11865: غیر مسلم کوکتنی باردعوت دینی ضروری ہے ؟


غیرمسلموں کودعوت دینے کے لیے کتنی باردرس دینا ضروری ہے جن کوہم رسالت کا پیغام پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اوران لوگوں پر رسالت دین کا کوئ اہتمام نظر نہيں آتا انہيں کتی باردعوت دینا ضروری ہے ؟
دعوتی کاموں کے لیے ہم چند جوانوں کا گروپ ہیں اور ہم ورکشاپوں ، فیکٹریوں ، اور ہاسپٹل وغیرہ میں جاکر دعوت پیش کرتے ہیں ، اورغالبا ایک جگہ پر چاریا پانچ بار دعوت دینے جاتے ہیں لیکن ہمیں کوئ ایسا شخص نہیں ملتا جوہماری بات پرکان دھرے ، اورجوکوئ‏ سننے کے آتے ہیں انہیں بھی کپنی کی طرف سےمجبور کرکے لایا جاتا ہے

Published Date: 2012-09-26

جواب :

الحمد للہ :

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ آپ کوجزاۓ خیرے عطافرماۓ اور آپ کے عمل وکوشش میں برکت عطا کرے ۔

مذکورہ لوگوں کودعوت دینے کے لیے دروس دینے کی کو‏ئ تعداد مقرر نہيں ، بلکہ جگہوں اور آپ کے پاس موجود وقت کی تعداد ہوسکتی ہے اوراسی طرح آپ کے پاس لوگوں کے آنے کے بارہ میں یہ چيز پائ جاتی ہے ۔

ایک داعی سے مطلوب ہے کہ وہ دعوت الی اللہ میں حکمت کومدنظررکھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کا خیال رکھتے تھے تا کہ وہ اکتاہٹ کاشکارنہ ہوں ، اس لیے آپ کوبھی اسی طرح ہونا چاہيۓ اوردعوت الی اللہ میں احسن طریقہ اختیار کرنے پرحریص رہیں ، اوراسی طرح دعوت کےلیے مناسب جگہ اوروقت کا اختیار کرو ۔

داعی کو باربار دعوت دینے سے اکتاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے کیونکہ دلوں کا معاملہ اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے اوردعوت دینے والے پرصرف تبلیغ کرنا فرض ہے ، اوربعض اوقات وہ کلمہ اوربات جو ایک داعی کے ہاں بالکل حقیر سا ہوتا ہے لیکن حقیقت میں مدعو کے ذھن کےاندر کئ سالوں تک جاگزيں ہورہتا ہے اورپھروہی کلمہ اس کی ھدایت کا سبب بنتا ہے ۔

اوراس کلمہ کوپھل داراورنتیجہ خيزبنانے کے لییے ضروری ہے کہ بات مسکراہٹ اورنرمی اوران مسکینوں کوآگ سے بچانے اورکفرو الحاد کے اندھیروں سے نکالنے میں سچائ کے ساتھ کی جاۓ تا کہ اثرانداز بھی ہو۔

اوراگردعوت دینے والا دعوت کے ساتھ ساتھ مالی تعاون بھی پیش کرسکتا ہوتواسے کرنا چاہیے کیونکہ یہ اس دعوت کی قدروقیمت اورمثال کے مصداق بنے گا ، اوردلوں کوخیروبھلائ قبول کرنے پرامادہ کرے گا اوراس کے ساتھ ساتھ دلوں سے بغض حسد اوررکاوٹ اور دین سے اعراض کوزائل کرے گا ۔

اوراسی طرح مدعوین کی وہ مشکلات جو وہ اپنی کمپنیوں کے بارہ میں پیش کرتے ہيں انہیں حل کرنے کی کوشش کرنے میں بھی ان کے دلوں میں داعی کی جاذبیت پیدا ہوگی ، زمانہ قدیم میں کسی نے کہا تھا :

لوگوں پراحسان کروان کے دلوں کوغلام بنا لوگے احسان نے کتنے ہی انسانوں کوغلام بنا لیا ۔

اوراس قول سے بھی اللہ تعالی کا یہ قول بہتر ہے :

{ نیکی اوربدی برابر نہیں ہوتی ، برائي کوبھلائ سے دور کرو پھروہی جس کے اورتمہارے درمیان دشمنی تھی ایسے ہوجاۓ گا جیسے جگری دوست } فصلت ( 34 ) ۔

آپ ان مدعوین کے پاس لیٹریچر اورپملفٹ وغیرہ چھوڑیں تا کہ وہ فراغت اورآپ کے غیب ہونے کے وقت اسے دیکھیں اورمطالعہ کریں ، اس لیے کہ اگرانسان علیحدگی میں حق پرسوچ وبچارکرتا ہے تووہ حق کوقبول کرنے اوراسے تسلیم کرنے میں زیادہ فا‏ئدہ مند ہیں ۔

آپ کی دعوت میں یہ بھی شامل ہونا چاہیے کہ آپ کمپنی کے مالکوں اورجن کے پاس مدعوین کام کرتے ہیں کونصحیت کرنا بھی شامل ہونا چاہیے کہ وہ ان عمال اورکاریگروں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئيں اوران کے لیے اسلام کے اخلاق حسنہ کے ساتھ مظاہرہ کریں ۔

تویہ بہت سارے عمال کے اسلام قبول کرنے کا باعث بنے گا ، اوریہ بھی یاد رکھیں کہ اسی طرح کمپنی کے مالکوں کا عمال سے براسلوک کرنا عمال کے اسلام قبول نہ کرنے کا بھی سبب بن سکتا ہے ۔

اللہ تعالی آپ کوتوفیق بخشے ، اورتمہیں ھدایت یافتہ لوگوں میں سے بناۓ آمین یا رب العالمین ۔

واللہ اعلم

الاسلام سوال وجواب
Create Comments