9945: وضوء ٹوٹے بغير دوبارہ وضوء كرنا واجب نہيں


ميں وضوء كے متعلق صحيح حكم معلوم كرنا چاہتا ہوں، بعض لوگ كہتے ہيں كہ اگر پہلا وضوء نہ ٹوٹےمثلا اس كى ہوا وغيرہ خارج نہ ہو تو مسلمان شخص كے ليے نماز كے وقت وضوء كرنا واجب نہيں، كيا يہ صحيح ہے اور كيا مسلمان شخص كو ہر نماز كے ليے وضوء كرنا چاہيے ؟

الحمد للہ:

نماز اركان اسلام كے اركان ميں سے ہے، اس كے بغير انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے، اور پھر نماز كے صحيح ہونے كے ليے بھى كچھ شروط ہيں ان شروط كے بغير نماز كى ادائيگى صحيح نہيں، ان شروط ميں حدث اكبر اور اصغر سے طہارت و پاكيزگى اختيار كرنا بھى شامل ہے.

حدث اصغر تو وضوء كے ساتھ دور ہو جاتا ہے، چنانچہ بندے كو ہر نماز كے وضوء باوضوء اور طاہر ہونا چاہيے.

اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اے ايمان والو جب تم نماز كے ليے كھڑے ہوؤ تو اپنے چہرے اور كہنيوں تك ہاتھ دھو ليا كرو، اور اپنے سروں كا مسح كرو، اور دونوں پاؤں ٹخنوں تك دھويا كرو، اور اگر تم جنابت كى حالت ميں ہو تو پھر طہارت كرو اور اگر تم مريض ہو يا سفر ميں يا تم ميں سے كوئى ايك پاخانہ كرے يا پھر بيوى سے جماع كرے اور تمہيں پانى نہ ملے تو پاكيزہ مٹى سے تيمم كرو اور اس سے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح كرلو، اللہ تعالى تم پر كوئى تنگى نہيں كرنا چاہتا، ليكن تمہيں پاك كرنا چاہتا ہے، اور تم پر اپنى نعمتيں مكمل كرنى چاہتا ہے، تا كہ تم شكر كرو ﴾المآئدۃ ( 6 ).

اور اگر انسان كا وضوء قائم ہے اور كسى ناقض وضوء ( پيشاب يا پاخانہ اور ہوا يا مذى وغيرہ خارج نہيں ہوئى، يا نيند كى بنا پر يا پھر اونٹ كا گوشت كھانے سے ) كى بنا پر اس كا وضوء نہيں ٹوٹا تو اس وقت اس كے ليے دوبارہ وضوء كرنا ضرورى نہيں.

كيونكہ فتح مكہ كے روز نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايك ہى وضوء كے ساتھ پانچوں نمازيں ادا كى تھيں.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments