ar

117800: كيا خاوند اور بيوى كسى غير اسلامى ملك ميں رہنے كے ليے كاغذى طلاق كا دعوى كر سكتے ہيں ؟


ميرى سہيلى اور اس كا خاوند ايك غير اسلامى ملك ميں رہتے ہيں، ميرى سہيلى اپنے پاسپورٹ سے خاوند كا نام ختم كروا كر اپنے والد كا نام درج كروانا چاہتى ہے، اس كے پيچھے اس غير اسلامى ملك كے توثيقى اغراض ہيں، ميرى سہيلى اور اس كا خاوند دونوں ہى پاكستانى ہيں، ليكن حكومت پاكستان كا قانون ہے كہ خاوند كا نام پاسپورٹ سے اسى صورت ميں ختم ہو سكتا ہے جب عورت مطلقہ يا پھر بيوہ ہو.
اور طلاق واقع ہونے كے ليے كاغذى طور پر لكھ كر دينا ضرورى ہے، اور پھر قانونى طور پر طلاق اس وقت مكمل ہو گى جب عدت كے تين ماہ گزر جائيں، اور اس كے بعد پاسپورٹ سے خاوند كا نام ختم كيا جا سكتا ہے، اب ميرا سوال يہ ہے كہ:
جب اپنى سہيلى كے قائم مقام بن ميں پاكستان ميں كاغذى طور پر طلاق پيش كروں ( كيونكہ ميں پاكستان ميں رہتى ہوں ) ميرى سہيلى پاكستان ميں نہيں ہے، اور يہ كام ميں اپنى سہيلى كے مطالبہ پر كروں، تو كيا شريعت اسلاميہ ميں ميرى سہيلى كى طلاق واقع ہو جائيگى ؟
برائے مہربانى يہ مدنظر ركھيں كہ نہ تو خاوند كى نيت طلاق دينا ہے، اور نہ ہى بيوى كى نيت طلاق حاصل كرنا ہے، ليكن كچھ سركارى كاغذات كے ليے پاسپورٹ سے خاوند كا نام ختم كروانا پڑتا ہے.

Published Date: 2010-05-30

الحمد للہ:

اول:

ہميں تو يہى ظاہر ہوتا ہے كہ يہ خاندان اپنے كاغذات ميں تبديلى اس ليے كرانا چاہتا ہے كہ وہ اس غير اسلامى ملك ميں رہائش اختيار كر سكے، اور وہ اس كے ليے ايسا كام كرنا چاہتا ہے ہيں جو شرعى طور پر جائز نہيں، اور پھر وہ طريقہ بھى ايسا اختيار كرنا چاہتے ہيں جو ناجائز ہے.

كفريہ ملك ميں رہنے كا مسئلہ ہم كئى ايك سوالات كے جوابات ميں بيان كر چكے ہيں كہ اس ميں بہت سارى خرابياں پيدا ہوتى ہيں، اور پھر اصل ميں غير اسلامى ملك ميں رہائش اختيار كرنا حرام ہے، آپ تفصيل جاننے كے ليے سوال نمبر ( 11793 ) اور ( 14235 ) اور ( 27211 ) كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں.

اس بنا پر جس سبب كے ليے وہ كاغذات ميں ہير پھير كرنا چاہتے ہيں ان كے ليے جھوٹ اور دھوكہ دينا حلال نہيں، اور جو شخص بھى كفريہ ملك ميں رہنا چاہتا ہے غالبا وہ ملازمت اور دنيا كے حصول كے ليے ہوتا ہے، اور پھر بہت ہى جلد ان شہريت حاصل كر كے ان كے معاشرہ ميں گھل مل جاتا ہے مگر جس پر اللہ رحم كرے.

اس ليے بہن نے يہاں جن اعمال كے متعلق دريافت كيا ہے وہ حرام ہيں اور اس كے ليے ان كا ارتكاب جائز نہيں، اس كے كئى ايك اسباب ہيں:

1 ـ اس فعل سے غير مسلم ملك ميں رہائش اختيار كى جائيگى اور يہ اقامت حرام ہے.

2 ـ يہ ايك قسم كا جھوٹ اور دھوكہ و جعل سازى ہے، اور حقيقت كے خلاف ظاہر كرنا ہے، حالانكہ مسلمان شخص كو تو اپنے اقوال و افعال ميں جھوٹ و كذب بيانى سے اجتناب كرتے ہوئے سچائى اختيار كرنى چاہيے.

ـ يہ عمل طلاق كے ساتھ ايك طرح كا كھلواڑ ہوگا، اور پھر اللہ سبحانہ و تعالى نے اللہ كى آيات كے ساتھ مذاق كرنے منع كرتے ہوئے طلاق كى آيات ميں فرمايا:

{ اور جب تم عورتوں كو طلاق دو اور وہ اپنى عدت ختم كرنے پر آئيں تو ا بانہيں اچھى طرح بساؤ يا بھلائى كے ساتھ الگ كر دو، اور انہيں تكليف پہنچانے كى غرض سے ظلم و زيادتى كے ليے نہ روكو، جو شخص ايسا كرے اس نے اپنى جان بر ظلم كيا، تم اللہ كے احكام كو ہنسى كھيل نہ بناؤ، اور اللہ كا جو تم پر احسان ہے اسے ياد كرو، اور جو كچھ كتاب و حكمت اس نے نازل فرمائى ہے جس سے تمہين نصيحت كر رہا ہے، اسے بھى اور اسے بھى اور اللہ تعالى سے ڈرتے رہا كروا ور جان لو كہ اللہ تعالى ہر چيز كو جانتا ہے }البقرۃ ( 231 ).

قرطبى رحمہ اللہ اس كى تفسير ميں لكھتے ہيں:

قولہ تعالى:

اور تم اللہ كے احكام كو ہنسى كھيل مت بناؤ "

اس كا معنى يہ ہے كہ: تم اللہ سبحانہ و تعالى كے احكام كو مذاق كى راہ مت بناؤ، كيونكہ يہ سب احكام حقيقت ہيں، اس ليے جس نے بھى اس ميں مذاق كيا تو وہ اس كو لازم ہو جائيگا ابو درداء رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

دور جاہليت ميں ايك شخص طلاق ديتا اور كہتا ميں تو بطور كھيل طلاق دے رہا تھا، اور غلام آزاد كرتا اور نكاح كرتا تو كہتا ميں كھيل رہا تھا، تو اللہ سبحانہ و تعالى نے يہ آيت نازل فرمائى " انتہى

ديكھيں: تفسير قرطبى ( 3 / 156 ).

مزيد فائدہ كے ليے آپ سوال نمبر ( 103432 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments