Sun 20 Jm2 1435 - 20 April 2014
9943

قسم كے كفارہ كى مقدار اور نقدى كى صورت ميں ادا كرنے كا حكم

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:
﴿ اللہ تعالى تمہارى قسموں ميں لغو قسم پر تمہارا مؤاخذہ نہيں كرتا، ليكن اس پر مؤاخذہ فرماتا ہے كہ تم جن قسموں كو مضبوط كردو، اس كا كفارہ دس محتاجوں كو كھانا دينا ہے اوسط درجے كا جو اپنے گھروالوں كو كھلاتے ہو يا ان كو كپڑا دينا، يا ايك غلام يا لونڈى آزاد كرنا، ہے، اور جو كوئى نہ پائے تو وہ تين دن كے روزے ركھے، يہ تمہارى قسموں كا كفارہ ہے جب كہ تم قسم كھا لو، اور اپنى قسموں كا خيال ركھو! اسى طرح اللہ تعالى تمہارے واسطے اپنے احكام بيان فرماتا ہے تا كہ تم شكر كرو ﴾المآئدۃ ( 89 ).
مندرجہ بالا آيت كے معنى كے متعلق ميرے كچھ اشكالات ہيں، جو درج ذيل ہيں:
1 - دس مسكينوں كو كھانا دينا، اس كا معنى يہ ہے كہ ميں ہر مسكين كو اتنا ہى كھانا دوں جو اپنے خاندان كے سب افراد كو ديتا ہوں جن كى عيالت ميرے ذمہ ہے، يا كہ ميرے خاندان كے ايك فرد كے ايك وقت كا كھانا يا ايك دن كا كھانا دوں؟
2 - كيا كھانے كى قيمت نقدى كى صورت ميں ادا كى جاسكتى ہے يا نہيں ؟

الحمد للہ :

كھانا دينے ميں واجب ہے كہ علاقے كى غذاكھجور، يا گندم، وغيرہ اشياء كا نصف صاع جس كى مقدار ڈيڑھ كلو چاول بنتى ہے ديا جائے.

مزيد تفصيل كے ليے سوال نمبر ( 9985 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

رہا مسئلہ غلہ كے بدلے نقدى ادا كرنے كا، تو اس ميں صحيح يہى ہے كہ كفارہ كى قيمت ادا كرنے سے كفارہ ادا نہيں ہوگا، جمہور علماء كرام كا يہى مسلك ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى اپنى مايہ ناز كتاب" المغنى " ميں رقمطراز ہيں:

" غلہ قيمت كفارہ ميں كفائت نہيں كرتى، اور نہ ہى لباس كى قيمت، كيونكہ اللہ تعالى نے غلہ ذكر كيا ہے لہذا اس كے بغير كفارہ ادا نہيں ہو سكتا، اور اس ليے بھى كہ اللہ تعالى نے تين اشياء كے مابين اختيار ديا ہے اور اگر اس كى قيمت دينا جائز ہوتى تو يہ اختيار ان تين اشياء ميں منحصر نہ ہوتا... " انتہى.

المغنى لابن قدمۃ المقدسى ( 11 / 256 ).

مزيد تفصيل كے ليے ديكھيں: فتاوى اسلاميۃ ( 3 / 464 )، اور كتاب الايمان والنذور تاليف محمد عبد القادر ( 87 ).

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments