Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
9787

كيا بيوى جو كہ ام الاولاد ہے كو طلاق دى جا سكتى ہے ؟

ميں كچھ لوگوں سے سنا ہے كہ بچوں كى ماں كو طلاق دينا صحيح نہيں كيا يہ صحيح ہے، اور كيا كسى عالم دين كا بھى يہ قول ہے ؟

الحمد للہ:

يہ كلام صحيح نہيں بلكہ بكواس ہے، اور شريعت اسلاميہ ميں اس كى كوئى اصل نہيں، ميرے خيال جس نے بھى يہ فتوى ديا اور بات كى ہے نہ تو وہ عالم دين ہے اور نہ ہى وہ دينى طالب علم ہے، كيونكہ كوئى عالم دين اور دين كا طالب علم اس طرح كا باطل فتوى نہيں دے سكتا.

حالانكہ كتاب و سنت اور اجماع تو اس پر دلالت كرتا ہے كہ اگر كوئى شخص اپنى بيوى كو طہر كى حالت ميں جس ميں اس نے بيوى سے ہم بسترى نہ كى ہو، يا پھر حمل كى حالت ميں طلاق دے دے چاہے وہ چھوٹى عمر كى ہو يا پھر درميانى عمر كى يا بوڑھى تو اسے طلاق ہو جائيگى.

اللہ سبحانہ و تعالى نے حيض والي عورتوں كے بارہ ميں فرمايا:

{ اور طلاق والى عورتيں تين حيض تك انتظار كريرں }.

اور اللہ سبحانہ و تعالى نے حيض رك جانے والى عورتوں كے بارہ ميں فرمايا:

{ اور وہ عورتيں جو حيض سے نااميد ہو چكى ہيں تمہارى عورتوں سے اگر تمہيں شبہ ہو تو ان كى عدت تين مہينے ہے اور ان كى بھى جنہيں ابھى حيض آنا شروع ہى نہيں ہوا... }.

اور اس كے بعد اللہ سبحانہ و تعالى نے حاملہ عورتوں كى طلاق كى عدت كے مطلق فرمايا:

{ اور حاملہ عورتوں كى عدت ان كے وضع حمل ہيں ... }.

اور اگر تيسرى طلاق ہو تو بيوى اپنے خاوند سے بائن ہو جائيگى اور اس وقت تك حلال نہيں ہو گى جب تك وہ كسى دوسرے شخص سے نكاح نہيں كر ليتى.

اور اگر پہلى يا دوسرى طلاق ہے تو وہ دو گواہ بنا كر بيوى سے رجوع كر لے.

ابو داود نے سنن ابو داود ميں يزيد الرشك عن مطرف بن عبد اللہ كے طريق سے روايت كيا ہے كہ عبد اللہ بن عمران بن حصين سے ايك شخص كے متعلق دريافت كيا گيا جس نے اپنى بيوى كو طلاق دے دى اور پھر اس نے اپنى بيوى سے جماع كر ليا نہ تو اس نے طلاق پر گواہ بنائے اور نہ ہى رجوع كرتے وقت كوئى گواہ بنايا تو انہوں نے جواب ديا:

طلاق بھى سنت طريقہ كے خلاف ہوئى اور رجوع بھى سنت طريقہ كے خلاف ہوا، اس كى طلاق اور اس سے رجوع كرتے وقت گواہ بناؤ اور آئندہ ايسا مت كرنا.

الشيخ سليمان العلوان
Create Comments