ar

116931: ٹى وى انعامى مقابلہ ميں شركت كرنے كا حكم


بعض اوقات ٹيلى ويژن پر ثقافتى انعامى مقابلہ ہوتا ہے اور اس ميں شركت كے ليے صرف كال كرنا پڑتى ہے جو پہلے كال كريگا وہ كامياب ہو گا، تو كيا ميرے ليے اس مقابلہ ميں شركت كرنا جائز ہے ؟

Published Date: 2008-08-20

الحمد للہ:

اگر تو اس مقابلہ ميں شركت كرنے كے ليے كال كرنے والا كچھ مال ادا كرتا ہے ـ چاہے وہ كال كى قيمت ہى ہو ـ اور وہ يہ اميد ركھے كہ اسے انعام ملےگا يا زيادہ مال حاصل ہو گا، ہو سكتا ہے وہ منافع حاصل كر لے، اور يہ بھى ہو سكتا ہے اسے خسارہ ہو جائے، تو يہ قمار بازى اور جوا ہے جسے اللہ سبحانہ و تعالى نے درج ذيل فرمان ميں حرام قرار ديا ہے:

{ اے ايمان والو! بات يہى ہے كہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نكالنے كے پانسے كے تير يہ سب گندى باتيں، شيطانى كام ہيں، ان سے بالكل الگ رہو تا كہ تم كامياب ہو جاؤ، شيطان تو يہى چاہتا ہے كہ شراب اور جوئے كے ذريعہ تمہارے آپس ميں ميں عدوات اور بغض پيدا كر دے اور تمہيں اللہ تعالى كى ياد اور نماز سے روك دے تو اب بھى باز آ جاؤ}المآئدۃ ( 90 ).

الماوردى رحمہ اللہ جوے كے متعلق كہتے ہيں:

جوا يہ ہے كہ جس ميں داخل ہونے والا كچھ لينے والا بن جائيگا اگر اس نے ليا، يا پھر نقصان اٹھانے والا ہو گا اگر اس نے ديا " انتہى

ديكھيں: الحاوى الكبير ( 15 / 192 ).

ان انعامى مقابلوں ميں اكثر يہى كچھ ہوتا ہے، كيونكہ كال كرنے والا يا تو كال كى قيمت سے بھى ہاتھ دھو بيٹھتا ہے جو عمومى قيمت سے بہت زيادہ ہوتى ہے، يا پھر اگر وہ كامياب ہو گيا تو اس قيمت سے زيادہ رقم حاصل كرنے ميں كامياب ہو جائيگا.

مزيد آپ سوال نمبر ( 89746 ) اور ( 106601 ) كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں.

اور بعض انعامى مقابلے صرف ابتدائى مراحل ميں تو مباح ہوتے ہيں، مثلا اگر وہ كال مفت ہو، اور شركت كرنے والا پہلے سوال كا جواب دے اور كسى معين انعام كا مستحق ٹھرے پھر اسے كہا جاتا ہے: اگر تم دوسرے سوال كا جواب نہ دے سكے تو جو انعام تمہيں ملا ہے اس سے ہاتھ دھو بيٹھو گے، تو يہ بھى جوا اور قمار بازى و حرام ہے.

اور بعض مقابلوں ميں تو شركت بھى حرام ہوتى ہے كيونكہ اس ميں مرد و عورت كے اختلاط يا پھر گانے بجانے كى ترويج ہوتى ہے، يا پھر فلموں اور ڈراموں اور فنكاروں اور اداكاروں كى پہچان اور معرفت كروائى جاتى ہے.

مقصد يہ ہے كہ مقابلے ايك جيسے نہيں ہوتے، اس ليے انعامى مقابلے كى تفصيل بيان كرنا ضرورى ہے تا كہ اس پر حكم تك پہنچا جا سكے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments