ar

103654: آستينوں والا عبايا پہننے كا حكم


ماركيٹ ميں سر كے اوپر ركھ كر زيب تن كيا جانے والا عبايا موجود ہے، ليكن آستينوں والى عبايا پہننے كا حكم كيا ہے ؟

Published Date: 2008-03-02

الحمد للہ:

اگر تو يہ عبايا كھلا اور سارے جسم كو چھپائے، اور نہ تو نيچے والے ظاہر كرے، اور نہ ہى اس كے حكم كو واضح كرے، اور نہ ہى فى ذاتہ خوبصورت اور زينت ہو تو اسے زيب تن كرنے ميں كوئى حرج نہيں، اور اس كا آستينوں والا ہونا كوئى نقصاندہ نہيں.

عورت كے ليے لباس كس طرح كا ہونا اور شرعى لباس كيا ہے يہ معلوم كرنے كے ليے سوال نمبر ( 6991 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

ان آخرى ايام ميں عورتوں كے ہاں ايسى عبايا آئى ہے جو آستنيوں والى اور تنگ ہے، اور ان آستينوں پر كڑھائى وغيرہ بھى ہے، اور اسى طرح كچھ عبايا ايسى بھى ہيں جس كى آستين ميں ايك طرف بالكل شفاف ہے، آپ ان اشياء كے بارہ ميں آپ كى رائے كيا ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" ہم كہتے ہيں كہ: ہمارے پاس ايك اہم قاعدہ اور اصول ہے كہ: لباس، كھانے پينے اور معاملات ميں اصل حلت ہے، اور يہ حلال ہيں، اور كسى كے ليے بھى اسے بغير كسى دليل كے اسے حرام كرنا حلال نہيں اگر اس كى حرمت كى نص ملے تو حرام ہے.

جب ہميں اس قاعدہ كا علم ہو گيا جس پر كتاب و سنت دلالت كرتے ہيں، تو ان امور ميں سے ہر وہ چيز جسے اللہ تعالى نے حرام نہيں كيا وہ حلال ہے، اصل يہى ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ وہ اللہ ہى ہے جس نے تمہارے زمين كى تمام چيزوں كو پيدا فرمايا ہے ﴾البقرۃ ( 29 ).

اور ايك مقام پر ارشاد ربانى ہے:

﴿ كہہ ديجئے كہ كون ہے جس نے اللہ تعالى كے پيدا كئے ہوئے اسباب زينت كو، جن كو اس نے اپنے بندوں كے واسطے بنايا ہے، اور كھانے پينے كى حلال چيزوں حرام كيا ہے ﴾الاعراف ( 32 ).

اور ايك دوسرے مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:

﴿ اور اللہ نے خريد و فروخت كو حلال كيا ہے، اور سود كو حرام كيا ہے ﴾البقرۃ ( 275 ).

تو ان امور ميں سے جو اللہ تعالى نے حرام نہيں كيں وہ حلال ہيں يہى اصل ہے، ليكن جس كے متعلق شريعت ميں حرمت كى دليل آئى ہے، مثلا مردوں كے ليے سونا حرام ہے، اور مردوں كے ليے ريشم حرام ہے مگر جو اس سے مستثنى ہے، اور اسى طرح سلوار قيمص اور كپڑا، اور عبايا مردوں كے ليے ٹخنوں سے نيچے ركھنے كى حرمت، يا اس طرح كى دوسرى اشياء.

تو جب ہم اس مسئلہ كو اس پر فٹ كريں جو ان آخرى ايام ميں پيدا ہوا ہے كہ يہ جديد اور نئى عبايا كو اس قاعدہ اور اصول پر فٹ كريں تو ہم كہينگے:

اصل تو يہ حلال ہيں، ليكن اگر يہ عبايا التفات نظر يا فتنہ كا باعث بنيں، كيونكہ كڑھائى ہونے كى بنا پر نظريں اس كى طرف اٹھتى ہيں تو پھر ہم اس سے منع كرينگے، اس ليے نہ كہ فى ذاتہ جائز نہيں، ليكن اس كى نتيجہ ميں جو فتنہ اور خرابى پيدا ہو اس كى بنا پر.

اور اسى طرح اگر فرض كريں كہ عورتيں اس شكل كى عبايا تيار كر ليں جو مردوں كى عبايا كى طرح ہو تو بھى اس سے منع كيا جائيگا، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مردوں كے ساتھ مشابہت كرنے والى عورتوں پر لعنت فرمائى ہے، اور عورتوں كے ساتھ مشابہت كرنے والے مردوں پر بھى لعنت كى ہے، تو ان عبايا كے متعلق ہم يہ كہينگے: اصل ميں تو يہ حلال ہيں جب تك ہميں اس ميں كوئى فتنہ يا التفات نظر كا علم نہ ہو جائے، اگر ايسا ہو تو پھر اس سے منع كيا جائيگا " انتہى.

ديكھيں: لقاء الباب المفتوح ( 17 / 46 ).

اور ايك دوسرى جگہ پر شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ آستينوں و الى عبايا كے متعلق كہتے ہيں:

" عبايا كے مسئلہ ميں يہ ہے كہ: اگر تو يہ عبايا جسم اور بدن كے حجم كو واضح نہ كرے تو اس ميں كوئى حرج نہيں....

اور عبايا كے متعلق يہ ہے كہ: بلا شك پہلى عبايا جس ميں آستين نہيں، جو عورت كے سارے جسم كو چھپائے، اور كوئى حصہ بھى ظاہر نہ ہو تو يہ اس دوسرى سے بہتر ہے، ليكن اس كى حرمت كے ليے كسى واضح چيز كى ضرورت ہے، يعنى: واضح دليل كى محتاج ہے " انتہى.

ديكھيں: لقاء الباب المفتوح ( 15 / 141 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments