11335: ملازمت كے ليے نقلى سنديں اور سرٹيفكيٹ تيار كرنا


ايك شخص ملازمت كرنا چاہتا ہے، اور وہ كام مكمل طور پر صحيح اور ا متحان ميں كاميابى سے كر سكتا ہے، ليكن اس كے پاس اس ميں داخل ہونے كى سند اور سرٹيفكيٹ نہيں، تو كيا امتحان ميں شامل ہونے كے ليے جعلى اور نقلى سند تيار كرنا جائز ہے، اور اگر وہ امتحان ميں كامياب ہو جائے تو كيا اس كے ليے تنخواہ حاصل كرنا جائز ہو گى يا نہيں ؟

Published Date: 2006-02-25

الحمد للہ :

شريعت مطہرہ اور اس كے سنہرى اہداف سے جو ميرے ليے ظاہر ہو رہا ہے كہ ايسا كام كرنا جائز نہيں، كيونكہ يہ جھوٹ اور دھوكہ و فريب كے ذريعہ ملازمت تك پہنچنا اور اس كا حصول ہے، جو كہ ايك غلط اور حرام كاموں ميں شامل ہوتا ہے، اور اس سے شر و برائى اور دھوكہ وفراڈ كے راستے كھلتے ہيں.

اس ميں كوئى شك نہيں كہ جنہيں ملازمت كا معاملہ سپرد كيا جائے انہيں حتى الامكان امانت دار اور اس ملازمت كے اہل لوگ تلاش كرنے واجب ہيں .

ماخوذ از: فتاوى فضيلۃ الشيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى
Create Comments