109734: والد كا اولاد كى جانب سے نقدى ميں فطرانہ ادا كرنا


ميرے والد صاحب ميرى اور باقى بہن بھائيوں كى جانب سے ہر برس نقدى كى شكل ميں فطرانہ ادا كرتے ہيں، اور اس ميں وہ كچھ علماء كا فتوى پيش كرتے ہيں، ميں نے كئى بار انہيں مطمئن كرنے كى كوشش كى كہ يہ قول مرجوح ہے اور جمہور علماء كا قول راجح يہى ہے كہ فطرانہ ميں جنس اور غلہ ہى ادا كرنا چاہيے، جو احاديث ميں وارد ہيں ليكن وہ مطمئن نہيں ہوئے..
تو كيا ميں اپنا فطرانہ حديث كے مطابق خود ادا كروں، يہ علم ميں رہے كہ ميں يونيورسٹى ميں زير تعليم ہوں، اور ميرا مال وہى ہے جو والد صاحب كى جانب سے خرچ ملتا ہے اور ميں جمع كر ليتا ہوں ؟

Published Date: 2009-10-25

الحمد للہ:

جمہور علماء كرام كے ہاں فطرانہ ميں نقدى رقم ادا كرنے سے فطرانہ كى ادائيگى نہيں ہوتى كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے علاقے كے لوگوں كى خوراك ميں سے فطرانہ دينے كا حكم ديا ہے، اور صحابہ كرام ميں سے كسى سے يہ معروف نہيں كہ انہوں نے نقدى رقم ميں فطرانہ كى ادائيگى كى ہو.

امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" ہمارے نزديك فطرانہ ميں رقم دينا كافى نہيں امام مالك اور احمد اور ابن منذر كا بھى يہى قول ہے.

اور ابو حنيفہ رحمہ اللہ كہتے ہيں: فطرانہ ميں نقد رقم دينا جائز ہے، اور ابن منذر نے اسے حسن بصرى اور عمر بن عبد العزيز اور ثورى سے بھى بيان كيا ہے.

اور وہ كہتے ہيں: اسحاق اور ابو ثور كا قول ہے: يہ صرف ضرورت كے وقت كفائت كريگى اس كے بغير نہيں " انتہى

ديكھيں: المجموع ( 6 / 113 ) اور الموسوعۃ الفقھيۃ ( 23 / 343 - 344 ) كا بھى مطالعہ كريں.

مزيد آپ سوال نمبر ( 22888 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

جو شخص امام ابو حنيفہ اور عمر بن عبد العزيز اور حسن بصرى كے قول پر دليل كے ساتھ جو اس كے نزديك راجح ہو كہ نقد رقم ميں فطرانہ كى ادائيگى جائز ہے ان شاء اللہ يہ كافى اور ادا ہو جائيگا.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

اگر كوئى شخص اپنے ملك اور علاقے كے علماء كے قول پر عمل كرتے ہوئے فطرانہ ميں نقد رقم ادا كرتا ہے، اور پھر بعد ميں اسے راجح قول كا علم ہو تو اس فطرانہ كے بارہ ميں اس پر كيا لازم آتا ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" اس پر لازم نہيں، اس نے كسى عالم دين كے فتوى پر يا پھر اپنے علاقے كے علماء كى اتباع كرتے ہوئے كچھ عمل كيا تو اس پر كچھ لازم نہيں اس كى مثال يہ ہے كہ:

اگر كوئى عورت اپنے زيور كى زكاۃ ادا نہيں كرتى اور كئى برس تك اسے يہ علم ہى نہ تھا كہ زيور ميں زكاۃ واجب ہے، يا پھر علماء كے فتوى كے مطابق كے زيور ميں زكاۃ نہيں، اور پھر بعد ميں اس پر واضح ہوا كہ اس ميں زكاۃ ہے تو جب اس كو پتہ چل جائے اور واضح ہو جائے تو وہ زكاۃ ادا كريگى، اور اس سے پہلے برسوں كى زكاۃ لازم نہيں ہو گى " انتہى

ديكھيں: لقاءات الباب المفتوح ملاقات نمبر ( 191 ) سوال نمبر ( 19 ).

اس سے يہ واضح ہوا كہ آپ كى جانب سے آپ كے والد كا علماء كے فتوى پر عمل كرتے ہوئے نقد رقم ميں فطرانہ ادا كرنا صحيح اور كفائت كر جائيگا، اور فطرانہ كى دوبارہ ادائيگى كا تكلف نہيں كيا جائيگا، اس وقت تك جبكہ آپ كے اخراجات آپ كے اخراجات والد كے ذمہ ہيں، اور ابھى آپ اپنے اخراجات عليحدہ طور پر برداشت كرنے كے متحمل نہيں ہوئے "

واللہ اعلم.

الاسلام سوال و جواب
Create Comments