ar

112143: ميت كے گھر قرآن خوانى كا اجتماع كرنا


كچھ علاقوں ميں ايك عادت پائى جاتى ہے كہ جب كوئى شخص فوت ہو جائے تو ميت كے گھر ميں لوگ بلند آواز سے قرآن مجيد كى تلاوت كرتے ہيں اور ٹيپ ريكارڈ پر بھى تلاوت لگائى جاتى ہے، اس عمل كا حكم كيا ہے ؟

Published Date: 2009-06-30

الحمد للہ:

بلاشك و شبہ يہ عمل بدعت ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں يہ عمل نہيں تھا، اور نہ ہى صحابہ كرام كے دور ميں پايا جاتا تھا.

قرآن مجيد كا پڑھنا اور تلاوت كرنا اس وقت غم كم كرتا ہے جب انسان خود خاموشى سے تلاوت كرے، نہ كہ جب وہ لاؤڈ سپيكر ميں بلند آواز سے جسے ہر انسان سنے حتى كہ جو كھيل رہے ہيں اور اپنے كاموں ميں مشغول ہوں، آپ ديكھيں گے كہ وہ ان آلات كو سن رہے ہيں، گويا كہ وہ اس قرآن كے ساتھ لہو ميں مشغول ہيں اور مذاق كر رہے ہيں.

پھر ميت كے گھر والوں كا تعزيت كے ليے آنے والوں كا استقبال كرنا بھى ايسے امور ميں شامل ہوتا ہے جو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں معروف نہ تھا، حتى كہ بعض علماء تو اسے بھى بدعت قرار ديتے ہيں.

اس ليے ہمارى رائے ميں تو ميت كے اہل و عيال كو تعزيت وصول كرنے كے ليے جمع نہيں ہونا چاہيے، بلكہ وہ اپنے گھر كے دروازے بند كر ليں، اور جب انہيں كوئى بازار ميں ملے يا پھر ان كا كوئى جاننے والا بغير وعدہ اور تيار كردہ ملاقات كے ليے آئے اور اس سے بغير دروازہ كھولے تعزيت وصول كريں تو اس ميں كوئى حرج نہيں.

ليكن ان كا اكٹھے ہونا اور آنے والوں كے استقبال كے ليے دروازے كھلے ركھنا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں معروف نہ تھا، اور جيسا كہ معروف ہے ماتم اور نوحہ كرنا كبيرہ گناہوں ميں شامل ہوتا ہے؛ كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نوحہ كرنے اور نوحہ سننے والى پر لعنت فرمائى ہے:

" اگر نوحہ كرنے والى اپنى موت سے قبل توبہ نہ كرے تو وہ روز قيامت اس حال ميں اٹھےگى كہ اس كو گندھك كى قميص اور خارش زدہ درع پہنائى گئى ہو گى "

اللہ تعالى ہميں عافيت ميں ركھے.

اس ليے مسلمان بھائيوں كو ميرى نصيحت ہے كہ وہ اس طرح كى بدعات اور نئے ايجاد كردہ امور ترك كر ديں؛ كيونكہ اس كا ترك كرنا ہى ان كے ليے اللہ كے ہاں زيادہ بہتر ہے، اور پھر يہ ميت كے ليے زيادہ بہتر ہے؛ اس ليے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بتايا ہے كہ ميت كے گھر والوں كے رونے اور نوحہ كرنے كى بنا پر ميت كو عذاب ہوتا ہے، يعنى وہ اس نوحہ اور رونے سے تكليف اور اذيت محسوس كرتى ہے، اگرچہ فاعل كى سزا نہيں دى جاتى.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور كوئى بھى جان كسى دوسرے كا گناہ نہيں اٹھاتى }الانعام ( 164 ).

عذاب يہ لازم نہيں كہ يہ سزا ہے، كيا آپ كے سامنے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمان نہيں ہے:

" سفر عذاب كا ايك ٹكڑا ہے "

حالانكہ سفر سزا نہيں ہے، بلكہ تكليف و الم اور غم وغيرہ عذاب شمار كيا جاتا ہے، اور لوگوں كے كلمات اور قول ميں يہ شامل ہے:

ميرے ضمير نے مجھے عذاب ميں ڈال ركھا ہے.

يہ اس وقت كہتے ہيں جب اسے غم اور شديد قسم كى پريشانى لاحق ہو.

حاصل يہ ہوا كہ:

ميں اپنے بھائيوں كو نصيحت كرتا ہوں اس طرح كى عادات تو انہيں اللہ كے نزديك كرنے كى بجائے اور دور ہى كرينگى، اور ان كى موت كے ساتھ عذاب زيادہ ہو گا " انتہى

فضيلۃ الشيخ محمد بن عثيمين .

ديكھيں: فتاوى اركان الاسلام ( 416 - 417 ).
Create Comments