Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
98154

رؤيت ہلال ميں عورت كى گواہى

كيا رؤيت ہلال ميں عورتوں كى گواہى قبول كى جا سكتى ہے ؟

الحمد للہ:

رمضان المبارك كى رؤيت ہلال ميں عورت كى گواہى قبول كرنے كے متعلق فقھاء كرام كا اختلاف ہے، اس ميں دو قول پائے جاتے ہيں:

پہلا قول:

عورت كى گواہى قبول كى جائيگى، احناف اور حنابلہ كا مسلك يہى ہے ( جبكہ آسمان ابر آلود ہو ) اور شافعيہ كے ہاں ايك وجہ ہے.

دوسرا قول:

عورت كى گواہى قبول نہيں ہو گى، مالكيہ كا مسلك يہى ہے، اور شافعيہ كے ہاں صحيح ترين بات يہ ہے كہ عورت كى گواہى قبول نہيں.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اگر رؤيت كى خبر دينے والى عورت ہو تو قياسى مذہب اس كے قول كو قبول كرنا ہے، امام ابو حنيفہ كا قول يہى ہے، اور اصحاب شافعى كے ہاں ايك وجہ ہے، اس ليے كہ يہ دينى خبر ہونے كى بنا پر روايت، اور جہت قبلہ كى خبر، اور نماز كا وقت ہونے كى خبر دينے كے مشابہ ہوا.

اور يہ بھى احتمال ہے كہ اس كى خبر قبول نہ كى جائے؛ كيونكہ يہ رؤيت ہلال كى گواہى ہے، تو شوال كے چاند كى طرح اس ميں عورت كى بات قبول نہيں كى جائيگى " انتہى.

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 3 / 48 ).

مزيد تفصيل كے ليے آپ درج ذيل كتب كا مطالعہ كريں:

تبيين الحقائق ( 1 / 319 ) التاج الاكليل ( 3 / 278 ) المجموع ( 6 / 286 ) كشاف القناع ( 2 / 304 ).

اور احناف نے آسمان ابر آلود ہونے اور صاف ہونے كى حالت ميں فرق كرتے ہوئے كہا ہے كہ: آسمان ابر آلود ہونے كى حالت ميں دو مردوں يا ايك مرد اور دو عورتوں كى گواہى قبول ہو گى، اور آسمان صاف ہونے كى حالت ميں كشادگى ضرورى ہے "

ديكھيں: البحر الرائق ( 2 / 290 ).

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" بعض علماء كا كہنا ہے: عورت كى گواہى قبول نہيں ہوگى، نہ تو رمضان كے متعلق اور نہ ہى دوسرے ميں، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں چاند ديكھنے والا شخص مرد تھا، اور اس ليے بھى كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تو اگر دو گواہى دينے والے گواہى ديں تو روزہ ركھ لو، اور روزہ ركھنا چھوڑ دو "

اور عورت كے ليے عربى ميں شاہد كى بجائے شاہدہ كے لفظ بولے جاتے ہيں.

اور مذہب كى دليل يہ ہے: كہ يہ ايك دينى خبر ہے، اس ميں مرد و عورت سب برابر ہيں، جس طرح حديث كى روايت ميں مرد و عورت اور دينى خبر كى روايت ميں مرد و عورت كا كوئى فرق نہيں، اور اسى ليے رمضان المبارك كى رؤيت كے ليے حكمران كے ہاں اس كے ثبوت كى شرط نہيں لگائى، اور نہ ہى گواہى كا لفظ، بلكہ ان كا كہنا ہے:

اگر كسى ثقہ اور معتمد شخص نے لوگوں كو مجلس ميں خبر دى كہ اس نے چاند ديكھا ہے تو اس كى خبر كى بنا پر روزہ ركھنا لازم ہے " انتہى.

ديكھيں: الشرح الممتع ( 6 / 326 ).

اور رہا شوال ( يعنى عيد الفطر ) كے چاند كے متعلق تو يہ دو مردوں كى گواہى كے بغير ثابت نہيں ہوتا.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments