Sat 19 Jm2 1435 - 19 April 2014
98533

مٹى كى پينٹنگ كى ناجائز اور جائز اقسام

ميں پينٹر ہوں، ان آخرى ايام ميں ميں نے مٹى كے ساتھ پينٹنگ شروع كر دى ہے، اسى طرح ميں نے كئى ايك اشخاص سے يہ بھى سنا ہے كہ مٹى كے ساتھ پينٹنگ كرنا حرام ہے، ليكن ميں بالكل اسى طرح تختيوں پر پينٹنگ بناتى ہوں جس طرح برش كے ساتھ خاكے بنائے جاتے ہيں، اور كيا مسجدوں يا گھروں كى شكلوں ميں مٹى سے پينٹنگ كرنى بھى شريعت ميں انسان اور پرندوں كى شكليں بنانے كى طرح ہى ہے ؟

الحمد للہ:

مٹى سے شكليں بنانا اور پينٹنگ كرنا بھى تصوير كى ايك قسم ہے، اس ميں جائز بھى ہے اور حرام بھى ہے، حرام يہ ہے جو ذى روح مثلا انسان يا جانوروں وغيرہ كى شكل ميں پينٹنگ كى گئى ہو؛ كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس كسى نے بھى دنيا ميں كوئى تصوير بنائى اسے روز قيامت اس تصوير ميں جان ڈالنے كا مكلف كيا جائےگا، اور وہ اس ميں روح نہيں ڈال سكےگا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2112 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2110 ).

اور جائز يہ ہے كہ جو كسى ذى روح كے علاوہ شكل اور منظر بنايا گيا ہو، تو مٹى كے ساتھ وہ پينٹنگ كرنى يعنى مسجد يا گھر يا درخت وغيرہ جس ميں روح نہ كى شكليں اور منظر بنانا جائز ہے.

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام كہتے ہيں:

" تصوير ميں حرمت كا دارومدار اس پر ہے كہ وہ ذى روح كى تصوير ہو، چاہے وہ تصوير كريد كر بنائى گئى ہو، يا پھر رنگ كى ساتھ، يا ديوار پر بنائى گئى ہو، يا كسى كپڑے پر، يا كسى كاغذ پر، يا كپڑے ميں بن كر بنى ہوئى ہو، چاہے وہ برش كے ساتھ بنى ہو، يا قلم كے ساتھ، يا كسى آلے اور مشين كے ساتھ، اور چاہے كسى چيز كى تصوير اس كى طبيعت اور حقيقت كے مطابق ہو، يا پھر اس ميں كوئى تبديلى اور تغير و تبدل كيا گيا ہو، يا اسے ميں كوئى خيالى تبديلى كر كے اسے چھوٹا يا بڑا كيا گيا ہو، يا اسے خوبصورت كر ديا گيا يا اسے بدصورت بنا ديا گيا ہو، يا وہ لائنيں لگا كر جسم كى ہڈيوں كا ہيكل بنايا گيا ہو، يہ سب برابر ہے.

تو حرمت كا دائرہ يہ ہوا كہ جو ذى روح كى تصوير بنائى گئى ہو وہ حرام ہے، چاہے وہ خيالى تصوير ہى ہو، جيسا كہ مثال كے طور پر قديم فراعنہ اور صليبى جنگوں كے قائدين اور فوجيوں كى خيالى تصاوير بنائى جاتى ہيں، اور اسى طرح عيسى عليہ السلام اور مريم عليہا السلام كى تصاوير اور مجسمے جو عيسائيوں كے گرجوں اور چرچوں ميں كھڑے كيے جاتے ہيں.. الخ.

يہ سب عمومى دلائل كى بنا پر حرام ہيں، كيونكہ اس ميں برابرى ہے، اور يہ شرك كا ذريعہ ہيں.

الشيخ عبد العزيز بن باز.

الشيخ عبد الرزاق عفيفى.

الشيخ عبد اللہ بن غديان.

الشيخ عبد اللہ بن قعود.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 1 / 696 ).

اسى طرح بدعى مقامات اور ان جگہوں كى مٹى وغيرہ سے تصاوير اور شكل بنانى بھى جائز نہيں جن كى لوگ ناحق تعظيم كرتے ہيں، مثلا چرچ اور قبور اور عبادت گاہيں، اور معصيت و گناہوں والى جگہيں مثلا بنك اور سينما اور تھيٹر وغيرہ.

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام كہتے ہيں:

" حرم نبوى اور حرم مكى كے فنى مجسمات بنانے جائز نہيں؛ كيونكہ ہو سكتا ہے وہاں موجود نمازيوں اور طواف كرنے والوں كى تصاوير پر مشتمل ہوں، اور مسجد نبوى ميں قرآن مجيد كى تلاوت كرنے والے اور دوسرے افراد كى تصاوير پر مشتمل ہوں.

اور اسى طرح مسجد نبوى كى تصوير كے ساتھ گنبد خضراء كى تصوير بنانا بھى جائز نہيں، كيونكہ يہ لوگوں كو قبے بنانے اور وہاں دفن لوگوں كا اعتقاد ركھنے كى طرف لے جائيگا، اور يہ چيز شرك اكبر كا باعث بنتا ہے، اور اس ليے بھى كہ اس ميں اور بھى كئى ايك خرابياں پائى جاتى ہيں، اللہ تعالى ہميں اس سے محفوظ ركھے "

الشيخ عبد العزيز بن باز.

الشيخ عبد الرزاق عفيفى.

الشيخ عبد اللہ بن غديان.

الشيخ عبد اللہ بن قعود.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 1 / 476 ).

اور پھر كتاب اللہ ميں بھى اس بات كى طرف اشارہ ملتا ہے كہ مٹى سے ذى روح كى شكليں اور مجسمے بنانے حرام ہيں، اور وہ درج ذيل فرمان بارى تعالى ميں ہے:

{ جب اللہ تعالى كہےگا اے عيسى بن مريم تم اپنے اور اپنى والدہ كے اوپر ميرى نعتوں كو ياد كرو، كہ جب ميں نے تجھے روح القدس كے ساتھ عطا كى تھى تو گود ميں بھى اور بوڑھا ہو كر بھى لوگوں سے باتيں كرتا تھا، اور جب ميں نے تجھے كتاب و حكمت اور توراۃ و انجيل سكھائى تھى، اور جب تو مٹى سے پرندوں كى شكليں ميرے حكم سے بناتا، اور پھر اس ميں پھونك مارتا تو وہ ميرے حكم سے پرندہ بن جاتا تھا، اور تم مادر زاد اندھے اور برص كے مريض كو ميرے حكم سے شفاياب كرتا تھا، اور جب تو ميرے حكم سے مردوں كو زندہ كرتا تھا }المآئدۃ ( 110 ).

اور جو اس آيت پر غور كريگا تو وہ " {اور جب تو ميرے حكم سے مٹى سے پرندے كى شكل بناتا }.

اسے معلوم ہو گا كہ اس ميں مٹى سے پرندے كى شكل بنانے كى واضح حرمت كا اشارہ موجود ہے ـ اور اسى طرح ہر ذى روح كى شكل بنانا بھى ـ اور يہ كہ عيسى عليہ السلام نے جو كچھ كيا وہ اللہ تعالى كے حكم سے تھا، تو اسے بنانا، اور اس ميں پھونك مارنا يہ دونوں كام اللہ كے حكم سے تھے، اور اللہ تعالى كا فرمان { ميرے حكم سے }

ممانعت پر دلالت كرتا ہے، حتى كہ عيسى عليہ السلام كى شريعت ميں بھى ممانعت پر دلالت كر رہا ہے.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ مسيح عليہ السلام كى عبوديت كى وجوہات اور يہ كہ وہ مخلوق تھے خالق نہيں كو بيان كرتے ہوئے كہتے ہيں:

" دوسرى وجہ:

انہوں نے مٹى سے پرندے كى شكل بنائى، اس سے مراد يہ ہے كہ: انہوں نے پرندے كى تصوير جيسى ايك تصوير اور شكل بنائى، اور عام لوگ بھى اسے بنانے پر قادر ہيں، كيونكہ كسى ايك كے ليے بھى پرندے جيسى شكل كا مجسمہ بنانا ممكن ہے، اور اسى طرح دوسرے جانوروں كا مجسمے اور تصوير بنانا بھى ہر كسى كے ليے ممكن ہے، ليكن يہ تصوير بنانى حرام ہے، ليكن مسيح عليہ السلام نے جو تصوير بنائى تھى اس كے خلاف كيونكہ وہ تصوير اور مجسمہ اور شكل تو انہوں نے اللہ تعالى كے حكم سے بنائى تھى، اور اللہ تعالى نے انہيں اجازت دى تھى، اور يہ معجزہ تھا كہ وہ پرندے كى اس شكل اور مجسمے ميں پھونك مارتے تو اللہ تعالى كے حكم سے وہ پرندہ بن كر اڑ جاتا، يہ معجزہ نہيں كہ مٹى سے پرندے كى شكل بنانا؛ بلكہ معجزہ اس ميں جان ڈالنى تھى، كيونكہ پرندے كى شكل اور مجسمہ بنانا تو سب كے ليے مشترك ہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مصوروں پر لعنت كرتے ہوئے فرمايا:

" يقينا روز قيامت سب سے زيادہ شديد عذاب مصوروں كو ہو گا "

تيسرى وجہ:

اللہ سبحانہ و تعالى نے مسيح عليہ السلام كو خبر دى كہ انہوں نے تصوير بنائى اور اس ميں پھونك اللہ كے حكم سے مارى، اور يہ بھى خبر دى ہے كہ انہوں نے يہ كام اللہ كے حكم سے كيا، اور اللہ سبحانہ و تعالى نے يہ بتايا ہے كہ يہ ان نعمتوں ميں سے ايك نعمت ہے جو مسيح عليہ السلام پر اللہ تعالى نے كى تھيں، جيسا كہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ وہ تو ہمارا ايك بندہ ہے جس پر ہم نے نعمتيں كيں اور اسے ہم نے بنى اسرائيل كے ليے مثال بنايا }.

ديكھيں: الجواب الصحيح ( 4 / 46 - 47 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments