ar

116823: بچے پيدا ہونے كى خوشى ميں نرس كو مال يا نذرانہ پيش كرنا


ہاسپٹل ميں بچے كى ولادت كے بعد نرسيں آ كر باپ كو مباركباد ديتى ہيں، تو بچے كا باپ انہيں كچھ رقم مثلا پانچ روپے ہر نرس كو ديتا ہے ( معاشرے ميں اسے بچے كى سلامتى سے پيدائش كا نذرانہ كہا جاتا ہے ) تو كيا يہ جائز ہے يا حرام ؟

Published Date: 2008-06-19

الحمد للہ:

اصل ميں خوشخبرى دينے والے كو ہديہ دينا جائز ہے، كوئى بھى خوشى كى خبر يا كسى غائب كے آنے كى خبر وغيرہ دوسرى خوشى كى خبر دينے والے كو ہديہ دينا جائز ہے.

بخارى اور مسلم نے كعب بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ كا جنگ تبوك سے پيچھے رہنے كى توبہ قبول ہونے كا قصہ روايت كيا ہے كہ:

" كعب رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ اس كے بعد ميں نے دس راتيں اور اسى طرح گزاريں حتى كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى جانب سے ہمارے ساتھ كلام نہ كرنے كو پچاس راتيں مكمل ہو گئيں، اور جب پچاسويں رات كى فجر كى نماز رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے پڑھائى تو ميں اپنے گھر كى چھت پر تھا، ميں نماز كے بعد ميں نماز كے اذكار كرنے والى حالت ميں ہى بيٹھا ہوا تھا، اور ميرا نفس تنگ ہو چكا تھا، اور زمين كھلى ہونے كے باوجود ميرے اوپر تنگ ہو چكى تھى، كہ اچانك ميں نے جبل سلع پر كسى شخص كى اونچى آواز سنے جو چيخ كر كہہ رہا تھا: اے كعب بن مالك خوش ہو جاؤ.

كعب رضى اللہ تعالى عنہ كہتے ہيں: تو ميں فورا اللہ كے سامنے سجدہ ريز ہو گيا، اور مجھے پتہ چل گيا كہ نكلنے كى راہ آ چكى ہے، اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے جب فجر كى نماز پڑھائى تو لوگوں كو ہمارى توبہ قبول ہونے كا بتايا، تو لوگ ہميں خوشخبري دينے كے ليے بھاگے، اور ميرے دونوں ساتھيوں كو بھى لوگ خوشخبرى دينے كے ليے گئے، اور ايك شخص ميرے پاس آنے كے ليے تيزى سے گھوڑے پر سوار ہوا، اور اسلم قبيلہ كا ايك شخص پہاڑ پر چڑھ گيا، تو اس شخص كى آواز گھوڑے سے زيادہ تيز تھى، تو جب وہ شخص جس كى ميں نے آواز سنى تھى ميرے پاس خوشخبرى دينے كے ليے آيا تو ميں نے اس خوشخبرى كى بنا پر اپنے دونوں كپڑے اتار كر اسے پہنا ديے.

اللہ كى قسم ان دنوں ميں ان دو كپڑوں كے علاوہ كسى اور كپڑے مالك نہ تھا، اور ميں نے كسى سے دو كپڑے عاريتا لے كر زيب تن كيے، اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى طرف چل پڑا " الحديث.

صحيح بخارى حديث نمبر ( 4418 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2769 ).

مسلم كى شرح ميں امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" چوبيسواں: خير و بھلائى كى خوشخبرى دينے كا استحباب

پچيسواں: جس كسى كو اللہ تعالى نے ظاہرى خير و بھلائى دى ، يا اللہ تعالى نے اس سے كوئى ظاہرى شر دور كر ديا تو اسے مباركباد دينا مستحب ہے.چھبيسواں: خوشخبرى دينے والے كو انعام وغيرہ دينے كا استحباب " انتہى.

اور الموسوعۃ الفقھيۃ ميں درج ہے:

" اور كعب رضى اللہ تعالى عنہ كے قصہ ميں ہے كہ جب ان كے پاس خوشخبرى دينے والا آيا تو انہوں نے اس خوشخبرى كے بدلے اپنے دونوں كپڑے اتار كر خوشخبرى دينے والے كو پہنا ديے، ابى نے قاضى عياض رحمہ اللہ سے نقل كيا ہے:

دنياوى اور اخروى امور ميں سے خوشى والے كى بشارت و مباركباد دينے، اور خوشخبرى دينے والے كو انعام دينے كے جواز كى دليل ہے، اور كعب رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث ميں خير و بھلائى كى خوشخبرى دينے ميں سبقت لے جانے كى مشروعيت پائى جاتى ہے " انتہى

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 8 / 94 ).

چنانچہ جسے بھى بچے كى پيدائش كى خوشخبرى دى جائے اس كے ليے خوشخبرى دينے والے كو كوئى چيز دينا مستحب ہے، اس بنا پر نرس كو كچھ روپے دينے ميں كوئى حرج نہيں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments