98409: کم از کم کفن کی مقدار


سوال: مرد یا عورت کی تکفین کیلئے کم از کم کفن کی کیا مقدار ہے؟

الحمد للہ:

اول:

پہلے سوال نمبر: (98308) اور (98189) میں گزر چکا ہے کہ مرد کیلئے تین کپڑوں میں اور عورت کو پانچ کپڑوں میں کفن دینا افضل ہے۔

دوم:

جبکہ میت کو کفن دینے کیلئے کم از کم کفن کی مقدار جس سے تکفین کا فریضہ ادا ہوجائے وہ یہ ہے کہ ایک اتنا بڑا کپڑا ہو جس سے سارا جسم ڈھکا جاسکے، یہ موقف ابو حنیفہ، احمدکا ہے، جبکہ  امام مالک کی دو میں سے ایک روایت اسی کے موافق ہے۔
دیکھیں: "حاشيہ ابن عابدين" (3/98) ، "المغنی" (3/386) اور "مواہب الجليل" (2/266)

انہوں نے اس موقف کیلئے دلیل بخاری: (4047) اور مسلم : (940) کی روایت کو بنایا ہے، جسے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: "جب مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، تو انکو کفن دینے کیلئے صرف ایک چادر تھی، جب ہم انکا سر ڈھکتے تو پاؤں باہر ہوجاتے، اور جب پاؤں ڈھکتے تو سر ننگا ہو جاتا" تو ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: (چادر سے انکا سر ڈھک دو، اور پاؤں پر "اذخر " بوٹی  ڈال دو)

زیلعی کہتے ہیں کہ: "یہ اس بات کی دلیل ہے کہ میت کی صرف شرمگاہ ڈھانپنا کافی نہیں ہوگا"انتہی
"حاشيہ ابن عابدين" (3/98)

اور شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اور اگر میت کو مکمل طور پر ڈھک دینے والے لفافےمیں کفن دیا جائے تو یہ مرد و عورت کیلئے یکساں طور پر جائز ہے، اس معاملے میں وسعت  ہے"
"مجموع فتاوى ابن باز" (13/127)

اور شیخ بسّام "توضيح الأحكام" (2/39) میں کہتے ہیں کہ: "میت [کے کفن ]کیلئے مطلقاً طور پر یہ واجب ہے کہ ایک اتنا بڑا کپڑا ہو جس سے سارا بدن ڈھک جائے، چاہے میت چھوٹی ہو یا بڑی، مرد ہو یا عورت"

اور شافعی مذہب یہ ہے کہ: "کم از کم کفن کی مقدار یہ ہے کہ جس سے شرمگاہ ڈھکی جا سکے، جبکہ عورت کیلئے ہتھیلیوں اور چہرے کے علاوہ سارے جسم کو ڈھکنے والا کپڑا کم از کم کفن ہے، مالکی فقہائے کرام کے ہاں یہی دوسرا قول ہے"
دیکھیں: "المجموع" (5/162) ، "مواہب الجليل" (2/266)

اور اِنہوں نے بھی حدیث مصعب کو دلیل بنایا ہے۔

چنانچہ نووی رحمہ اللہ  کہتے ہیں:
"اگر پورے بدن کو ڈھانپنا لازمی ہوتا تو انکے ترکے یعنی اسلحہ وغیرہ کے بدلے میں کفن خریدتے، اور اگر ترکے کا مال نہ  ہو تو مسلمانوں کے بیت المال سےکرتے، اور اگر بیت المال بھی نہ ہو تو مسلمان اپنی طرف سے بندو بست کرتے"
"المجموع" (5/150-151)

امام نووی کی اس بات کا جواب یوں دیا جاسکتا ہے کہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم  اور آپکے صحابہ کرام کے پاس کوئی ایسی چیز تھی ہی نہیں جن میں شہدائے احد کو دفنایا جاتا، بلکہ [صورت حال یہ تھی کہ] دو شہداء کو ایک کپڑےمیں دفنایا جاتا تھا، جیسے کہ بخاری: (1343) میں جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ : "نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہدائے احد میں سے دو ، دو افراد کو ایک ہی کفن میں جمع فرماتے، اور پھر پوچھتے: (ان دونوں میں سے قرآن کس کو زیاد ہ یاد ہے؟) تو جب ان دونوں میں سے کسی کے بارے میں اشارہ کیا جاتا تو اسے قبر میں پہلے داخل فرماتے"
تو ایسی حالت میں کفن کہاں سے خریدتے، کیونکہ انکے پاس شہداء کو کفن دینے کیلئے کچھ تھا ہی نہیں!؟

اور اگر کفن اس سے بھی کم مقدار میں ہو ، اور اسکے علاوہ کوئی چیز نہ ہو جس سے میت کو ڈھانپا جا سکے تو پھر سر سے نیچے جہاں تک کفن پہنچے ڈھک دیا جائے گا، اور بقیہ  جسم پر اذخر، یا کوئی اور گھاس پھوس ڈال دیا جائے گا، اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے مصعب بن عمیر  کے متعلق فرمایا تھا: (کفن  سے انکا سر ڈھک دو، اور قدموں پر اذخر ڈال دو)متفق علیہ

شیخ ابن عثیمین  " الشرح الممتع" (5/225) میں فرماتے ہیں:
"اس بات کی دلیل کہ کفن دیتے ہوئے میت کے مکمل جسم کو ڈھانپنا واجب ہے، یہ ہے کہ: جن صحابہ کرام کیلئے کفن   کے کپڑے کم تھے انکے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم   نے سر سے تکفین شروع کرنے کا حکم دیا، کہ سر کوڈھک دیں، اورقدموں پر اذخر ڈال دیں" اذخر : [گھاس پھوس کی طرح ایک پودا ہے جو اہل حجاز] کے ہاں معروف ہے۔
اور اگر کوئی چیز بھی دستیاب نہ ہو، مثلاً: آگ میں جلنے کی وجہ سے اسکے کپڑے تک جل جائیں، اور اسکے علاوہ کوئی  کپڑا بھی میسر نہ ہو تو ایسی میت پر گھاس وغیرہ ڈال کر اسے کسی چیز  سے باندھ دیا جائے، اور اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو اسے ویسے ہی دفن کردیا جائے؛ کیونکہ فرمان باری تعالی : ( فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ) اپنی استطاعت کے مطابق اللہ [کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے] ڈرو۔ [التغابن: 16]" انتہی

واللہ اعلم.

اسلام سوال وجواب
Create Comments