ar

122180: شادى كے بعد انكشاف ہوا كہ بيوى كنوارى نہيں بلكہ اس كے ايك رافضى كے ساتھ تعلاقت تھے كيا اسے طلاق دے دے ؟


ميں نے ايك اچھے خاندان كى لڑكى سے شادى كى، ليكن شادى سے قبل اس كے بارہ ميں دريافت كرنے سے انہوں نے مجھے بتايا كہ وہ ايك رافضى نواجوان سے محبت كرتى تھى اور اس كے گھر والوں نے رافضى ہونے كى بنا پر قبول نہيں كيا.
ميں نے ان كے قابل بھروسہ دوستوں سے دريافت كيا تو ان كا كہنا تھا كہ:
ان كا آپس ميں كوئى تعلق تو نہ تھا، وہ لوگوں كے سامنے صرف اكٹھے بيٹھا كرتے تھے، اس ليے ميں نے اس سے شادى كرنے كا فيصلہ كر ليا تا كہ ميں اسے غلطى سے چھٹكارا دلا سكوں.
ليكن جب ميرى رخصتى ہوئى تو ميں نے اسے كنوارى نہيں پايا، اور اس نے ميرے سامنے اعتراف كيا كہ اس سے جنسى تعلقات قائم كيے تھے، ليكن دخول نہيں ہوا، ہو سكتا ہے اسے علم نہ ہو اور اس رافضى نے دخول كر ديا ہو.
وہ توبہ كر چكى ہے، اور اپنے كيے پر نادم بھى ہے، ميں نے فيصلہ كيا كہ كچھ عرصہ تو ميں اس كى ستر پوشى كرتا ہوں اور پھر اسے طلاق دے دوں گا، ليكن اسے حمل ہوگيا، اب مجھے بتائيں كہ ميں كيا كروں ؟
اس كے جس لڑكے كے ساتھ تعلقات تھے ميں اسے جانتا ہوں، اور وہ بھى مجھے جانتا ہے، اور ميں غصہ سے مر رہا ہوں يہ علم ميں رہے كہ ميں دينى التزام كرتا ہوں، اور بيت اللہ كا حج بھى كر چكا ہوں، اور ايك صلاۃ و صوم كى پابندى كرنے والے خاندان سے تعلق ركھتا ہوں جو سنت پر عمل كرتا ہے ؟

Published Date: 2011-02-27

الحمد للہ:

سوال سے تو ہميں يہى سمجھ آئى ہے كہ حمل آپ كا ہى ہے اور ظاہر يہى ہوتا ہے كہ اس رافضى كے ساتھ اس لڑكى كے تعلقات اور اس سے جنسى تعلقات كے بعد كچھ عرصہ گزار ہے، جس ميں اس لڑكى كو حيض بھى آيا اور اس سے بھى زيادہ عرصہ ہوا ہوگا.

ہميں جو سمجھ آئى ہے اگر واقعہ اس كے علاوہ كچھ اور ہو تو آپ ہميں دوبارہ اى ميل كريں كر كے صورت حال كى وضاحت كريں، اور اگر ہم جو سمجھيں ہيں وہ صحيح اور واقعہ كے مطابق ہے تو پھر آپ كا اپنى بيوى سے عقد نكاح شرعى ہے اور اس كا حمل آپ سے ہوا ہے، نہ كہ اس خبيث شخص سے.

آپ كے سوال كا جواب يہ ہے كہ:

آپ كو اپنى بيوى كى توبہ اور اس كى ندامت اور اس كى حالت كى اصلاح كو مدنظر ركھيں، اگر آپ ديكھيں كہ وہ اپنى حالت بدل كر اپنے آپ كو صحيح كر چكى ہے تو پھر آپ بھى اس كے ساتھ زندگى كا نيا صفحہ كھوليں جو صاف اور شفاف سفيد ہو، اور آپ اسے اپنے نكاح ميں ہى ركھيں اور طلاق مت ديں اور جو كچھ ہو چكا ہے اسے اس كے ليے بطور سبق رہنے ديں، تا كہ وہ يہ جان لے كہ اللہ سبحانہ و تعالى نے اس پر كتنا فضل و كرم كيا ہے كہ اللہ نے اس كے ليے آپ جيسا شخص مسخر كر ديا جو اس كى پردہ پوشى كر رہا ہے.

اور اس كے ليے اس ميں يہ سبق بھى ہے كہ وہ اپنى بيٹيوں كو اس معصيت ميں پڑنے سے بچائے جس ميں وہ خود پر چكى ہے، اور ان كى طہارت و پاكيزگى اور عفت و عصمت پر تربيت كرے اور شيطانى چالوں كى بنا پر جو اپنى عزت كھو چكى ہے وہ اپنى بيٹيوں ميں محفوظ كر سكے.

اور اگر آپ ديكھيں كہ اس نے سچى اور پكى توبہ نہيں كى اور اپنے كيے پر يقينى طور پر نادم نہيں، اور آپ ديكھيں كہ وہ معافى كے قابل نہيں، اور آپ اس كے ساتھ بالكل نيا صفحہ كھولنے كى استطاعت نہيں ركھتے تو پھر آپ اسے طلاق دے ديں چاہے وہ حاملہ ہى ہے، كيونكہ ايسا كرنا اسے اور اس كے عاشق كو ديكھ كر اپنے آپ كو عذاب ميں ڈالنے سے بہتر ہے، اور اس كے ليے بھى آپ كے برے معاملہ سے بہتر ہے، كہ آپ ہر وقت اسے شك و شبہ كى نظر سے ديكھيں.

اس كے ساتھ يہ تنبيہ ہے كہ:

اگر آپ پہلا حل اختيار كريں تو آپ كو ان شاء اللہ بہت زيادہ اجروثواب ہوگا، اس طرح آپ اس كى توبہ ميں معاونت كريں گے، اور اس كى حالت كى اصلاح ميں ممد و معاون ثابت ہونگے، اور آپ اس كى مكمل ستر پوشى كا باعث بنيں گے، اور آپ نے ايسا كام كر كے اس كى بہت بڑى تكليف اور مصيبت دور كر دى، اور اسے بہت زيادہ آسانى مہيا كى، اور آپ اس عمل كى بنا پر اپنے رب كا وعدہ مستحق ٹھريں گے، اور وہ اس وقت آپ كى مدد كريگا جب آپ اس مدد كے بہت زيادہ محتاج اور ضرورتمند ہونگے يعنى قيامت كے روز، اور يہ بہتر عظيم اجر ہے.

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس كسى نے بھى كسى مومن كى دنيا كى تكليف اور مصيبت دور كى تو اللہ تعالى اس كى روز قيامت كى تكليفوں ميں سے تكليف اور مصيت دور كريگا، اور جس كسى نے بھى كسى تنگ دست پر آسانى كى اللہ تعالى اس پر دنيا و آخرت ميں آسانى پيدا كريگا، اور جس كسى نے بھى كسى مسلمان كى ستر پوشى كى اللہ سبحانہ و تعالى اس كى دنيا و آخرت ميں ستر پوشى كريگا، اور اللہ تعالى بندے كى مدد ميں ہوتا ہے جب تك بندہ اپنے بھائى كى مدد كرتا ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 2699 ).

امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اس حديث ميں مسلمان شخص كى اعانت و مدد كرنے اور اس كى تكليف و مصيبت دور كرنے، اور اس كى غلطيوں پر پردہ ڈالنے كى فضيلت بيان كى گئى ہے.

اور تكليف اور مصيبت دور كرنے ميں يہ بھى شامل ہے كہ اگر كوئى شخص اس كى تكليف اپنے مال سے دور كر دے، يا پھر اپنے مقام اور مرتبہ كى وجہ سے، يا پھر مدد و تعاون كے ساتھ دور كر دے، ظاہر يہى ہوتا ہے كہ: اس ميں اشارہ اور رائے اور راہنمائى كے ساتھ تكليف دور كرنا بھى شامل ہوگا.

يہاں مندوب ستر پوشى يہ ہے كہ: ان لوگوں كى ستر پوشى كى جائے جو اذيت و تكليف دينے ميں معروف نہيں، اور فساد خرابى كرنے ميں مشہور نہيں ہيں، ليكن جو شخص اذيت و تكليف دينے ميں معروف ہو اس كى پردہ پوشى نہ كرنا مستحب ہے.

بلكہ اگر اس سے خرابى كا خدشہ نہ ہو تو ايسے شخص كا معاملہ تو حكمران كے سامنے اٹھانا چاہيے؛ كيونكہ اس كى ستر پوشى كرنا تو اسے اذيت دينے ميں اور زيادہ كريگا، اور وہ لوگوں كى عزت خراب كرنے كى جسارت كريگا كہ اس كى ستر پوشى كى جاتى ہے.

اور اس شخص كے علاوہ دوسرے لوگ بھى اس طرح كا فعل كرنے كى جسارت كريں گے، يہ سب تو اس معصيت كے بارہ ميں ہے جو ہو چكى ہو، اور گزر چكى ہو "

ديكھيں: شرح مسلم حديث نمبر ( 16 / 135 ).

اللہ سبحانہ و تعالى سے دعا ہے كہ آپ كو ايسے عمل كرنے كى توفيق نصيب فرمائے جن سے وہ راضى ہوتا اور انہيں پسند كرتا ہے، اور آپ كى بيوى پر احسان و كرم كرتے ہوئے اسے سچى اور پكى توبہ كرنے كى توفيق نصب كرے، اور آپ دونوں كو نيك و صالح اولاد عطا فرمائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments