112096: دائمى بيمارى كى بنا پر روزے چھوڑے اور فديہ ادا كر ديا


ايك شخص كو دائمى بيمارى كى وجہ سے ڈاكٹروں نے روزہ نہ ركھنے كى تلقين كى، ليكن اس نے كسى دوسرے ملك كے ڈاكٹروں سے علاج كراويا اور پانچ برس بعد اللہ كے حكم سے شفايابى ہوئى.
سوال يہ ہے كہ اس نے پانچ برس تك روزے نہيں ركھے تھے كيا وہ شفايابى حاصل ہونے كے بعد ان روزوں كى قضاء كريگا يا نہيں ؟

Published Date: 2011-09-26

الحمد للہ:

" اگر تو وہ ڈاكٹر جنہوں نے اسے مستقل روزے نہ ركھنے كى نصيحت كى تھى قابل اعتماد مسلمان ڈاكٹر تھے، اور انہوں نے اسے بتايا كہ اس بيمارى سے شفايابى كى اميد نہيں تو اس شخص پر قضاء نہيں ہے، بلكہ اسے فديہ ميں كھانا دينا ہى كافى ہوگا، اور اب اسے مستقبل ميں روزے ركھنے ہونگے " انتہى

فضيلۃ الشيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ .

ديكھيں: فتاوى الشيخ ابن باز ( 15 / 355 ).
Create Comments