106493: گواہى رد ہونے يا محكمہ كو خبر نہ دے سكنے والے كے روزے اور عيد كا حكم


اگر كسى شخص نے چاند ديكھا اور رؤيت ہلال كميٹى يا محكمہ كو خبر نہ كر سكا، يا اس كى گواہى رد كر دى گئى تو كيا وہ اكيلا روزہ ركھ لے، اور اسى طرح عيد الفطر ميں كيا روزہ نہ ركھے ؟

Published Date: 2010-07-31

الحمد للہ:

بعض اہل علم كہتے ہيں كہ وہ اكيلا ہى روزہ ركھ لے، ليكن صحيح يہى ہے كہ اس كے ليے اكيلے روزہ ركھنا جائز نہيں، اور نہ ہى وہ اكيلا عيد كر سكتا ہے، بلكہ اسے چاہيے كہ وہ لوگوں كے ساتھ ہى روزہ ركھے اور لوگوں كے ساتھ ہى عيد منائے.

كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" روزہ اس دن ہے جس دن تم روزہ ركھو، اور عيد الفطر اس دن ہے جس دن تم عيد الفطر مناؤ "

ليكن اگر وہ صحراء ميں ہو اور اس كے پاس كوئى اور نہيں تو وہ اپنى رؤيت پر عمل كرتے ہوئے روزہ ركھے اور عيد منائے " انتہى

فضيلۃ الشيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ.

ديكھيں: مجموع فتاوى و مقالات متنوعۃ ( 15 / 72 - 73 ).
Create Comments