ar

112092: كيا توبہ سے قبل تعلقات ركھنے والى بيوى كو طلاق دينے پر گناہ ہوگا ؟


ميں نوجوان ہوں اور تين برس قبل ميں نے اپنے سے ايك برس چھوٹى بيوى سے شادى كى، الحمد للہ ميرى اس سے دو برس كى بيٹى بھى ہے، مشكل يہ ہے كہ ہمارے درميان ابھى تك سمجھوتہ نہيں ہے، ہمارا ہميشہ آپس ميں تصادم ہى رہتا ہے كيونكہ وہ بہت غصہ والى ہے، اور اكثر اسے كوئى چيز پسند نہيں آتى اور پھر وہ بہت زيادہ شكوى شكايت كرنے والى بھى ہے، اور ميرے گھر والوں كے ساتھ سمجھوتہ نہيں كرتى.
اس پر مستزاد يہ كہ مجھے اس كے ماضى ميں شك ہے وہ شادى سے قبل يونيورسٹى ميں تعليم حاصل كرنے كے عرصہ ميں سگرٹ نوشى كرتى اور نائٹ كلب جانے والوں ميں شامل تھى، اس نے شادى سے قبل ميرے سامنے اس كا اعتراف بھى كيا تھا، اور يقين كے ساتھ كہنے لگى كہ ان امور سے تجاوز نہيں ہوا.
ليكن ايك برس قبل اچانك مجھے اس كے ذاتى كاغذات ميں سے ايك ميڈيكل سرٹيفكيٹ ملا ( اس كى تاريخ شادى سے ايك برس قبل كى ہے ) جس ميں اسے كنوارہ ثابت كيا گيا ہے، ميں نے اسے اس كے بارہ ميں دريافت كيا اور اس سے اس سرٹيفكيٹ حاصل كرنے كى وجہ دريافت كى كہ اگر وہ اپنے كنوارہ ہونے ميں شك نہيں ركھتى تھى تو پھر وہ ڈاكٹر سے يہ رپورٹ لينے كيوں گئى ؟
اس نے جواب ديا: كہ اس كى كچھ سہيلوں نے يہ كہا كہ ايسا كرنا روٹين كى بات ہے جو لڑكى اس ليے كرتى ہے كہ كہيں رخصتى كى رات كچھ خاوند حضرات مشكل كھڑى كر ديتے ہيں اس سے بچنے كے ليے ايسا كيا جاتا ہے، ليكن ميں مطمئن نہ ہوا، حالانكہ مجھے اس كے كنوارہ ہونے كا يقين تھا ليكن اس كے باوجود ميں شك ميں پڑا رہا.
آپس ميں مشكلات كى كثرت اور سمجھوتے ميں صعوبت ہونے كے ساتھ ساتھ شك كى بنا پر ميں حقيقى طور پر اسے طلاق دينے كے بارہ ميں سوچنے لگا تا كہ فتنہ و خرابى سے اجتناب كر سكوں اور اپنے اور اس پر رحم كروں.
ميرا سوال يہ ہے كہ: كيا ہر حال ميں طلاق حرام ہے يا حلال، اور اگر اس حالت ميں طلاق ديتا ہوں تو كيا گنہگار شمار كيا جاؤنگا ؟
برائے مہربانى شافى جواب سے نوازيں، اور آپ كے وسعت صدر سے سوال قبول كرنے پر آپ كا شكريہ.

Published Date: 2012-01-22

الحمدللہ:

اول:

اصل ميں طلاق مقصود شريعت كے خلاف ہے، كيونكہ شريعت تو چاہتى ہے كہ خاوند اور بيوى آپس ميں محبت و الفت كے ساتھ ايك ہى گھر ميں رہيں، اور پھر اللہ سبحانہ وتعالى نے اس الفت ومحبت كو لوگوں پر بطور احسان اور نعمت ذكر كيا ہے، اور اسے اللہ سبحانہ و تعالى كى نشانيوں ميں بنايا ہے، اس كے ساتھ ساتھ اس شادى كے نتيجہ ميں اولاد كا حصول بھى ہوتا ہے.

شرعى دلائل اس پر دلالت كرتے ہيں كہ خاوند اور بيوى كے مابين عليحدگى اور تفريق جادوگروں كے قبيح ترين افعال ميں شامل ہوتا ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى نے جادوگروں كے بارہ ميں ذكر كرتے ہوئے فرمايا:

{ چنانچہ ان دونوں سے وہ ايسى چيز سيكھتے ہيں جو خاوند اور اس كى بيوى كے مابين جدائى ڈال ديتى ہے }البقرۃ.

اور پھر يہ عمل تو شيطانوں كے عظيم افعال ميں شامل ہوتا ہے جس سے وہ ابليس كا قرب حاصل كرتے ہيں.

جابر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" بلاشبہ ابليس اپنا تخت پانى پر لگاتا اور پھر اپنے لشكر كو بھيجتا ہے، اور ان ميں شيطان كے سب سے زيادہ قريب مقام اور مرتبہ والا شيطان وہ ہوتا ہے جو سب سے بڑا اور عظيم فتنہ بپا كرنے والا ہو، ان ميں سے ايك شيطان آ كر كہتا ہے، ميں نے يہ كيا اور يہ كيا، تو ابليس كہتا ہے: تم نے كچھ بھى نہيں كيا، اور ايك شيطان آ كر كہتا ہے ميں نے اس وقت تك اس كو نہيں چھوڑا جب تك اس كے اور اس كى بيوى كے درميان جدائى نہيں كرا دى، ابليس اسے اپنے قريب كرتا اور كہتا ہے ہاں تم نے كام كيا ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 2813 ).

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اصل ميں طلاق ممنوع ہے، يہ تو صرف بقدر ضرورت اور حاجت مباح كى گئى ہے " اھـ

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 33 / 81 ).

ليكن اس كا معنى يہ نہيں كہ طلاق ممنوع يا حرام ہے بلكہ بعض اوقات طلاق واجب ہو جاتى ہے اور بعض اوقات مستحب يا پھر مباح يا مكروہ.

كچھ حالات ميں طلاق واجب ہو جاتى ہيں جن ميں سے چند ايك درج ذيل ہيں:

اگر طلاق كا كوئى ايسا سبب ہو جس كى بنا پر ازدواجى زندگى تباہ ہو رہى ہو، مثلا بيوى كا اپنى عزت و شرف كى حفاظت ميں سستى و كاہلى سے كام لينا.

يا پھر آپس ميں اختلافات ہونے كى صورت ميں آپس ميں اصلاح كى صورت نكلنا ناممكن ہو اور اس كى اصلاح سے عاجز ہو جائے.

يا پھر خاوند ميں كوئى ايسا عيب پايا جاتا ہو جس كى بنا پر ازدواجى زندگى بسر كرنا مشكل ہو يعنى وہ عيب ازدواجى زندگى ميں حائل ہو جائے اور ازدواجى تعلقات قائم نہ كيے جا سكيں، مثلا خاوند بانجھ ہو، اور بيوى عفت و عصمت چاہتى ہو.

ان حالات ميں طلاق واجب ہو جائيگى، اور اسى طرح اگر خاوند اپنى بيوى كو اچھے طريقہ سے نہيں ركھتا اور اللہ تعالى نے اس پر جو بيوى كے حقوق واجب كيے ہيں ا نكى ادائيگى نہيں كرتا تو بھى طلاق واجب ہو جائيگى.

اور طلاق كئى حالت ميں مستحب ہوتى ہے جن ميں سے چند ايك درج ذيل ہيں:

اگر طلاق كا سبب اور باعث بيوى كا برا اخلاق ہو، اور بيوى اپنے خاوند كو تكليف و اذيت سے دوچار كرتى ہو، يا پھر خاوند كے رشتہ داروں اور پڑوسيوں كو زبانى يا بالفعل اذيت دينے كا باعث بنتى ہو، يا پھر طلاق كا سبب بيوى كا خاوند سے نفرت كرنا ہو.

اور طلاق مباح ان حالات ميں ہوگى:

خاوند اس بيوى كے علاوہ كسى دوسرى بيوى سے شادى كرنا چاہتا ہو اور ايك سے زائد بيوى ركھنے كى استطاعت نہ ہو تو پہلى بيوى كو طلاق دينا مباح ہے، يا پھر طبعيت ميں نفرت ہو جائے.

طلاق مكروہ ان حالات ميں ہوگى:

اگر بيوى كى حالت اور اخلاق صحيح ہے، اور ان كى الاد بھى ہے جن كے ضائع ہونے كا خدشہ ہو، يا پھر بيوى اپنے ملك اور علاقے سے دور اور اجنبى ہو.

دوم:

عزيز بھائى: ہميں تو آپ پر بہت تعجب ہوا ہے كہ آپ كا كہنا ہے:

آپ كى بيوى نے اعتراف كيا ہے كہ وہ شادى سے قبل نائٹ كلب جاتى رہى ہے، اور اس كى توبہ كرنے كے بعد آپ نے اسے قبول كر ليا، اور پھر آپ كو جب اس كے كنوارہ ہونے كا سرٹيفكيٹ نظر آيا تو آپ اس سے ناراض ہو رہے ہيں!

بلكہ اس سے تو يہ يقين ہو جاتا ہے كہ اس كى بات صحيح ہے كہ وہ بڑى فحاشى كے كام ميں نہيں پڑى، اور وہ اس ميں بھى سچى ہو سكتى ہے كہ اس نے تو اپنا چيك صرف اس ليے كرايا تا كہ سہاگ رات وہ اپنا كنوارہ پن ثابت كر سكے.

بہر حال: اگر آپ نے اس كى توبہ اور اس كى بات كو قبول كر ليا ہے كہ اس نے اپنى جاہليت كو پيچھے پھينك ديا اور توبہ كر لى ہے تو پھر سرٹيفكيٹ ديكھ كر آپ كا نظريہ تبديل نہيں ہونا چاہيے، جس كے بارہ ميں ہم سب سے برى حالت ميں يہى كہہ سكتے ہيں كہ وہ اسع رصہ ميں فساد و فتنہ اور غلط جگہوں پر جانے والوں ميں شامل رہى ہے.

اور اگر آپ كو اب بھى اس كى توبہ اور سچائى ميں شك ہے اور رہےگا، اور آپ ديكھتے ہيں كہ آپ اس كے ساتھ صحيح طرح نہيں رہ سكتے، اور اس كے ساتھ رہتے ہوئے شك آپ كو تنگ كرتا رہےگا، خاص كر خاندانى مشكلات كى موجودگى ميں، اس صورت ميں ہمارى رائے تو آپ كو يہى ہے كہ آپ اسے طلاق دے ديں اور اس سے اچھا سلوك كريں، جيسا كہ اللہ سبحانہ و تعالى نے آپ كو حكم ديا ہے:

{ يا تو اچھى طرح ركھو، يا پھر اچھے طريقہ سے چھوڑ دو }البقرۃ ( 229 ).

ہمارى اللہ سبحانہ و تعالى سے دعا ہے كہ وہ آپ دونوں كو اپنى وسعت و فضل سے غنى كر دے، اور آپ كو اس كا نعم البدل عطا فرمائے، اور اسے بھى آپ سے بہتر خاوند عطا كر كے نعم البدل سے نوازے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments