ar

110602: دوسرى شادى كى وجہ سے پہلى بيوى كے معاملات ميں تبديلى اور خاوند كو ناپسند كرنا


ميں اپنے خاوند اور بچوں كے ساتھ بڑى اچھى زندگى بسر كر رہى تھى كہ خاوند نے دوسرى شادى كر لى تو ميرے اندر بغض كے احساسات پيدا ہونے لگے اور جب ميں اسے ديكھتى ہوں تو وہ اچھا نہيں لگتا، مجھے كيا كرنا چاہيے ؟

Published Date: 2009-12-30

الحمد للہ:

اول:

آپ كے اندر خاوند كو ديكھ كر بغض كے احساسات كے متعلق ہميں تو علم نہيں كہ آيا يہ دوسرى شادى كى بنا پر ہيں يا كہ آپ كے ساتھ اس كا رويہ اچھا نہ ہونے اور دوسرى بيوى كو آپ سے اچھا اور افضل سمجھنے كى وجہ سے ہيں.

اگر پہلا سبب يعنى دوسرى شادى كرنے كى وجہ سے ہے تو مرد كے ليے دوسرى شادى كرنا كوئى گناہ نہيں، بلكہ بعض اوقات تو خاوند پر دوسرى شادى كرنا واجب ہو جاتا ہے، اور يہ سب بيويوں كے مابين عدل و انصاف كرنے سے مشروط ہے، اللہ سبحانہ و تعالى نے مرد كے ليے چار بيويوں كو ركھنا مباح كيا ہے ليكن شرط يہ ہے كہ اگر وہ ان سب ميں نفقہ اور لباس اور رات بسر كرنے ميں عدل كر سكتا ہو، ليكن اگر وہ عدل نہيں كر سكتا تو اس كے ليے ايك سے زائد شادى كرنا حرام ہے، اور اسے ايك ہى بيوى پر اكتفا كرنا چاہيے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

 اور اگر تمہيں ڈر ہو كہ يتيم لڑكيوں سے نكاح كر كے تم انصاف نہ ركھ سكو گے تو اور عورتوں سے جو بھى تمہيں اچھى لگيں تم ان سے نكاح كر لو، دو دو، تين تين، چار چار سے، ليكن اگر تمہيں ڈر ہو كہ عدل نہ كر سكو گے تو ايك ہى كافى ہے يا پھر تمہارى ملكيت كى لونڈى يہ زيادہ قريب ہے كہ ايك طرف جھك جانے سے بچ جاؤ  النساء ( 3 ).

عادتا مرد دوسرى شادى اس وقت كرتا ہے جب اسے ضرورت ہو؛ كيونكہ دوسرا گھر بنانا اس كے ليے بوجھ ہے اور مرد بغير كسى ضرورت كے اور بوجھ نہيں اٹھانا چاہتا، يا پھر وہ دوسرى شادى اس ليے كرنا چاہتا ہے كہ اس كو كوئى ايسى عورت مل گئى جس سے اس كا دل معلق ہو چكا ہے، اور وہ اس عورت سے شريعت كے مطابق جمع ہونا چاہتا ہے، اور يہ شادى كے بغير ممكن نہيں.

ايك سے زائد شادياں كرنے كى بہت عظيم حكمت ہيں جو اس پر غور كرے تو وہ ان حكمتوں كو پا سكتا ہے، اس ليے ايك سے زائد شادى كرنے والے شخص كو لوگوں كے ليے برا اور غلط نمونہ نہيں بننا چاہيے، كہ وہ كسى ايك بيوى پر ظلم كرے اور اس كے حقوق سلب كرے اور ايك كى طرف مائل ہو جائے.

ہم سوال كرنے والى فاضلہ بہن سے عرض كرينگے كہ: ايك سے زائد شادياں كرنے والے شخص كى بيويوں كے مابين جو غيرت پيدا ہوتى ہے يا پھر ان ميں جو ازدواجى مشكلات پيدا ہو جاتى ہيں اس سے زيادہ مشكلات اور غيرت تو صرف ايك ہى شادى كرنے والے كے ہاں بھى پائى جاتى ہيں، بلكہ عالم اسلام ميں طلاق كا تناسب ايك سے زائد بيويوں والے اشخاص ميں تو بہت ہى كم نظر آتا ہے، اور پھر مشكلات تو ہر گھر ميں ہوتى ہيں چاہے وہاں سوكن نہ بھى ہو.

اور اگر آپ كے خاوند ميں معاملات كى تبديلى اور بغض كا سبب دوسرى بيوى كى خوبصورتى يا چھوٹى عمر كى ہونے كى وجہ سے اس كى طرف ميلان ہے تو خاوند ظالم اور گنہگار ہے اس كے ليے شريعت كا التزام كرتے ہوئے اللہ كے حكم كى پابندى كرنا ضرورى ہے، كہ وہ بيويوں كے مابين عدل و انصاف كرے، اور ہر بيوى كو اس كا واجب كردہ حق ادا كرے.

شيخ محمد امين شنقيطى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

بلاشك و شبہ سب سے بہتر اور سيدھى راہ يہى ہے: محسوس امور كى بنا پر ايك سے زائد شادياں كرنے كى اباحت كو ہر عقل و دانش والا جانتا ہے.

اس ميں يہ بھى ہے كہ:

ايك بيوى ہو تو اسے حيض بھى آئيگا، اور نفاس بھى اور وہ بيمار بھى ہو سكتى ہے، اس كے علاوہ كئى ايك اسباب ايسے ہيں جس كى بنا پر زوجيت كا مخصوص عمل رك جاتا ہے، اور پھر مرد تو امت كو زيادہ كرنے ميں پورا مستعد ہے، اس ليے اگر بيوى كى ان علتوں اور عذروں كى بنا پر وہ اس سے ركا رہے تو بغير كسى گناہ كے ہى منافع جات معطل ہو كر رہ جائينگے.

اور اس ميں يہ بھى ہے كہ: اللہ تعالى نے عادتا پورى دنيا ميں مردوں كى تعداد عورتوں سے كم بنائى ہے، اور زندگى كے سارے ميدانوں ميں موت كا شكار بھى زيادہ عورتيں ہيں، اس ليے اگر مرد صرف ايك بيوى پر ہى اكتفا كرے تو بہت سارى عورتيں شادى سے محروم رہ جائينگي، جس كا نتيجہ ميں وہ فحاشى كى طرف مائل ہونگى اور بدكارى كا شكار ہو جائينگى.

اس ليے اس مسئلہ ميں قرآن مجيد كے راہ اور راہنمائى سے پيچھے ہٹنا اخلاق كے ضياع اور جانوروں كے درجہ تك انحطاط تك جاپہنچنے كا سبب ہے، اور اسى طرح شرف و مرتبہ اور مروؤت كے بھى ضياع كا باعث ہے، لہذا اللہ پاك و تعريف والا ہے جس نے يہ حكم نازل كيا اور وہ خبردار ہے، اس كى كتاب قرآن مجيد كى آيات پرحكمت ہيں، اور پھر يہ قرآن مجيد تو حكيم و خبير كى جانب سے نازل كردہ ہے.

اور اس ميں يہ بھى شامل ہے كہ: سب عورتيں شادى كے ليے مستعد ہوتى ہيں اور ان ميں شادى كى استطاعت پائى جاتى ہے؛ كيونكہ عورت كو اس ميں كوئى مانع نہيں، ليكن اس كے برعكس مردوں ميں كچھ ايسے لوگ بھى ہوتے ہيں جو فقر و فاقہ كى بنا پر شادى كے لوازمات پورے كرنے پر قاصر ہوتے ہيں.

چنانچہ شادى كے ليے مستعد مرد عورتوں كى بنسبت كم ہيں؛ كيونكہ عورت كو شادى ميں كوئى مانع نہيں ہے، اور مرد كے ليے فقر و فاقہ اور نكاح كى عدم قدرت مانع بن سكتى ہے.

اس ليے اگر مرد ايك ہى بيوى پر اكتفا كرے تو خاوند نہ ملنے كى بنا پر شادى كے ليے مستعد بہت سارى عورتيں ضائع ہو جائينگى، تو اس طرح يہ چيز شرف و فضيلت كے ضياع اور بےحيائى اور بدكارى پھيلنے كا باعث اور اخلاقى انحطاط اور انسانى قيم كے ضياع كا باعث بنےگا.

اور اگر مرد كو خدشہ ہو كہ وہ عدل و انصاف نہيں كر سكےگا تو اس كے ليے ايك ہى بيوى پر اكتفا كرنا واجب ہے، يا پھر وہ لونڈى ہى كافى ہے؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

 يقينا اللہ تعالى عدل و انصاف اور احسان كا حكم ديتا ہے النحل ( 90 ).

بيويوں كے شرعى حقوق ميں كسى ايك كو فضيلت دينا اور كسى ايك كى طرف مائل ہونا جائز نہيں كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

 تو تم بالكل ہى ايك كى جانب مائل نہ ہو كر دوسرى ك وادھر لٹكتى ہوئى نہ چھوڑو النساء ( 129 ).

رہا طبعى ميلان كہ ان ميں كسى ايك كے ساتھ دوسرى سے زيادہ محبت كرنا تو يہ بشر كى استطاعت ميں نہيں؛ كيونكہ يہ نفسى انفعال ہے اور نفسى تاثر ہے نہ كہ فعل اور اللہ كے فرمان سے بھى يہى مراد ہے:

 تو تم بالكل ہى ايك كى جانب مائل نہ ہو كر دوسرى ك وادھر لٹكتى ہوئى نہ چھوڑو النساء ( 129 ).

جيسا كہ اس كے علاوہ كئى اور مقامات پر بھى ہم وضاحت كر چكے ہيں.

اور بعض اسلام دشمن ملحد قسم كے لوگ يہ خيال ركھتے ہيں كہ ايك سے زائد شادياں كرنا ہميشہ جھگڑے اور فساد كا باعث ہے، اور زندگى اجيرن كر كے ركھ ديتا ہے؛ كيونكہ جب بھى وہ دونوں ميں سے ايك سوكن كو راضى كريگا تو دوسرى ناراض ہو جائيگى، اور خاوند ہميشہ ايك كى ناراضگى ميں رہےگا، اور يہ كوئى حكمت ميں سے نہيں.

اس ملحد كى يہ كلام ساقط اور بالكل غلط ہے، اس كا سقوط ہر عقلمند كے ليے واضح ہے؛ كيونكہ جھگڑا اور فساد تو ہر گھر ميں پايا جاتا ہے اور يہ كبھى اس سے جدا نہيں ہو سكتا، لہذا مرد اور اس كى والدہ، آدمى اور اس كے والد، اور بعض اوقات اس كى اولاد، اور كبھى مرد اور اس كى ايك ہى بيوى كے مابين جگھڑا ہو جاتا ہے يہ ايك عادى اور عام سى چيز ہے، يہ كوئى بڑى بات نہيں، اور يہ چيز ان مصلحتوں كے ساتھ ہى ہے جو ہم ايك سے زائد شاديوں كے متعلق بيان كر چكے ہيں كہ اس سے عورتوں كى حفاظت ہوتى ہے، اور ان سب عورتوں كى شادى كے ليے آسانى بھى ہے، اور پھر امت اسلاميہ كے افراد كى كثرت كا باعث ہے تا كہ اسلام كے نام ليوا كى تعداد زيادہ ہو، يہ دونوں چيزيں ہى ہيں؛ اس ليے كہ عظيم مصلحت كو چھوٹى خرابى پر مقدم كيا جائيگا.

اور اگر ہم فرض كريں كہ ايك سے زائد شاديوں ميں يہ مزعوم جگھڑے خرابى كا باعث ہيں، يا پہلى بيوى كے دل ميں اس كى سوكن كى وجہ سے خرابى پيدا ہوتى ہے تو بھى اس راجح مصلحت كو ہم مقدم كرينگے جس كا ذكر ہو چكا ہے جيسا كہ اصول ميں معروف بھى ہے " انتہى

ديكھيں: اضواء البيان ( 3 / 114 - 115 ).

دوم:

اور ہم خاوند كى حالت بدلنے والى بيوى كو يہ نصيحت كرتے ہيں كہ وہ اس كى تبديلى كے اسباب تلاش كرے، اگر تو اس كى تبديلى كا سبب خاوند كى حقوق ميں بيوى كى جانب سے كوتاہى ہے تو بيوى اپنے آپ كو درست كرے اور ان اسباب كا علاج كرے، اور خاوند كے جن حقوق ميں بيوى نے كوتاہى كى ہے اس پر متنبہ رہے اور كوتاہى مت كرے.

كيونكہ بعض عورتيں اپنے آپ كو خوبصورت ركھنے ميں كوئى دھيان نہيں ديتيں، اور نہ ہى اپنے ارد گرد كو خوبصورت ركھنے كى كوشش كرتى ہيں، اور بن سنور كر نہيں رہتيں، اور بلكہ وہ اپنے خاوند كے ساتھ ايسے رہتى ہيں جيسے ايك روٹينى زندگى كاٹ رہى ہوں.

اس ميں كوئى شك نہيبں كہ مرد حضرات راستوں اور فضائى چينلوں اور كام كاج كى جگہوں پر مختلف عورتوں كو مختلف اشكال ميں بنى سنورى ديكھتے ہيں، ايك عقلمند عورت كو اس پر متنبہ رہنا چاہيے، اور وہ خوبصورت بن كر اور خوشبو لگا كر رہے اور اپنے خاوند كى بہتر اور اچھى سے اچھى خدمت كرے اور اس كا خيال ركھے.

اس طرح وہ خاوند كے ليے ان اسباب سے كافى ہو سكتى ہے جس كى وجہ سے وہ دوسرى شادى كرنا چاہتا ہے، اسى طرح بعض عورتيں اپنى اولاد ميں ہى مكمل طور پر مشغول رہتى ہيں اور يہ چيز اس كے خاوند كے حقوق كے حساب پر ہوتى ہے اور خاوند كو بيوى كى ضرورت ہوتى ہے وہ اس وقت بھى اولاد ميں مشغول رہتى ہے، يہ چيز خاوند كو اس سوچ پر مجبور كرديتى ہے كہ وہ ايك اور گھر بنائے، اس ليے بيويوں كو يہ چيز بھى سمجھنى چاہيے اور اس پر بھى متنبہ رہيں.

اور اگر خاوند كى تبديلى اس كى نفسانى خواہش كى بنا پر ہے تو پھر يہ خاوند وعظ و نصيحت كا محتاج ہے، اور اگر حسد يا نظر بد يا جادو كے باعث اس ميں تبديلى پيدا ہوئى ہے تو پھر وہ شرعى دم كا محتاج ہے؛ كيونكہ ايسا بھى ہو سكتا ہے اور اس كا انكار نہيں كيا جا سكتا، اور اسى طرح كا وہم بھى نہيں كرنا چاہيے كہ يہ وسوسہ اور اعتقاد بنا ليا جائے، حالانكہ حقيقت حال ميں ايسا نہ ہو.

حاصل يہ ہوا كہ:

عورت كے ليے ضرورى ہے كہ وہ سب سے پہلے تو اپنے اندر تلاش كرے اگر وہ اپنے آپ ميں كوئى كوتاہى اور خلل پاتى ہے تو اپنے آپ كى جلد اصلاح كرے اور جو كوتاہى ہے اس كو دور كرے.

اور اگر خاوند كى جانب سے كوتاہى ہے تو وہ اس مصيبت پر صبر كرے، اور اس كے رد فعل ميں وہ جو كچھ ظلم و زيادتى اور كوتاہى اور خاوند كے ساتھ برا سلوك كرنے كا مرتكب ہو رہى ہے وہ اس كى ليے كوئى ممد و معاون نہيں ہوگا، بلكہ اسے چاہيے كہ وہ حسب استطاعت كسى بھى طريقہ سے خاوند كا ظلم روكنے يا اس ميں كمى كرنے ميں معاونت كرے.

اور اسے يہ علم ہونا چاہيے كہ وہ اس كا گھر اور خاوند كا ٹھكانہ، يہ سب كوتاہى اور زيادتى كے باوجود اس گھر كو تباہ كرنے اور اولاد كو منتشر كرنے سے بہتر ہے.

اور پھر يہ بھى ہوتا ہے كہ بہت سارے خاوند كچھ معين وقت تك ظلم كرنے كا شكار رہتے ہيں، ہو سكتا ہے نئى بيوى كى چھوٹى عمر كى بنا پر ہو جس كى خوبصورتى كو حمل اور رضاعت نے نہ چھينا ہو، اور وہ اپنى اولاد ميں مشغول نہ ہوئى ہو، اور كچھ ہى مدت ميں دوسرى بيوى كو بھى پہلى جيسى حالت مل جاتى ہے تو سب كچھ اپنى طبعى حالت ميں واپس آ جاتا ہے.

اللہ كى بندى آپ يہ بھى ياد ركھيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما كو وصيت فرمائى تھى اور يہ وصيت بہت ہى مشہور و معروف ہے جس كے آخر ميں آپ نے يہ فرمايا:

" اے بچے: اللہ كى حفاظت كرو، اللہ تمہارى حفاظت فرمائيگا، اللہ كى حفاظت كرو اللہ كو تم اپنے سامنے پاؤ گے، تم آسانى ميں اللہ كو ياد كرو اللہ تعالى تمہيں تنگى ميں ياد ركھےگا اور جب مانگو تو اللہ سے ہى مانگو، اور جب مدد طلب كرو تو بھى اللہ سے مدد طلب كرو، جو ہونے والا ہے قلم خشك ہو چكى ہے؛ اگر سارى مخلوق اكٹھى ہو كر تمہيں كوئى نفع دينا چاہيں اللہ نے وہ فائدہ تمہارے ليے نہ لكھا ہو تو وہ اس فائدہ كى قدرت نہيں ركھ سكتے، اور اگر وہ تجھے كوئى نقصان دينے كى كوشش كريں جسے اللہ نے تمہارے ليے نہيں لكھا تو وہ اس كى استطاعت نہيں ركھ سكتے "

اور آپ يہ بھى جان ليں كہ آپ جس كو ناپسند كرتى ہيں اس ميں صبر كرنا آپ كے ليے بہت ہى بہترى ہے، اور يہ كہ صبر كے ساتھ ہى مدد و نصرت حاصل ہوتى ہے، اور پھر تنگى اور مشكل سے نجات بھى تنگى كى بعد ہى ہوتى ہے، اور مشكل كے ساتھ آسانى بھى ہوتى ہے "

مسند احمد حديث نمبر ( 2800 ) مسند احمد كے محققين نے اسے صحيح قرار ديا ہے.

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ آپ دونوں كو خير و بھلائى پر جمع كرے، اور آپ كو جو تكليف اور مشكل آئى ہے اس كو آپ كے گناہوں كا كفارہ بنائے، اور آپ كى حالت ميں اس حالت سے بدل دے جو آپ كے پروردگار كے ہاں افضل و بہتر ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments