107472: فوت شدہ شوہر كے بچوں كى پرورش اور بيوہ كى شادى ميں رغبت كرنا


ميرا خاوند فوت ہو چكا ہے، اب ميرے بچے كس كے ساتھ رہينگے ميرے ساتھ يا كہ ميرے سسرال والوں كے ساتھ ؟
اور اگر ميں اپنے ملك جانا چاہوں تو كيا ميں اپنے بچوں كو ساتھ لے جاؤں يا كہ سسرال والوں كے پاس چھوڑ جاؤں ؟
كيا ميرے سسرال والوں كوميرے بچوں كى پرورش اور تربيت كا حق حاصل ہے ؟
اگر بيوہ آگے شادى كرنا چاہے تو كيا اسے اپنے خاوند كى يتيم اولاد كى پرورش كرنے كا حق حاصل ہو گا ؟

Published Date: 2010-10-18

الحمد للہ:

اول:

چھوٹے بچوں كى پرورش كا معنى يہ ہے كہ ا نكى حفاظت اور ديكھ بھال كى جائے اور ان كى مصلحت كا خيال ركھا جائے، اور انہيں ضرر دينے اور تكليف دينے والى اشياء سے بچايا جائے.

علماء كرام اس پر متفق ہيں كہ اگر خاوند فوت ہو جائے يا پھر طلاق ہو جائے تو شعور اور تميز كى عمر كو پہنچنے تك بچوں كى پرورش كا سب سے زيادہ حق ماں كو ہے.

الموسوعۃ الفقھيۃ ميں درج ہے:

" اگر خاوند اور بيوى كا نكاح قائم ہے تو بچوں كى پرورش دونوں مل كر كرينگے، اور اگر ان ميں عليحدگى ہو جاتى ہے تو پھر سب كا اتفاق ہے كہ بچے كى ماں كو پرورش كا حق حاصل ہے كيونكہ حديث ميں وارد ہے كہ:

" ايك عورت نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آئى اور عرض كرنے لگى:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميرے اس بيٹے كے ليے ميرا پيٹ اس كے ليے رہنے كى جگہ تھى، اور ميرى چھاتى اس كى خوراك كا باعث تھى، اور ميرى گود اس كى حفاظت كى جگہ تھى، اور اس كے باپ نے مجھے طلاق دے دى ہے، اور اب اس كو مجھ سے چھيننا چاہتا ہے ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس سے فرمايا:

" تم جب تك نكاح نہيں كرتى اس كى زيادہ حقدار ہو " انتہى

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 17 / 301 - 302 ).

پرورش ميں بچے كى مصلحت كو مدنظر ركھا جائيگا، كيونكہ ہو سكتا ہے پرورش كا حقدار شخص فاسق ہو يا پھر بچے كى تربيت اور اس كى مصلحت پورى نہ كر سكتا ہو، يا پھر وہ كوتاہى كرنے والا اور بچہ كو ضائع كر دينے والا ہو، تو يہاں اس صورت ميں پرورش كا حق اس كے بعد والے كو منتقل ہو جائيگا.

ابن قيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

اور حديث ـ يعنى " جب تك تم نكاح نہ كرو تو تم اس ( بچے ) كى زيادہ حقدار ہو " اس پر دلالت كرتى ہے كہ جب ماں اور باپ ميں عليحدگى اور جدائى ہو جائے اور ان كى اولاد ہو تو باپ كى بجائے ماں اس كى زيادہ حقدار ہے، جب تك ماں ميں كوئى ايسا مانع نہ پايا جائے جو اسے مقدم كرنے سے روكے، يا پھر بچے ميں ايسا وصف پايا جاتا ہو جو اس كے ليے اختيار كا متقاضى ہو، اس مسئلہ ميں كوئى نزاع نہيں پايا جاتا "

ديكھيں: زاد المعاد ( 5 / 435 ).

اور شيخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" يہ علم ميں ركھيں كہ ان مسائل ميں ہر چيز سے قبل پرورش كيے جانے والے بچے كا خيال ركھا جائيگا، اگر وہ كسى ايك كے ساتھ جائے يا كسى ايك كے ساتھ باقى رہے اور اس پر اس كے دين يا دنيا كے معاملہ ميں ضرر و نقصان ہوتا ہو تو اسے اس كے ہاتھ ميں نہيں رہنے ديا جائيگا جو اس كى حفاظت نہيں كر سكتا، اور اس كى مصلحت كو پورا اور اس كى اصلاح نہيں كرتا؛ كيونكہ پرورش كا اساسى مقصد اور غرض بچے كو ضرر اور تكليف دہ اشياء سے محفوظ ركھنا اور اس كى ضروريات و مصلحت پورى كرنا ہے "

ديكھيں: الشرح الممتع ( 13 / 545 ).

مزيد آپ سوال نمبر ( 20473 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

اور جب ماں شادى كر لے تو علماء كرام كا اجماع ہے كہ اس كا حق پرورش ساقط ہو جاتا ہے.

اس كا تفصيلى بيان سوال نمبر ( 20705 ) كے جواب ميں گزر چكا ہے آپ اس كا مطالعہ كريں.

فقھاء كرام اس ميں اختلاف كرتے ہيں كہ ماں كے بعد حق پرورش كس كو منتقل ہو گا، چنانچہ جمہور علماء كرام كہتے ہيں كہ حق پرورش نانى كو منتقل ہو جائيگا، ليكن شيخ الاسلام ابن تيميہ اور ان كے شاگرد ابن قيم رحمہما اللہ نے اس كى مخالفت كى ہے، ان كا كہنا ہے كہ:

حق پرورش باپ كو منتقل ہو جائيگا، پھر جب وہ دونوں بچے كے قرب ميں برابر ہيں تو باپ كى جانب مقدم ہو گى، اس ليے دادى كو نانى پر مقدم كيا جائيگا، اور خالہ پر پھوپھى مقدم ہو گى، اسى طرح باقى ميں بھى.

رحمہ اللہ كہتے ہيں:

.... چھوٹے بچے كے برخلاف كيونكہ اس ليے كہ اس كے ليے ماں زيادہ بہتر ہے؛ كيونكہ عورتيں چھوٹے بچوں پر زيادہ رحمدل ہوتى ہيں، اور اس كو خوراك دينے كا انہيں زيادہ علم ہوتا ہے اور اسے اٹھانے كى زيادہ خبر ركھتى ہيں اور اس پر انہيں صبر بھى زيادہ حاصل ہوتا ہے، اور وہ زيادہ مہربانى ہوتى ہيں، لہذا ماں اس جگہ زيادہ قادر اور خبر ركھنے والى اور رحم كرنے والى اور زيادہ صبر كرنے والى ہو گى، اس ليے شريعت نے چھوٹے بچے كے حق ميں جسے ابھى تميز نہ ہو ماں كا خيال ركھا ہے.

ليكن يہ باقى ہے كہ آيا انہيں شارع نے اس ليے مقرر كيا ہے كہ پرورش ميں ماں كا قرب باپ كے قرب پر مقدم ہے ؟ يا كہ عورتيں مردوں سے پرورش كے مقصد كو زيادہ پورا كرنے والى ہوتى ہيں ؟

اس ميں علماء كے دو قول ہيں: ان دونوں كا معاملہ ماں كے رشتہ دار عصبہ كى عورتوں كى تقديم سے ظاہر ہوتا ہے: مثلا نانى اور دادى، ماں كى جانب سے بہن، اور باپ كى جانب سے بہن اور مثلا پھوپھى اور خالہ وغيرہ، اس ميں دو قول ہيں، اماح احمد سے دو روايتيں ہيں، اور دليل و حجت ميں راجح قول يہ ہے كہ:

عصبہ كى عورتيں مقدم ہونگى، الخرقى نے بھى اپنى مختصر ميں خالہ اور پھوپھى كے بارہ ميں ذكر كيا ہے، اس بنا پر: دادى نانى پر مقدم ہو گى، اور باپ كى جانب سے بہن كو ماں كى جانب سے بہن پر مقدم كيا جائيگا، اور پھوپھى خالہ پر مقدم ہو گى جيسا كہ اوپر بيان ہو چكا ہے، اور باپ كى جانب سے مرد ماں كى جانب سے مردوں پر مقدم ہونگے، اور باپ كى جانب سے بھائى ماں كى جانب سے بھائى پر اور چچا ماموں سے اولى ہے...

شارع نے احكام ميں سے كسى بھى حكم ميں ماں كے قرابت داروں كو مقدم نہيں كيا، لہذا جس نے انہيں پرورش ميں مقدم كيا اس نے شريعت كے اصول كى مخالفت كى، ليكن ماں كو اس ليے مقدم كيا گيا ہے كہ وہ عورت ہے، اور جنس عورت پرورش ميں مردوں پر مقدم ہيں.

اس كا تقاضا ہے كہ دادى كو دادے پر مقدم كيا جائے جس طرح ماں كو باپ پر مقدم كيا ہے، اور اس كى بہنوں كو اس كے بھائى پر مقدم كيا جائيگا، اور اس كى پھوپھيوں كو چچاؤں پر مقدم اور اس كى خالہ كو ماموں پر مقدم كيا جائے، اور يہ قياس اور اعتبار صحيح ہے.

رہا ماں كى جانب سے جنس عورت كو باپ كى جانب سے عورتوں پر مقدم كرنا تو يہ اصول اور عقل كے بھى مخالف ہے.

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 34 / 122 - 123 ).

اور رہا آپ كا اپنے بچوں سميت سفر كرنا تو اس كے متعلق سوال نمبر ( 21612 ) كے جواب ميں بيان ہو چكا ہے كہ اگر اس سفر ميں ان پر كوئى ضرر و نقصان نہ ہو تو پرورش كا حق آپ كو ہے اور وہ سفر سے ساقط نہيں ہو گا.

اوپر جو كچھ بيان ہوا ہے اس كا خلاصہ يہ ہوا كہ:

1 ـ سسرال سے آپ اپنى اولاد كى پرورش اور ديكھ بھال اور تربيت كے زيادہ حقدار ہيں.

2 ـ اگر آپ شادى كر ليں تو آپ كا حق پرورش ساقط ہو جائيگا، اور اولاد اپنى دادى كى طرف منتقل ہو جائيگى، اور اگر دادى نہ ہو تو پھر نانى كے پاس جائينگے.

3 ـ اولاد كے ساتھ آپ كا سفر كرنے ميں كوئى حرج نہيں ليكن يہ اس وقت ہے جب اس سفر ميں ان پر كوئى ضرر نہ ہو.

ہم آپ كو درج ذيل نصيحت كرتے ہيں:

اپنى اولاد كى اچھى تربيت اور ديكھ بھال كريں، اور اپنے سسرال والوں سے حسن سلوك كے ساتھ پيش آئيں اور ان سے قطع تعلق مت كريں، اور نہ ہى اپنى اولاد كو ان سے قطع تعلقى كرنے ديں، اور پورى سنجيدگى كے ساتھ شادى كے متعلق سوچيں كيونكہ اس ميں ہى آپ كى عفت و عصمت ہے، اور آپ كا اولاد سے تعلق منقطع نہيں ہو گا، اميد ہے اللہ تعالى آپ كو اور نيك و صالح اولاد سے نوازے گا.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments