100270: والد كى طرف نسبت ميں شك


جب ميں زنا سے پيدا شدہ بچى ہوں اور جس شخص كے ساتھ رہتى ہوں وہ كاغذات كے اعتبار سے ميرا والد ہے، ميرا انجام كيا ہو گا آيا جنت يا جہنم، اور مجھے كيا كرنا چاہئے كيا ميں اپنے خاندان كو رسوا كر كے يتيم خانہ چلى جاؤں يا كہ اپنے حالت پر خاموش ہو كر خاندان كى ستر پوشى كروں، اور ميں والد كى طرف سے مختلف بھائى كے ساتھ كيسے زندگى بسر كروں.
اللہ تعالى ميرى والدہ كو معاف فرمائے ميرے تباہى كا سبب وہى ہے، مجھے فتوى ديں ميں الحمد اللہ دينى احكام پر عمل كرنے والى لڑكى ہوں، مجھے ايسى بات مت كہيں جس سے ثابت ہو كہ آپ اس آدمى كى بيٹى نہيں كيونكہ ميرى شكل اس شخص سےمشابہ ہے جس سے ميرى ماں نے زنا كيا تھا، ميرى مدد كريں اور مجھے بتائيں كہ ميں كيا كروں ؟

Published Date: 2008-12-14

الحمد للہ:

اول:

زنا كى اولاد اپنى ماہ كے جرم كى ذمہ دار نہيں اور نہ ہى ان سے اس جرم كے متعلق باز پرس ہو گى، اور نہ ہى انہيں اس كا مؤاخذہ ہو گا، بلكہ وہ اپنے عمل كے ذمہ دار اور جوابدہ ہيں، اگر تو وہ نيك و صالح اور اللہ كى اطاعت و فرمانبردارى كرنے والا ہے تو وہ اہل جنت ميں شامل ہے، اور اگر نافرمان و فاسق ہے تو وہ آگ ميں جانے كا مستحق ہے، چنانچہ اس كى حالت باقى لوگوں كى طرح ہى ہے اور اس ميں كوئى فرق نہيں.

دوم:

جس كا خاوند ہو اور وہ عورت بچہ جنے تو ممكن ہے وہ اس كے خاوند كا ہو ( وہ اس طرح كہ اگر بچے كى ولادت شادى كے چھ ماہ بعد ہے ) تو يہ بچہ شرعى طور پر خاوند كى طرف منسوب ہو گا، اور اس بچہ كے نسب كى نفى كرنا جائز نہيں، ليكن اگر خاوند اس كے نسب كى نفى كرتا ہے تو وہ اپنى بيوى كے ساتھ اس پر لعان كريگا.

اس كى دليل صحيح بخارى اور مسلم كى درج ذيل حديث ہے:

سعد بن ابى وقاص رضى اللہ تعالى عنہ اور عبد بن ابى زمعۃ كا آپس ميں زمعۃ كے غلام كے متعلق تنازع ہو گيا، سعد نے عرض كيا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم يہ ميرے بھائى عتبۃ بن ابى وقاص كا بيٹا ہے، اس نے اسے ميرے سپرد كيا تھا يہ اس كا بيٹا ہے، اور عبد بن زمعۃ كہنے لگا: يہ ميرا بھائى اور ميرے والد كى لونڈى كا بيٹا ہے ميرے والد كے بستر پر پيدا ہوا ہے، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ديكھا كہ وہ واضح طور پر عتبہ سے مشابہ ہے تو آپ نے فرمايا:

" اے عبد بن زمعۃ وہ تيرے ليے ہے، بچہ بستر كا ہے، پھر سودہ بنت زمعہ جو امہات المؤمنين ميں شامل تھيں كو فرمايا اے سودہ تم اس سے پردہ كرو "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2053 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1457 ).

جب بچہ بستر زوجيت پر پيدا ہو تو وہ خاوند كى جانب منسوب كيا جائيگا، اور لعان كيے بغير اس سے نفى نہيں كر سكتا، وہ اس طرح كہ خاوند اپنى بيوى سے لعان كرے اور بچے كى اپنے سے نفى كرے، اور مشابہت ہونا معتبر نہيں، سابقہ حديث سے ثابت ہوا ہے جس بچے ميں نزاع پيدا ہوا تھا وہ بچہ واضح طور پر زانى كے مشابہ تھا يعنى عتبہ بن ابى وقاص كے مشابہ، اور يہ زنا دور جاہليت ميں ہوا تھا، اور سعد بن ابى وقاص رضى اللہ تعالى عنہ چاہتے تھے كہ وہ غلام كو اپنے بھائى كى طرف منسوب كريں جس كى اس نے وصيت كر ركھى تھى، ليكن نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے حكم لگايا كہ بچہ بستر والے كا ہے اور اسے زمعۃ جو كہ لونڈى كا مالك تھا كى طرف منسوب كيا اور مشابہت كى بنا پر احتياط برتتے ہوئے سودہ بنت زمعہ كو حكم ديا كہ وہ اپنے اس بھائى سے پردہ كرے.

تو يہاں زنا كا اقرار اور واضح مشابہت دونوں جمع ہيں ليكن اس كے باوجود نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے صاحب فراش كا نسب ثابت كيا ہے، جو كہ شريعت اسلاميہ كى نسب كو محفوظ ركھنے ميں احتياط ہے، اور اس كى ستر پوشى كى رغبت ہے، كيونكہ نسب مولود كا حق ہے.

امام نووى رحمہ اللہ مسلم كى شرح ميں كہتے ہيں:

" اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان:

" اے سودہ تم اس سے پردہ كرو "

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ حكم مندوب اور احتياط كو مد نظر ركھتے ہوئے ديا گيا ہے، كيونكہ شريعت كے ظاہر وہ اس كا بھائى ہے كيونكہ وہ اس كے باپ كى طرف منسوب اور ملحق ہے، ليكن جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے عتبہ بن ابى وقاص كے ساتھ اس كى واضح مشابہت ديكھى تو آپ كو خدشہ محسوس ہوا كہ كہيں يہ اس كے نطفہ سے نہ ہو تو اس طرح وہ اجنبى ہو گا، اس ليے احتياطا انہيں پردہ كرنے كا حكم ديا....

قاضى عياض ـ رضى اللہ عنہ ـ كہتے ہيں:

جاہليت ميں عادت تھى كہ زنا سے نسب كا الحاق كيا جاتا تھا، اور وہ لوگ زنا كے ليے لونڈياں كرائے پر حاصل كرتے تھے اور ماں جس كا اعتراف كر ليتى بچہ اس كى طرف منسوب كر ديا جاتا، اور اسلام نے آ كر اسے باطل قرار ديا اور بچے كو شرعى بستر والے كى طرف منسوب كر ديا، اور جب عبد بن زمعہ اور سعد بن ابى وقاص كا آپس ميں تنازع پيدا ہوا اور سعد رضى اللہ تعالى عنہ نے اپنے بھائى عتبہ كى وصيت پر دور جاہليت كے طريقہ پر عمل كرنا چاہا اور انہيں اسلام ميں اس كے باطل ہونے كا علم نہ ہوا اور نہ ہى جاہليت ميں اس كى نسبت عتبہ كى طرف ہو سكى يا تو اس كا سبب عدم دعوى تھا، يا پھر بچے كى ماں نے عتبہ كا ہونے كا اعتراف نہ كيا، اور عبد بن زمعہ نے يہ دليل لى كہ وہ اس كے باپ كے بستر پر پيدا ہوا ہے تو رسول كريم صلى اللہ عليہ نے اسى كے حق ميں فيصلہ دے ديا " انتہى.

اور ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اور وہ سب اس پر جمع ہيں كہ جب بچہ كسى آدمى كے بستر پر پيدا ہو اور دوسرا شخص اس كا دعوى كرے كہ وہ بچہ ميرا ہے تو وہ اس كى طرف ملحق نہيں ہو گا " انتہى

ديكھيں: المغنى ( 6 / 228 ).

اس بنا پر اگر آپ كى ولادت آپ كے والدين كے نكاح كے چھ ماہ بعد ہوئى ہے تو آپ اپنے باپ كى طرف منسوب ہونگى اور آپ كے نسب كى نفى لعان كے بغير ممكن نہيں، اور نہ ہى آپ كو يہ حق ہے كہ آپ اپنى والدہ كے متعلق شك كريں اور مشابہت ہونے كى بنا اس كے بارہ سوء ظن بھى نہ ركھيں كيونكہ بغير زنا كے بھى مشابہت ہو سكتى ہے.

چاہے معاملہ جو بھى ہو مشابہت يا عورت زنا كا اقرار كرے تو يہ بچے كے نسب كى نفى واجب نہيں كرتا، جب تك كہ خاوند لعان نہ كرے.

آپ لعان كى حقيقت اور اس كے نتيجہ ميں مرتب ہونے والے احكام ديكھنے كے ليے سوال نمبر ( 33615 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

اور آپ كو چاہيے كہ آپ اس معاملے سے اعراض كريں اور اس سلسلہ ميں مت سوچيں، اور آپ اچھے اور نيك عمل كرنے كا اہتمام كريں، اور اس دين اسلام پر ثابت قدم رہ كر احكام دين پر عمل پيرا ہوں.

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ آپ كى راہنمائى فرمائے اور آپ اپنى پسند اور رضامندى والے كام كرنے كى توفيق نصيب فرمائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments