99645: بيوى نے خاوند پر چھرى اٹھائى اور اسے دھمكى دى كہ وہ طلاق دے تو كيا طلاق واقع ہو جائيگى


ايك بار ميرا بيوى كے ساتھ جھگڑا ہوا تو بيوى نے چھرى اٹھائى اور مجھے دھمكى دى تا كہ ميں طلاق دوں تو ميں نے اسے كہا " تجھے طلاق " ليكن ميرى نيت ميں طلاق نہيں تھى كيا اس سے طلاق واقع ہو جائيگى يا نہيں ؟

الحمد للہ:

اگر آپ كو خدشہ ہوا كہ بيوى اپنى دھمكى پر عمل كر بيٹھےگى اور آپ كو چھرى مار ديگى تو آپ مجبور اور مكرہ كے حكم ميں ہيں اس ليے طلاق واقع نہيں ہوگى.

ابن قيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" صحابہ كرام كا فتوى ہے كہ مكرہ شخص يعنى مجبور كردہ شخص كى طلاق واقع نہيں ہوتى.

عمر رضى اللہ تعالى عنہ سے صحيح ثابت ہے كہ ايك شخص نے پہاڑ سے شہد نكالنے كے ليے رسى لٹكائى، تو اس كى بيوى آ كر كہنے لگى: مجھے طلاق دو وگرنہ ميں رسى كاٹ رہى ہوں، اس شخص نے اسے اللہ كا واسطہ ديا، ليكن بيوى نے ماننے سے انكار كر ديا، چنانچہ وہ شخص عمر رضى اللہ تعالى عنہ كے پاس آيا اور يہ واقعہ ذكر كيا، تو عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے فرمايا:

" جاؤ اپنى بيوى كے پاس واپس چلے جاؤ، كيونكہ يہ طلاق نہيں ہے "

اور پھر على اور ابن عمر اور ابن زبير رضى اللہ تعالى عنہم سے بھى عدم وقوع بيان كيا گيا ہے " انتہى

ديكھيں: زاد المعاد ( 5 / 208 ).

اور ابن قيم رحمہ اللہ كا يہ بھى كہنا ہے:

امام احمد رحمہ اللہ كا ابى الحارث كى روايت ميں قول ہے:

جب مكرہ يعنى مجبور كر ديا گيا شخص طلاق دے تو اس پر طلاق لازم نہيں كى جائيگى، جب اس كے ساتھ كيا جائے جيسا كہ ثابت بن احنف كے ساتھ كيا گيا تھا تو وہ مكرہ كہلائيگا، كيونكہ ثابت كى ٹانگوں كو اتنا دبايا گيا كہ اس نے بيوى كو طلاق دے دى تو وہ ابن عمر اور ابن زبير كے پاس آئے تو دونوں نے اسے كچھ شمار نہ كيا.

اور اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان بھى اسى طرح ہے:

{ مگر وہ جس كو مجبور كر ديا گيا ہو ليكن اس كا دل ايمان پر مطمئن ہو }النحل ( 106 ).

اور سنن ابن ماجہ ميں ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے مروى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" يقينا اللہ سبحانہ و تعالى نے ميرى امت سے خطا و نسيان اور جس پر انہيں مجبور كر ديا گيا ہو معاف كر ديا ہے " انتہى

ديكھيں: اعلام الموقعين ( 4 / 51 ) كچھ كمى و بيشى كے ساتھ.

اور " الاختيارات " ميں شيخ الاسلام كا كہنا ہے:

" مكرہ يعنى مجبور كر ديے گئے شخص كى طلاق واقع نہيں ہوگى، جبر يا تو دھمكى سے ہوگا يا پھر غالب گمان ہو كہ وہ اس كى جان يا اس كے مال كو نقصان دےگا.

اور ايك دوسرى جگہ كہتے ہيں:

اس كے گمان پر غالب ہونا كہ وہ اپنى دھمكى پر عمل كريگا يہ كوئى اچھا، بلكہ صحيح يہ ہے كہ اگر دونوں طرف برابر ہوں تو بھى جبر اور اكراہ ہوگا " انتہى

ديكھيں: الفتاوى الكبرى ( 5 / 568 ).

ہم نے جو يہاں بيان كيا ہے وہ مسئلہ كے كا حكم اور اس كا ضابطہ بيان كرنے كے ليے ہے، رہا آپ كے معاملہ كے متعلق حكم تو اس كے ليے اس معاملہ كى تفصيل معلوم كرنا ضرورى ہے، اس ليے ہم يہ كہيں گے كہ آپ دونوں شرعى عدالت يا پھر اپنے ملك ميں كسى ثقہ عالم دين سے رجوع كريں، تا كہ اكراہ و جبر كا ہونا يا نہ ہونا ثابت كيا جا سكے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments