم و تاديب، ادب سكھا كر، اور نماز كا حكم دے كر، اور ان كى اچھى ديكھ بھال كر كے كى جا سكتى ہے "

الشيخ عبدالعزيز بن باز، الشيخ عبدالعزيز آل شيخ، الشيخ صالح الفوزان، الشيخ بكر ابو زيد.

ديكھيں: فتوى نمبر ( 19933 ) تاريخ ( 9 / 11 / 1418 هـ ).

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى نے اس كے جواز كى رائے اختيار كى ہے، جيسا كہ ہم ان كا قول سوال نمبر ( 71170 ) كے جواب ميں بيان كر چكے ہيں، آپ اس كا مطالعہ كريں.

اور اس كے جواز كے قول كى بنا پر اس ميں كچھ امور كا خيال ركھنا پڑےگا جن ميں كچھ يہ ہے:

1 - قائد اور جھادى شخصيات كو كرٹون فلم كى شكل ميں نہ بنايا جائے، اور نہ ہى ايسى باتيں كيں جائيں جو انہوں نے كہى ہى نہيں.

2 - متحرم اشكال اور كارٹون فلموں ميں موسيقى نہ لگائى جائے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

باقى يہ ديكھنا رہ جاتا ہےكہ، وہ ان فتوحات كے قائدين كى طرف كوئى اسى بات منسوب نہ كريں جو انہوں كہى ہى نہيں، يہى ايك مشكل ہے، تو ميرى رائے يہ ہے كہ اس ميں جب خير ہى ہو تو ان شاء اللہ اس ميں كوئى حرج نہيں، اور اگر اس ميں موسيقى بھى دى گئى ہو تو يہ جائز نہيں؛ كيونكہ موسيقى حرام معازف ميں شامل ہوتى ہے.

ديكھيں: لقاءات الباب المفتوح ( 127 ) سوال نمبر ( 10 ).

اور ہم نے اپنے بعض جوابات ميں بچوں اور بڑوں كے ليے الكٹرانك گيمز كى حرمت كے متعلق بيان كيا ہے كہ اگراس ميں ميوزك اور موسيقى ہو تو يہ حرام ہيں، مزيد تفصيل كے آپ ميرا جواب درج ذيل سوال نمبر كے جوابات ميں ديكھ سكتے ہيں.

سوال نمبر ( 2898 ) اور ( 39744 ) كے جوابات.

3 - بے پرد عورتوں اور مردوں كى تصاوير نہ بنائى جائيں، يا اس ميں حرام افعال اور كفريہ فعل مثلا صليب اٹھانى، اور بتوں كى عبادت وغيرہ چاہے يہ بطور تعليم اور مثال ہى ہو.

4 - ان متحرك اشكال اور افلام ميں كوئى قيمتى معانى اور مقصد بيان كيا گيا ہو، اور يہ بہتر اور اخلاق فاضلہ پر مشتمل ہوں.

5 - يہ تصاوير اور اشكال اللہ تعالى كى خلق كےمشابہ نہ ہو، كہ چھوٹا بچہ يہ سمجھ بيٹھے كہ كوئى ايسا بھى ہے جو اللہ تعالى كى مخلوق كى طرح پيدا كر سكتا ہے.

6 - اس ميں بدعات و اور مبتدع شخص كى تعظيم نہ ہوتى ہو، اور نہ ہى فسق اور فاسق شخص كى عظمت بيان كى گئى ہو، اور نہ ہى يہ بدعات يا حرام تہوار پر مشتمل ہو، مثلا عيد ميلاد النبى، يا سالگرہ وغيرہ.

7 - صحابہ كرام اور انبياء كا كردار نہ ادا كيا گيا ہو، چاہے وہ حقيقى واقعات ميں ہى ہو.

مزيد تفصيل كے ليے سوال نمبر ( 14488 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

اور سوال نمبر ( 10836 ) كے جواب ميں كچھ اصول و ضوابط بيان ہوئے ہيں جو يہاں نہيں، اس كا مطالعہ بھى كريں.

بہر حال مختصر يہ كہ:

اسے تيار كرنے والے شخص كے مدنظر يہ ہونا چاہيے كہ وہ جو چيز تيار كرے گا اسے سننے اور اس كا مشاہدہ كرنے والا اس سے متاثر بھى ہوگا، اس ليے اسے اسلام كى صاف اور شفاف پيغام پہنچانا چاہيے، اور اسے بچوں كى اسلامى تربيت كرنے ميں مدد و معاون بننا چاہيے، تو وہ اپنى اس متحرك اشكال كى فلم اور كارٹوں ميں نماز كى تعظيم، اور اس كى تعليم شامل كرے، اور والدين كے ساتھ صلہ رحمى اور نيكى اور حسن سلوك، اور ان كے حقوق بھى شامل كرے، اس كے علاوہ دوسرے عظيم اسلامى حقوق بھى شامل كرے، اور اس ميں والدين كى نافرمانى، اور جھوٹ و كذب بيانى، اور قطع رحمى وغيرہ كى سزا كا بھى بيان كرے.

ہم اميد ركھتے ہيں كہ اس طرح كے كارٹون اور متحرك اشكال ميں تصوير اور اشكال كى خرابى و فساد كم اور كئى قسم كى مصلحت اور فوائد پائے جائينگے، اور اگر يہ مسئلہ علماء كےمابين متفق عليہ ہوتا تو ہم اس كے جواز كا نہ كہتے، حتى كہ چاہے اس ميں كئى ايك مصلحت پائى جاتى ہيں ليكن جب اس ميں بچوں كے ليے ذى روح پر مشتمل گيمز مستثنى كا بيان ہوا، اور ہم نے اپنے علماء كو اس كے جواز كا كہتے ہوئے پايا تو ہم بھى اس كو جائز كہنے كے قول كى طرف مائل ہوئے .

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments