111813: کیا استنجاء کیلئے ٹشو پیپر استعمال کرنا کافی ہوگا؟


کیا استنجاء کیلئے ٹشو پیپر استعمال کرنا کافی ہے؟ یا پانی لازمی استعمال کرنا پڑے گا؟

Published Date: 2014-08-25

الحمد للہ:

قضائے حاجت کے بعد جسم سے نجاست کو دور کرنا ضروری ہوتا ہے، چاہے پانی سے زائل کی جائے یا پتھر، کاغذ، اور ٹشو پیپر وغیرہ جیسی کسی اور چیز سے، اگرچہ پانی استعمال کرنا افضل ہے۔

دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام سے پوچھا گیا:

"ہم برطانیہ میں رہتے ہوئے حمام میں استنجاء کیلئے ٹشو پیپر اور کاغذ استعمال کرتے ہیں، تو کیا ہمیں ٹشو پیپر استعمال کرنے کے بعد پانی بھی استعمال کرنا پڑے گا؟

تو انہوں نے جواب دیا:

الحمد لله وحده والصلاة والسلام على رسوله وآله وصحبه .. وبعد:

استنجاء کیلئے ٹشو پیپر یا کاغذ وغیرہ استعمال کرنا جائز ہے، بشرطیکہ ان کے ذریعے دونوں شرمگاہوں کو اچھی طرح صاف کیا جاسکتا ہو، اور بہتر یہ ہے کہ طاق تعداد میں انہیں استعمال کیا جائے، اور کم از کم تین بار صاف کیا جائے، اور اسکے بعد پانی استعمال کرنا واجب نہیں سنت ہے۔

وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم "ا نتہی

شيخ عبد العزيز بن عبد الله بن باز .. شيخ عبد الرزاق عفيفی .. شيخ عبد الله بن غديان .. شيخ عبد الله بن قعود۔

"فتاوى اللجنة الدائمة" (5/125)

شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:

کیا استنجاء کرتے ہوئے ٹشو پیپر استعمال کرنا کافی ہے؟

تو انہوں نے جواب دیا:

"جی ہاں! استنجاء کیلئےٹشو پیپر کا استعمال کافی ہے، اس میں کوئی حرج والی بات بھی نہیں، کیونکہ استنجاء کا مقصد نجاست کو زائل کرنا ہے، چاہے وہ ٹشو پیپر سے ہو یا کپڑوں کے چیتھڑوں سے، مٹی سے، یا پتھر سے، ہاں کسی ایسی چیز کو استنجاء کیلئے استعمال نہ کرے جنہیں استنجاء کیلئے استعمال کرنا منع قرار دیا گیا ہے، مثلا : ہڈی، اور لید، اسکی وجہ یہ ہے کہ ہڈیاں کسی ذبیحہ جانور کی ہوں تو یہ جنوں کا کھانا ہے، اور اگر کسی غیر ذبیحہ جانور کی ہڈیاں ہوں تو یہ پلید ہیں، جبکہ پلید چیز پاک نہیں کرسکتی، اور اسی طرح اگر لید [کسی غیر مأکول اللحم جانور کی ہونے کی وجہ سے] خود ہی پلید ہے تو پلید پاک نہیں کرسکتا ، اور اگر لید [مأکول اللحم جانور کی ہونے کی وجہ سے]پاک ہے، تو یہ جنوں کے جانوروں کا کھانا ہے، اسکی وجہ یہ ہے کہ جو جن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر مسلمان ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکی ایسی مہمان نوازی کی کہ قیامت تک مسلسل جاری رہے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: (تمہارے لئے ہر وہ ہڈی حلال ہے جس پر اللہ کانام لیا گیا تھا، تمہارے لئے یہ ہڈیاں گوشت سے زیادہ وافر مقدار میں ہونگی) اور ہڈی کے بارے میں یہ جاننا کہ ذبیحہ جانور کی ہے یا کسی اور کی ، تو یہ غیبی علم ہے، اسکا مشاہدہ نہیں ہوسکتا، لیکن اسکے باوجود ہم پر یہ لازم ہوتا ہے کہ اس پر ایمان رکھیں، اسی طرح لید بھی جنوں کے جانوروں کی خوراک ہیں"انتہی

"مجموع فتاوى ابن عثيمين" (4/112)

واللہ اعلم .

اسلام سوال وجواب
Create Comments