Fri 18 Jm2 1435 - 18 April 2014
 

تعدد زوجات اوران کے درمیان عدل


1 بيويوں كے مابين عدل اور ايك سے زائد بيويوں والے خاوند كے بعض سفرى احكام.
102446
2 عورت کا تعدد سے کراہت کرنے کا حکم.
10991
3 پہلی بیوی کی باری والے دن دوسری بیوی کے بچوں کوپڑھانے کا حکم.
4031
4 دونوں بیویوں کے خرچہ میں فرق ، اوربیوی کی پہلی پراولاد پر خرچ کرنا.
8416
5 شادى مسيار اور خاوند كا ايك سے زائد شادياں كرنے پر بيوى كا صبر كرنے كا اجروثواب.
97642
6 قانون دوسرى شادى كى اجازت نہيں ديتا ليكن خاوند عورت كے والد كى بجائے بھائى كى اجازت سے دوسرى شادى كرنا چاہتا ہے!.
98354
7 دوبیویوں سے شادی شدہ شخص کاروبار نہيں کرتا توکیا ان میں سے ایک کوطلاق دے دے.
10035
8 كيا بيويوں كو ہديہ دينے اور وطئ ميں بھى عدل كرنا واجب ہے ؟.
13268
9 بچے کی پیدائش پرایک بیوی کوھدیہ دینا.
1748
10 اگرخاونددوسری شادی کرنا چاہے توکیا دوسری بیوی گنہگار ہوگي.
26318
11 دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی رضامندی شرط نہيں.
12544
12 کیا عید والے دن بیویوں کی تقسیم اورباری روکنی جائز ہے.
12031
13 سوکن اس کے ساتھ بدکلامی کرتی ہے اوراسے سلام بھی نہیں کرتی.
11785
14 تعدد کی شروط کیا ہیں.
12523
15 تعدد کے لیے پہلی بیوی کی اجازت کے بارہ میں کوئي حدیث واد نہیں.
9479
16 بیوی اپنے نان ونفقہ کے حق کوچھوڑدے توکیا دوسری شادی سے قبل اسے راضی کرنا ضروری ہے.
13702
17 دونوں بیویوں کے مابین عدل کی ابتدا کیسے کرے.
22218
18 وہ اپنی دونوں بیویوں کے درمیان تقسیم میں عدل نہیں کرتا.
13740
19 تعدد زوجات کا حکم اوراس کی حکمت.
14022
20 خاوند سے اپنی سوکن کو طلاق دینے کا مطالبہ.
14021
Go to page: