ar

106718: پہلى بيوى كا دودھ پينے كى حالت ميں دوسرى بيوى سے پيدا ہونے والى بيٹى سے شادى كرنے كا حكم


ايك شخص كى دو بيوياں ہيں اور اس كى دونوں سے اولاد
بھى ہے، پہلى بيوى نے اپنے پڑوسى كے بيٹے كو بچپن ميں دودھ پلايا اور جب بڑا ہو گيا تو رضاعى باپ نے اپنى دوسرى كى بيٹى سے اس رضاعى بيٹے كى شادى كر دى، اس كا كہنا ہے كہ اس كى رضاعى بہن نہيں، كيونكہ اس لڑكى كى ماں سے اسے دودھ نہيں پلايا( يہ علم ميں رہے كہ اسے دودھ پہلى بيوى نے پلايا ہے دوسرى نے نہيں )، اس حالت ميں كيا ہونا چاہيے ؟
ليكن اس عورت كو يہ ياد نہيں كہ كتنى بار دودھ پلايا ہے آيا پانچ رضاعت مكمل ہوئى تھيں يا نہيں، ليكن دودھ پلانے كا يقين ہے، اس مسئلہ كا حل كيا ہے ؟

Published Date: 2009-05-17

الحمد للہ:

اول:

جب كوئى عورت بچے كو دودھ پلائے تو وہ اس كا اور اس كے خاوند كا رضاعى بيٹا بن جاتا ہے، اور اس كے سارے بيٹے اور بيٹيوں كا رضاعى بھائى چاہے وہ دوسرى بيويوں سے ہى ہوں، صرف يہ ہے كہ دودھ اس شخص كى وطئى سے ہو تو اس كى سارى اولاد اس كے رضاعى بھائى ہونگے.

شيخ ابن باز رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جب كوئى عورت بچے كو دو برس كى عمر كے اندر اندر پانچ رضاعت يا اس سے زيادہ دودھ پلا دے تو وہ اس كا اور اس كے خاوند جس كا دودھ ہے كا رضاعى بيٹا بن جاتا ہے، اور اس عورت اور اس مرد جس كا دودھ ہے كى سارى اولاد اس بچے كے رضاعى بہن بھائى ہونگے، اور دودھ والے شخص كى سارى اولاد چاہے وہ دوسرى بيويوں سے ہو وہ بچے كے رضاعى بہن بھائى بن جائيگے " انتہى

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن باز ( 22 / 274 ).

اور شيخ ابن باز رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال بھى دريافت كيا گيا:

ميں نے ايك عورت كا دودھ پيا پھر اس كے خاوند نے ايك عورت سے شادى كر لى اور اس بيوى سے بچے پيدا ہوئے تو كيا يہ بھى ميرے بھائى ہونگے ؟

جواب:

الحمد للہ:

اگر تو پانچ رضاعت اور اس سے زيادہ ہوں اور دودھ خاوند كى طرف منسوب ہو كيونكہ اس خاوند كى اولاد ہے تو وہ آپ كے رضاعى والد اور والدہ كى جانب سے رضاعى بھائى ہونگے، اور رضاعى والد كى دوسرى بيوى بچے بھى آپ كے رضاعى والد كى جانب سے رضاعى بھائى ہونگے.

اور ايك رضاعت يا رضعہ يہ ہے كہ بچے ماں كا پستان منہ ميں ڈال كر دودھ چوسے اور پھر كسى بھى سبب سے چھوڑ دے پھر پستان منہ ميں ڈال كر دودھ پينا شروع كر دے حتى كہ دودھ اس كے پيٹ ميں چلا جائے اور پھر چھوڑ دے اور پھر پينا شروع كر دے اسى طرح پانچ بار يا اس سے زائد بار كرے چاہے يہ ايك ہى مجلس ميں ہو يا پھر كئى دفعہ ميں ايك ہى دن ميں ہو يا كئى دنوں ميں ليكن شرط يہ ہے كہ بچہ دو برس كى عمر سے زائد نہ ہو، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" رضاعت دو برس كى عمر ميں ہوتى ہے "

اور اس ليے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے سھلۃ بن سھيل كو فرمايا تھا:

" سالم كو پانچ رضاعت دودھ پلا دو تم اس پر حرام ہو جاؤ گى "

اور اس ليے بھى كہ صحيح مسلم اور جامع ترمذى ميں عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے مروى ہے وہ بيان كرتى ہيں:

" قرآن مجيد ميں دس رضعات معلوم نازل ہوئى تھيں جن سے حرمت ثابت ہو جاتى تھى، پھر اسے پانچ معلوم رضاعت كے ساتھ منسوخ كر ديا گيا، اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى وفات تك ايسے ہى تھا "

يہ لفظ ترمذى كے ہيں.

اللہ تعالى سب كو اپنے رضا والے كام كرنے كى توفيق دے " انتہى

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن باز ( 22 / 305 ).

دوم:

حرام كرنے والى رضاعت كے ليے دو شرطيں ہيں:

پہلى شرط:

پانچ يا اس سے زائد رضاعت ہوں كيونكہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كى حديث ميں ہے وہ بيان كرتى ہيں:

" قرآن مجيد ميں دس معلوم رضعات نازل ہوئى تھيں، پھر انہيں پانچ معلوم رضاعت كے ساتھ منسوخ كر ديا گيا ... "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1452 ).

دوسرى شرط:

يہ رضاعت دو برس كى عمر ميں ہو ( يعنى بچے كى عمر كے پہلے دو برس كى عمر ميں ) اس كى دليل درج ذيل حديث ہے:

عبد اللہ بن زبير رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" رضاعت وہ ہے جو انتڑيوں كو بھر دے "

سنن ابن ماجۃ حديث نمبر ( 1946 ) يہ حديث صحيح ہے ديكھيں صحيح الجامع حديث نمبر ( 7495 ).

اور امام بخارى رحمہ اللہ صحيح بخارى ميں كہتے ہيں:

" دو برس كے بعد رضاعت تسليم نہ كرنے والے كا بيان كيونكہ اللہ تعالى كا فرمان ہے: ﴿ پورے دو برس چو رضاعت پورى كرنى چاہے ﴾"

اور رضاعت كى تعريف يہ ہے كہ: بچے ماں كا دودھ منہ ميں ڈالے اور اس كو چوسے اور پھر خود ہى اسے سانس لينے كے ليے چھوڑ دے يا منتقل وغيرہ ہونے كے ليے خود ہى چھوڑے تو يہ ايك رضاعت كہلاتى ہے.

اور اس ميں سير ہو كر اور پيٹ بھر كر دودھ پينا شرط نہيں، بلكہ جب وہ دودھ كتى بھى كميت ميں چوس لے اور وہ اس كے معدے ميں داخل ہو جائے تو يہ رضاعت شمار ہو گى.

لہذا جب يہ ثابت ہو جائے تو رضاعت كے احكام يعنى نكاح و غيرہ كى حرمت ثابت ہو جائيگى.

سوم:

ليكن رضاعت كى تعداد ميں شك پيدا ہو جائے اور پانچ رضاعت كا يقين نہ ہو تو پھر حرمت ثابت نہيں ہو گى.

اس كے متعلق ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

اور جب رضاعت ميں يا رضاعت كى تعداد ميں شك پيدا ہو جائے كہ آيا تعداد مكمل ہوئى ہے يا نہيں تو پھر حرمت ثابت نہيں ہو گى، كيونكہ اصل عدم رضاعت ہے لہذا يقين شك كے ساتھ زائل نہيں ہو سكتا "

ديكھيں: المغنى ( 11 / 312 ).

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

جب رضاعت پورى ہونے ميں شك ہو وہ يہ كہيں كہ بچے نے اس عورت كا كئى بار دودھ پيا ہے، ليكن ہميں يہ معلوم نہيں كہ پانچ بار پيا يا اس سے كم ؟

تو پھر حرمت ثابت نہيں ہو گى كيونكہ اصل حلت ہے، اور يہاں ہميں پانچ سے كم رضاعت كا يقين ہے پانچ كا نہيں، اور اكثر ايسا ہى ہوتا ہے، تو وہ لوگ جو رضاعت كے متعلق دريافت كرتے ہيں ہميشہ ہم ان سے كہتے ہيں:

كتى رضاعت ہوئى تو وہ جواب ديتے ہيں: ہميں علم نہيں تو اس كا جواب يہ ہے كہ:

حرمت نہيں ہے، اور وہ اس وقت تك رضاعى بيٹا نہيں جب تك يہ يقين نہ ہو جائے كہ اس نے پانچ رضاعت پورى كى ہيں " انتہى

ديكھيں: الشرح الممتع ( 13 / 454 ).

اور جب پانچ رضاعت كا يقين ہو جائے تو پھر خاوند اور بيوى كے درميان عليحدگى كرا دى جائے كيونكہ وہ عورت اس كے ليے حلال نہيں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments