13465: كيا فاسق كى امامت صحيح ہے ؟


ميں ايك ملك ميں بنك ملازم ہوں، اور عام طور پر ہم عصر اور مغرب كى نماز باجماعت ادا كرتے ہيں، نمازى مجھے امامت كروانے كا كہتے ہيں، ميں ايك عام سا آدمى ہوں، اور محسوس كرتا ہوں كہ ميں امامت كا مستحق نہيں، كيونكہ ميرے پيچھے نمازيوں ميں كئى ايك مجھ سے بھى بڑے آدمى ہيں حقيقت يہ ہے كہ نماز كے ليے جمع ہوں تو ہم ميں سے ہر شخص جماعت كروانے سے شرماتا ہے، اور ہميشہ يہى ہوتا ہے كہ مجھے امام بننا پڑتا ہے.
ميں جانتا ہوں كہ ميں ميں نے پچيس برس ميں اتنے گناہ كيے ہيں جن كا شمار ہى نہيں، ليكن ميں ايك چيز كا ايمان ركھتا ہوں كہ اللہ تعالى كہتا ہے كہ انفرادى نماز ادا كرنے سے نماز باجماعت ادا كرنا افضل ہے، يہى ايك سبب ہے جس كى بنا پر ميں امامت قبول كرتا ہوں، ميں يہ بھى بتانا چاہتا ہوں كہ ميں داڑھى منڈا شخص ہوں ؟

الحمد للہ:

يہ مسئلہ فاسق شخص كے پيچھے نماز ادا كرنے كا ہے، اور فاسق وہ ہے جو كبيرہ گناہ كا مرتكب ہونے كى بنا پر اللہ تعالى كى اطاعت سے نكل جائے يا پھر صغيرہ گناہ پر اصرار كرے.

آپ كے سوال ميں جو كچھ بيان ہوا ہے اس كے مطابق آپ بعض كبيرہ گناہ كے مرتكب ہيں، ايك تو بنك كى ملازمت، اور دوسرا داڑھى منڈانا يہ دونوں شريعت كے ميزان ميں كبيرہ گناہ ہيں.

بنك ملازمت كے متعلق يہ ہے كہ:

جابر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے سود خور، اور سود كھلانے اور سود لكھنے، اور اس كے دونوں گواہوں پر لعنت كى اور فرمايا كہ يہ سب برابر ہيں "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1598 ).

اور سمرہ بن جندب رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ميں نے رات ديكھا كہ ميرے پاس دو شخص آئے اور مجھے ارض مقدس كى طرف لے گئے، ہم چلے حتى كہ ايك خون كى نہر كے پاس پہنچے جس ميں شخص كھڑا تھا، اور اس كے كنارے ايك شخص تھا جس كے سامنے پتھر ركھے تھے، جو شخص نہر ميں تھا وہ جب باہر نكلنے كا ارادہ كرتا تو باہر والا شخص اسے پتھر مارتا حتى كہ اسے وہيں واپس بھيج ديتا جہاں وہ تھا، چنانچہ وہ جب بھى نہر سے نكلنے كا ارادہ كرتا وہ اس كے مونہہ پر پتھر دے مارتا تو وہ واپس پلٹ جاتا.

چنانچہ ميں نے دريافت كيا كہ يہ كون شخص ہے ؟ تو اس نے جواب ديا آپ جسے نہر ميں ديكھا تھا وہ سود خور تھا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2085 ).

مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 21113 ) اور ( 21166 ) ديكھيں.

رہا مسئلہ داڑھى منڈانے كا تو اس كے متعلق عرض ہے:

ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" مشركوں كى مخالفت كرو، مونچھيں كٹواؤ اور داڑھى بڑھاؤ "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5892 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 601 ).

شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

داڑھى وہ ہے جو دونوں رخساروں اور ٹھوڑى پر اگے، جيسا كہ صاحب قاموس نے وضاحت كى ہے، چنانچہ دونوں رخساروں اور ٹھوڑى پر اگے ہوئے بالوں كو چھوڑنا اور انہيں نہ منڈانا اور نہ ہى كٹوانا واجب ہے.

اللہ تعالى سب مسلمانوں كے حال كى اصلاح فرمائے.

ديكھيں: فتاوى اسلاميۃ ( 2 / 325 ).

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

داڑھى كى حد جيسا كہ اہل لغت ذكر كرتے ہيں يہ چہرے اور دونوں جبڑوں اور رخساروں كے بال ہيں، دوسروں معنوں ميں اس طرح كہ جو بال رخساروں اور جبڑوں اور ٹھوڑى پر ہيں وہ داڑھى ميں شامل ہيں، ان بالوں ميں سے كوئى بال بھى كٹوانا يا منڈوانا معصيت اور نافرمانى ہے.

كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" داڑھى بڑھاؤ " اور " داڑھى كو معاف كردو "

يہ اس بات كى دليل ہے كہ اس ميں سے كچھ بھى كٹوانا جائز نہيں، ليكن معصيت و نافرمانى چھوٹى بڑى ہوتى ہيں، چنانچہ داڑى كو منڈوانا داڑھى ميں سے كچھ حصہ كٹوانے سے زيادہ عظيم گناہ ہے، كيونكہ يہ داڑھى كٹوانے والے سے زيادہ واضح اور عظيم مخالفت ہے.

ديكھيں: فتاوى ھامۃ صفحہ نمبر ( 36 ).

مزيد تفصيل كے آپ سوال نمبر ( 8196 ) كے جواب كا بھى مطالعہ كريں.

اور قسق كا اظہار كرنے والے فاسق شخص كے پيچھے نماز ادا كرنے كے مسئلہ ميں علماء كرام كا اختلاف پايا جاتا ہے، اس ميں دو قول ہيں:

پہلا قول:

فاسق شخص كے پيچھے نماز نہيں ہوتى.

امام احمد، امام مالك كى ايك روايت ميں يہى مسلك ہے.

شيخ مصطفى الرحيبانى كہتے ہيں:

( فصل ) مطلقا فاسق كى امامت صحيح نہيں:

يعنى چاہے اس كا فسق اعتقادى ہو يا حرام افعال ميں، چاہے وہ مستور ہى ہو كيونكہ فرمان بارى تعالى ہے:

﴿ آيا جو مومن ہو كيا وہ فاسق كى طرح ہو سكتا ہے، يہ دونوں برابر نہيں ﴾.

ديكھيں: مطالب اولى النھى ( 1 / 653 ).

شيخ الاسلام رحمہ اللہ كہتے ہيں:

فاسق كے پيچھے نماز ادا كرنے كى كراہت پر آئمہ كرام كا اتفاق ہے ليكن اس ميں اختلاف ہے كہ آيا يہ صحيح ہے يا نہيں ؟

ايك قول يہ ہے كہ: صحيح نہيں، جيسا كہ امام مالك اور امام احمد كى ايك روايت ميں ہے.

اور ايك قول يہ ہے كہ: بلكہ صحيح ہے، جيسا كہ امام ابو حنيفہ امام شافعى كا قول اور ان دونوں سے دوسرى روايت ہے، اور اس ميں كوئى تنازع اور اختلاف نہيں كہ اسے امامت كا منصب نہيں دينا چاہيے.

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 23 / 358 ).

دوسرا قول:

فاسق كے پيچھے نماز ادا كرنا صحيح ہے، چاہے وہ اپنا فسق ظاہر ہى كرتا ہو، يہى قول صحيح ہے، اور شيخ محمد ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى نے بھى يہى قول اختيار كيا ہے، اس قول كى دليل درج ذيل ہے:

اول:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا عمومى فرمان ہے:

" قوم كى امامت كتاب اللہ كا سب سے زيادہ حافظ و قارى كروائے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 673 ).

دوم:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا ظالم اماموں كے متعلق خاص فرمان جو نماز كو وقت سے ليٹ كر ادا كريں:

فرمان نبوى ہے:

" تم نماز وقت پر ادا كرلو، اور اگر ان كے ساتھ نماز پالو تو ان كے ساتھ بھى نماز ادا كرو كيونكہ يہ تمہارے ليے نفل ہو گى "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 648 ).

اور بخارى كى روايت ميں ہے:

" وہ تمہيں نماز پڑھائيں گے اگر تو صحيح پڑھائيں تو تمہارے اوران كے ليے ہے، اور اگر غلط كريں تو تمہارے ليے اور ( اس كا وبال ) ان پر ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 694 ).

سوم:

صحابہ كرام جن ميں ابن عمر رضى اللہ تعالى شامل ہيں حجاج بن يوسف كے پيچھے نماز ادا كرتے تھے، حالانكہ ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما لوگوں ميں سب سے زيادہ سنت پر عمل كرنے اور اس كى احتياط كرنے والے تھے، اور حجاج كے متعلق معروف تھا كہ وہ اللہ كے بندوں ميں سب سے زيادہ فاسق ہے.

اور يہ بھى كہا جاتا ہے كہ:

ہر وہ شخص جس كى نماز صحيح ہے اس كى امامت بھى صحيح ہو گى نماز كى صحت اور امامت كے صحيح ہونے ميں تفريق كرنے كى كوئى دليل نہيں، كيونكہ اگر وہ معصيت كا مرتكب ہوتا ہے تو اس كى معصيت اس كے ليے ہى ہے، يہ نظرى دليل ہے"

ديكھيں: الشرح الممتع لابن عثيمين ( 4 / 304 ).

آپ يہ علم ميں ركھيں نماز كى امامت كروانے ميں اجر عظيم حاصل ہوتا ہے، اور اس منصب كا شرف بہت بڑا ہے، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا ہے كہ قرآن مجيد كا سب سے زيادہ حافظ و قارى ہى اس منصب كے ليے مقدم كيا جائيگا ( تفصيل كے ليے سوال نمبر ( 1875 ) كا جواب ديكھيں ) اس بنا پر اگر آپ كے علاوہ كوئى اور شخص قرآن مجيد كا زيادہ حافظ ہے تو اسے آگے كيا جائے، اور اگر آپ كے علاوہ كوئى اور نہيں تو پھر آپ كے ليے لوگوں كى جماعت كروانے ميں كوئى حرج نہيں، چاہے آپ گنہگار ہى ہيں، اس كى دليل مندرجہ بالا دلائل ہيں.

آخر ميں ہم آپ كو نصيحت كرتے ہيں كہ مسلمان بھائى اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرو، اور اللہ تعالى كى معصيت و نافرمانى كر كے اللہ كے خلاف جنگ كرنے سےدور رہو، اور جتنى جلدى ہو سكے آپ توبہ كر ليں قبل اس كے كہ آپ كو موت آ جائےاور پھر آپ ندامت كا اظہار كرنے لگيں جبكہ اس وقت ندامت بھى فائدہ مند نہ ہو گى.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments