ar

119161: ذہنى معذور سے شادى كرنے كا حكم


كيا ذہنى طور پر معذور شخص كے ليے شادى كرنا جائز ہے ؟

Published Date: 2010-01-09

الحمد للہ:

ذہنى طور پر معذور شخص كے ليے شادى كرنا جائز ہے چاہے وہ مجنون يا مفقود العقل كى حالت تك پہنچ جائے، اس ليے كہ اس لڑكے يا لڑكى كى شہوت كا ضرر ختم كيا جائے، اور فسق و فجور سے محفوظ ركھا جا سكے، اور اس كى ديكھ بھال اور خدمت حاصل ہو سكے، اس كے علاوہ كئى اور مباح اغراض و مقاصد ہيں.

ليكن اگر وہ ذہنى معذور پاگل تو وہ خود عقد نكاح نہيں كر سكتا، بلكہ اس كا ولى اس كى شادى كريگا، ليكن عورت چاہے وہ عقلمند بھى ہو تو وہ ولى كے بغير اپنا نكاح خود نہيں كر سكتى، بلكہ اس كا ولى ہى اس كى شادى كريگا.

ليكن وہ ذہنى معذور جسے عقل ہو يا پھر بعض اوقات ہوش و حواس قائم ركھتا ہو ت واس كو شادى پر مجبور نہيں كيا جا سكتا، بلكہ وہ خود اپنى شادى كريگا.

اور اس نكاح كے ليے ـ نكاح كى معروف شرطوں كے علاوہ بھى ـ دو اور چيزيں ہيں:

پہلى:

دوسرے فريق كو معذورى كے بارہ ميں ضرور بنانا، كيونكہ يہ عيب ہے اور اسے چھپانا جائز نہيں.

دوسرى:

يہ ذہنى معذور زيادتى اور خرابي كرنے سے مامون ہو؛ تا كہ دوسرے فريق كو نقصان نہ دے.

الموسوعۃ الفقھيۃ ميں درج ہے:

" چھوٹا بچہ اور مجنون و پاگل كو اپنے اوپر ولايت حاصل نہيں، بلكہ ان كى شادى ان كا والد يا دادا يا پھر جسے وصيت كى گئى ہو وہ كريگا، چھوٹے بچے اور پاگل كے ليے بلاواسطہ اپنا نكاح خود كرنا جائز نہيں؛ كيونكہ وہ دونوں اس كى اہليت نہيں ركھتے....

اور چھوٹے بچے اور پاگل و مجنون پر ولايت يہ ولايتا جبار ہے، چنانچہ ان كے ولى كے ليے ان كى اجازت كے بغير شادى كرنا جائز ہے، اگر اس ميں ان دونوں كى كوئى مصلحت ہو، اور اس ميں كوئى اختلاف نہيں ہے " انتہى

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 11 / 252 ).

شرعى عدالت جدہ كے قاضى شيخ ہانى بن عبد اللہ بن جبير كہتے ہيں:

" عقلى طور پر متخلف اور جس كى عقل چلى جاتى ہے وہ معذور شخص يہ دونوں مجنون اور پاگل كے حكم ميں آتے ہيں ان كے ليے شادى جائز ہے ليكن اس كى شادى كے ليے معروف شروط كے علاوہ بھى كچھ اور بھى شروط ہيں:

ا ـ دوسرے فريق كو مكمل طور پر مريض كى حالت بتائى جائے، كيونكہ اسے نہ بتانا يہ خيانت اور دھوكہ شمار ہو گا.

ب ـ دوسرا بھى عقلى طور پر ماؤف نہ ہو، بلكہ عقلى طور پر ماؤف شخص سليم العقل عورت سے شادى كريگاعقلى طور پر ماؤف عورت سليم العقل مرد سے شادى كريگى، ا سكا سبب يہ ہے كہ عقلى طور پر ماؤف خاوند اور بيوى كا اكٹھے ہونے سے كوئى بھى مصلحت ثابت نہيں ہوتى، اور اس كے ساتھ اگر دونوں عقلى طور پر ماؤف ہونگے تو وہ ايك دوسرے كو نقصان ديں گے.

ج ـ عقلى طور پر ماؤف شخص مامون ہو يعنى اس سے كوئى خطرہ نہ ہو، ليكن جو زدكوب كرنے اور خرابياں كرنے ميں معروف ہو اس كے ليے شادى كرنا جائز نہيں؛ كيونكہ اس كى شادى ميں نقصان و ضرر كا انديشہ ہے، اور شريعت اسلاميہ ميں نقصان و ضرر خاتمہ كيا گيا ہے.

د ـ آخرى شرط يہ ہے كہ عورت كے ولى اس شادى پر راضى ہوں؛ كيونكہ انہيں بھى اس ميں نقصان ہو سكتا ہے.

فقھاء نے شرعى نصوص و قواعد كو سامنے ركھتے ہوئے ذہنى طور پر ماؤف شخص كى شادى كى يہ شرطيں ركھى ہيں اور يہ ـ جيسا كہ ظاہر ہے ـ مصلحت كو پورا كرتى اور خرابيوں كو ختم كرتى ہيں، جس سے شريعت اسلاميہ كا بندوں كى ضروريات و مصلحت كا پورا كرنا واضح ہوتا ہے.

اللہ تعالى ہى توفيق دينے والا ہے.

اور ان كا يہ بھى كہنا ہے:

" معذور چاہے وہ كسى بھى طرح كا معذور ہو كى شادى ميں اہم مصلحت يہ ہوتى ہے كہ ان دونوں ميں سے كوئى ايك دوسرے كا خيال ركھے اور اس كى ضروريات پورى كرے، اور اس كا اہتمام كرے؛ كيونكہ دين اسلام كا نكاح ميں بہت بڑا مقصد ہے جو كہ بيوى سے فائدہ حاصل كرنے سے بھى اہم ہے، بلكہ اس كے ساتھ تو ايك دوسرے كى ديكھ بھال اور آپس ميں رحمدلى كرنا شامل ہے.

اللہ تعالى كا فرمان ہے:

} اور اس كى نشانيوں ميں يہ بھى ہے كہ اس نے تمہارے ليے تم ميں سے ہى بيويوں كو پيدا كيا تا كہ تم اس سے سكون حاصل كرو اور تمہارے درميان محبت و مودت اور رحم ڈال ديا {الروم ( 21 ).

عقلى طور پر ماؤف شخص كى شادى اس كا ولى كريگا كيونكہ اس كى مصلحت كى ديكھ بھال كرنے والا وہى ہے، اور يہ شريعت اسلاميہ كے محاسن ميں شامل ہوتا ہے كہ شريعت نے بچے اور پاگل كے كچھ رشتہ داروں كو ان كى ولايت دى ہے.

كيونكہ بچہ اور پاگل خود تو اپنى ديكھ بھال كرنے اور حالات ميں تصرف نہيں ركھتے، اور پھر معذور شخص كى ديكھ بھال معاشرے پر فرض كفايہ ہے تا كہ اس كى مدد كى جائے اور وہ معاشرے ميں ايك فعال ممبر بن كر رہے، اور نفسياتى مشكلات آثار سے چھٹكارا حاصل كر سكے " انتہى

ماخوذ از: الاسلام اليوم ويب سائٹ.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments