50120: آيت


درج ذيل فرمان بارى تعالى كا معنى كيا ہے:
﴿ اور سياہ دھاگے سے فجر كا سفيد دھاگہ ظاہر ہونے تك كھاتے پيتے رہو ﴾. ؟

الحمد للہ:

فرمان بارى تعالى ہے:

﴿ تمہارے ليے رمضان كى راتوں ميں اپنى بيويوں سے صحبت كرنا حلال كر ديا گيا ہے، وہ تمہارے ليے لباس ہيں اور تم ان كے ليے لباس ہو، اللہ تعالى نے جان ليا ہے كہ تم اپنے نفسوں كى خيانت كرتے ہو، چنانچہ اس نے تمہارى طرف توجہ كرتے ہوئے تمہيں معاف كر ديا، لہذا تم اب ان سے مباشرت كرو اور جو كچھ اللہ نے لكھ ديا ہے اسے تلاش كرو، اور رات كے سياہ دھاگے سے فجر كا سفيد دھاگہ ظاہر ہونے تك كھاتے پيتے رہو، پھر تم رات تك روزہ پورا كرو ﴾ البقرۃ ( 187 ).

اس كا معنى يہ ہے كہ اللہ تعالى نے روزے دار كے ليے طلوع فجر كا يقين ہونے تك كھانا پينا مباح كيا ہے.

اور آيت ميں سفيد دھاگے سے دن اور سياہ دھاگے سے رات مراد ہے.

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

آيت كا معنى يہ ہے كہ: رات كى سياہى سے دن كى سفيدى ظاہر ہو جائے اور يہ تبيين اور ظہور فجر صادق كے وقت ہو جاتا ہے.

قولہ: ﴿ فجر سے ﴾ يہ سفيد دھاگہ ( خيط الابيض ) كا بيان ہے، اور سياہ دھاگے كا بيان اس ليے رہنے ديا ہے كہ دونوں ميں ايك كو بيان كرنا دوسرے كے ليے كافى ہے. اھـ

اور بعض صحابہ كرام رضى اللہ تعالى عنہ اس آيت سے مخالف معنى سمجھ بيٹھے انہوں نے اس سے مراد حقيقى دھاگہ ليا، چنانچہ ايك صحابى كے متعلق آتا ہے كہ اس نے اپنے تكيہ كے نيچے يا اپنے پاؤں كے ساتھ سفيد اور سياہ دھاگہ باندھ ليا اور ان ميں سے ايك كے ظاہر ہونے تك كھاتے پيتے رہے، اس غلطى كا سبب آيت ميں " من الفجر " كے الفاظ نہيں تھے، تو بعض صحابہ اس سے وہى معنى سمجھ بيٹھے جس كى طرف فورى طور پر ذہن جاتا ہے كہ دھاگہ سے مراد دھاگہ ہى ہے تو پھر اللہ تعالى نے " من الفجر " فجر سے كے الفاظ كچھ مدت بعد نازل فرما ديے، اور بعض علماء كرام كا كہنا ہے كہ: يہ مدت ايك برس ہے، تو پھر اللہ تعالى نے " من الفجر " كے الفاظ نازل فرمائے، تو صحابہ كرام كو علم ہوا كہ سفيد دھاگہ سے مراد دن اور سياہ دھاگہ سے مراد رات ہے.

بخارى اور مسلم ميں سھل بن سعد رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ جب يہ آيت:

﴿ سياہ دھاگے سے سفيد دھاگہ ظاہر ہونے تك كھاتے پيتے رہو ﴾. اس ميں" من الفجر " ﴿ فجر سے ﴾ ابھى يہ الفاظ نازل نہيں ہوئے تھے، تو لوگ جب روزہ ركھنا چاہتے تو ان ميں سے ايك شخص نے اپنى ٹانگ كے ساتھ سفيد اور سياہ دھاگہ باندھ ليا، اور ان دونوں كو اچھى طرح ديكھے جانے تك كھاتا پيتا رہا، تو اللہ تعالى نے بعد ميں " من الفجر " فجر سے كے الفاظ نازل فرما ديے، تو پھر انہيں علم ہوا كہ اس سے مراد رات اور دن ہيں "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1917 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1091)

ان صحابہ كرام نے دھاگہ اپنے ظاہرى معنى ميں ليا، اور جب " من الفجر " كے الفاظ نازل ہوئے تو انہيں اس كى مراد سمجھ آئى.

اور عدى بن حاتم رضى اللہ تعالى عنہ بھى اس آيت سے وہى سمجھے جو دوسرے صحابہ سمجھے تھے حتى كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں سمجھايا كہ اس سے مراد وہ نہيں جو آپ سمجھ رہے ہيں بلكہ دن اور رات مراد ہيں.

صحيح بخارى ميں عدى بن حاتم رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے كہ جب آيت:

" حتى كہ سياہ دھاگے سے سفيد دھاگہ واضح ہو جائے " نازل ہوئى تو ميں نے سفيد اور سياہ عقال ( اونٹ كا گھٹنہ باندھنے والى رسى ) لے كر اپنے تكيہ كے نيچے ركھ ليا اور اسے ديكھنے لگا ليكن مجھے وہ واضح نظر نہ آيا چنانچہ ميں صبح رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس گيا اور اس كا ذكر آپ سے كيا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اس سے تو رات كى سياہى اور صبح كى سفيدى مراد ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1916 ).

اور بخارى كى ايك روايت ميں يہ الفاظ ہيں:

" تم بہت عريض ہو "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 4510 ).

اور ايك روايت ميں يہ الفاظ ہيں:

" پھر تو آپ كو تكيہ بہت وسيع و عريض ہے، كہ سفيد اور سياہ دھاگہ آپ كے تكيہ كے نيچے تھے"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 4509 ).

اور ايك روايت كے الفاظ يہ ہيں:

" يقينا تم بہت عريض اور چوڑى گدى كے مالك ہو "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 4510 ).

عدى رضى اللہ تعالى عنہ كا واقعہ " من الفجر " نازل ہونے كے بعد كا ہے، يعنى سابقہ سھل والى حديث كے بعد كا.

بعض علماء كرام نے عدى رضى اللہ تعالى عنہ كى غلطى اور خطاء كا عذر يہ پيش كيا ہے كہ عدى رضى اللہ تعالى عنہ كو سھل رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث كا علم نہ تھا، يا پھر ان كى قوم كى لغت ميں سياہ اور سفيد دھاگہ رات اور دن پر نہيں بولا جاتا تھا.

اسى ليے ابن حبان رحمہ اللہ نے عدى بن حاتم رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث كا عنوان " عرب كى لغت كا ايك دوسرے سے فرق ہونے كا بيان " ركھا ہے، اور اس سے اس بات كى طرف اشارہ كيا ہے كہ عدى رضى اللہ تعالى عنہ كى زبان ميں رات كى سياہى اور دن كى سفيدى كو سياہ اور سفيد دھاگے سے مراد نہيں ليا جاتا تھا.

قرطبى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

عدى رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث سھل رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث سے بعد كى ہے، گويا كہ عدى رضى اللہ تعالى عنہ تك سھل رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث نہيں پہنچى تھى، بلكہ انہوں نے صرف آيت سنى اور اس سے وہى سمجھا جو انہوں نے كيا اور پيش آيا. اھـ

اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

رہا عدى رضى اللہ تعالى عنہ كا مسئلہ لگتا ہے كہ ان كى قوم كے لغت اور ز بان ميں بطور استعارہ صبح كے ليے دھاگے كا استعمال نہيں تھا، يا پھر وہ " من الفجر " كے الفاظ بھول گئے تھے، حتى كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں اس كى ياد دہانى كرائى. اھـ

قاضى عياض رحمہ اللہ كى متابعت كرتے ہوئےامام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" بعض وہ اعرابى جنہيں فہم نہ تھى انہوں نے سفيد اور سياہ دھاگے كے الفاظ كو ظاہر پر محمول كيا، مثلا وہ لوگ جن كے متعلق سھل بيان كرتے ہيں، اور يا پھر انہوں نے اسے ظاہر پر محمول كيا تھا جن كى لغت ميں اس كا استعمال نہيں تھا مثلا عدى رضى اللہ تعالى عنہ. اھـ

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا عدى رضى اللہ تعالى عنہ كو " عريض گدى والا " كے الفاظ سے مخاطب كرنے كے متعلق بعض كا گمان ہےكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس سے غفلت اور غباوت مراد لى ہے.

ان افراد كا دعوى ہے كہ گدى چوڑى ہونے سے غباوت پر استدلال كرتى ہے، اس سلسلے ميں انہوں نے ايك شعر پيش كيا ہے.

ليكن اكثر علماء جن ميں قرطبى، قاضى عياض، اور امام نووى رحمہ اللہ تعالى شامل ہيں نے اس كا انكار كيا ہے.

امام قرطبى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" اسے بعض لوگوں نے مذمت محمول كيا ہے گويا كہ وہ يہ سمجھے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ان كى جانب جھالت اور جفاء اور عدم فقہ منسوب كى ہے، حالانكہ معاملہ ايسا نہيں جس طرح وہ كہہ رہے ہيں....

بلكہ " اللہ اعلم " نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے تو اس سے مراد يہ ليا ہے كہ اگر آپ كا تكيہ وہ دونوں دھاگے جو اللہ نے مراد ليے ہيں اپنے نيچے چھپا ليتا ہے تو پھر يہ تكيہ تو بہت وسيع و عريض ہے، اسى ليے اس كے بعد رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے يہ الفاظ فرمائے:

" بلكہ يہ تو رات كى سياہى اور دن كى سفيدى ہے "

گويا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے يہ كہا كہ: يہ دونوں آپ كے تكيہ كے نيچے كيسے آ سكتے ہيں ؟

اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمانا:

" آپ تو بہت وسيع و عريض گدى والے ہيں "

يعنى آپ كا وہ تكيہ جو رات اور دن كو اپنے نيچے چھپا ليتا ہے مناسبت سے اس پر تو وہ ہى شخص سوتا ہے جس كى گدى چوڑى ہو. اھـ مختصرا

اور قاضى عياض رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اس كا معنى يہ ہے كہ: اگر آپ نے اپنے تكيہ كے نيچے وہ دونوں دھاگے جو يہاں اللہ تعالى نے مراد ليے ہيں يعنى دن اور رات نيچے لے ليے ہيں تو پھر آپ كا تكيہ انہيں ڈھانپ رہا ہے، تو اس وقت تكيہ بہت وسيع و عريض ہے، اور صحيح بخارى كى دوسرى روايت " آپ تو وسيع و عريض گدى كے مالك ہيں" جو كہ ايك اور روايت " آپ بہت زخيم ہيں " كے معنى ميں ہى آتا ہے. اھـ

ديكھيں: فتح البارى شرح حديث نمبر ( 1917 ) اور ( 1916 ) شرح مسلم للنووى حديث نمبر ( 1090 ) اور ( 1091 ).

اس آيت سے مستنبط شدہ احكام ميں يہ بھى شامل ہے كہ:

اگر كسى شخص كو طلوع فجر ميں شك و شبہ ہے تو وہ يقينى طور پر طلوع فجر تك كھا پى سكتا ہے، كيونكہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿ حتى كہ واضح ہو جائے ﴾.

عبد الرزاق رحمہ اللہ نے ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كيا ہے كہ:

" جب آپ كو شك ہو تو اللہ تعالى نے آپ كے ليے كھانا پينا حلال كيا ہے "

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: اس كى سند صحيح ہے.

اور ابن ابى شيبہ رحمہ اللہ تعالى نے ابو الضحى سے بيان كيا ہے وہ كہت ہيں ايك شخص نے ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے سحرى كے متعلق دريافت كيا تو ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما كہنے لگے:

" جب تك آپ كو شك ہو كھاتے پيتے رہو حتى كہ آپ كا شك ختم ہو جائے "

ابن منذر رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" اكثر علماء كرام كا قول بھى يہى ہے "

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى " الشرح الممتع " ميں لكھتے ہيں:

" اگر كسى شك كو طلوع فجر ميں شك ہو اور وہ روزہ توڑنے والا كوئى كام كر بيٹھے تواس كا روزہ صحيح ہے؛ كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اب تم ان ( اپنى بيويوں ) سے مباشرت كرو، اور جو كچھ اللہ تعالى لكھ ديا ہے اسے تلاش كرو، اور دن كا سفيد دھاگہ رات كے سياہ دھاگے سے ظاہر ہونے تك كھاتے پيتے رہو، پھر تم رات تك روزہ مكمل كرو ﴾البقرۃ ( 187 ).

اور تبيين كا ضد اور مخالف شك اور گمان ہے، اس لے جب تك ہمارے ليے فجر واضح يقينى نہ ہو جائے اس وقت تك كھانا پينا جائز ہے، اس مسئلہ كى پانچ اقسام ہيں:

1 - طلوع فجر نہ ہونے كا يقين ہو، مثلا طلوع فجر كا وقت پانچ بجے ہے اور وہ ساڑھے چار بجے كھاتا پيتا ہے تو اس كا روزہ صحيح ہے.

2 - طلوع فجر كا يقين ہو چكا ہو، مثلا وہ ساڑھے پانچ بجے كھائے پيئے تو اس كا روزہ فاسد ہے.

3 - طلوع فجر ہونے ميں شك ہو كہ پتہ نہيں فجر طلوع ہوئى ہے يا نہيں تو وہ اس حالت ميں كھاتا پيتا رہے، ليكن اس كا غالب گمان يہى ہو كہ ابھى طلوع فجر نہيں ہوئى، تو اس كا روزہ صحيح ہے.

4 - طلوع فجر كا گمان غالب ہو اور پھر بھى كھاپى رہا ہو تو اس صورت ميں اس كا روزہ صحيح ہے.

5 - ترد اور شك كى صورت ميں كھاتا پيتا رہے اور اسے كچھ بھى راجح معلوم نہ ہوتا ہو تو اس كا روزہ صحيح ہے. اھـ

ديكھيں: الشرح الممتع لابن عثيمين ( 6 / 247 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments