12713: کیاعیسایوں کے اعتقاد تثلیث کااسلام میں وجودہے ؟


عیسایوں کے ہاں کلمہ ، تثلیث ، استعمال ہوتا ہےاس لۓ کہ یہ انکے دین کا اساسی رکن ہے ، تو کیا اس ا عتقا د کا ذ کر قرآن میں ہے ؟
اور اگریہ ا عتقا د صحیح ہے تو کیا یہ شر ک کےمقدمات میں شامل نہیں ہو تا؟

Published Date: 2004-01-16
الحمد للہ
جی ہا ں اس اعتقاد کا ذکرقرآن مجید میں کیا گیا ہے لیکن یہ ذ کر اس کو باطل کرنے کے لۓ کیا گیاہے اورایسا اعتقا د ر کھنے والے کو کا فر اور مشرک کانام دیاگیا ہے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ یقینا ان لوگوں نے کفرکا ار تکاب کیا جنہوں نےیہ کہا کہ بیشک اللہ ہی مسیح بن مریم ہے } المائدۃ / (17)

اور فر مان ربانی ہے :

{ وہ لوگ بھی قطعی کافرہوگۓ جنہوں نے کہا کہ ، اللہ تین میں تیسرا ہے، د راصل اللہ تعالی کے علا وہ کو ئی معبود نہیں اگر یہ لوگ اپنے اس قول سےبازنہ رہے توان میں سے جوکفرپر رہیں گے انہیں المنا ک عذاب ضرور پہنچےگا } المائدۃ / (73)

اللہ عز وجل کاارشادہے :

{ اور یہودی کہتے ہیں کہ عزیراللہ تعالی کابیٹاہے اور نصرانی کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کابیٹاہے یہ قول توصرف ان کے منہ کی بات ہے پہلے منکروں کی بات یہ بھی نقل کرنے لگے ہیں اللہ انہیں غارت کرے وہ کیسے پلٹے جار ہے ہیں ، ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کورب بنایا ہے اورمریم کےبیٹے مسیح کو بھی حالانکہ انہیں صرف اکیلے اللہ ہی کی عبادت کاحکم دیا گیا تھاجس کے علاوہ کو ئی معبودنہیں وہ پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنےسے } التوبۃ / (30 ۔31)

تو یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو کہ مسلمانوں کے درمیان منتشر اورپھیلاہوا ہے تواسی لۓان کا اس پراجماع ہے کہ عیسائی کافرہیں بلکہ وہ اس پربھی متفق ہیں کہ جوعیسایوں کوکافرنہیں کہتاوہ بھی کافرہے ۔

شیخ محمدبن عبدالوہاب رحمہ اللہ نےنواقض اسلام میں یہ کہاہے کہ جس پرسب کااتفاق ہے:

{ جوکوئی مشرکوں کوکافرنہیں کہتایا ان کے کفرمیں شک کرتاہے اوران کے مذھب کوصحیح کہتا ہے وہ بھی کافر ہے } {سوال نمبر }۔/ (31807) کامراجعہ کریں ۔

اورہم اس سوال سے تعجب کر تے ہیں کہ سائل کایہ گمان ہے کہ وہ شرک جوکہ عیسائیوں کےہاں پایا جا تا ہے اس کا وجود مسلمانوں کے ہاں بھی ہے ، تواس لۓ ہم اسے یہ نصیحت کرتے ہیں کہ وہ عقیدہ کے موضوع پرکتابوں کامطالعہ کرے اوروہ کتابیں جوکہ توحیداوراس کے احکام کو بیان کرتی ہیں اوراسی طرح شرک اوراس کی انواع کوبیان کرتی ہیں ان کامطالعہ کر یں ۔

اوراسی طرح اس موضو ع کے متعلق کیسٹیں سننا مفیدہیں ، کیونکہ بندے پریہ سب سےبڑاواجب ہے اور یہ تثلیث جوکہ عیسائیوں کے ہاں معروف ہے اورجس کاوہ اعتقاد رکھتے ہیں یہ شرک کے مقدمات اورابتدانہیں بلکہ یہ توقطعی طورپرشرک ہے اوریہ تثلیث جو کہ عیسائیوں میں متاخرین کی اختراع ہے اس پرنہ تو عقل اورنہ ہی فطرت اورنہ ہی کتب الہیہ میں سے کوئی کتاب جسے اللہ تعالی نے نازل فرمایاوہ ہی دلالت کرتی ہے ۔

ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کاقول ہے :

سب گمراہ لوگوں کااپنے سرداروں اور جن کی وہ پیر وی کرتے ہیں ان کے ساتھ یہی حال ہوتا ہے ، تو عیسائیوں میں سے کسی جاہل کے ساتھ جب کوئی موحدآدمی ان کی اس تثلیث میں اس سے مناظرہ کر تااوراسکی مخالفت کرتااور اسے جھٹلا تاہے تو ان کاجواب یہی ہوتا ہے کہ اس کا جواب پادریوں کے پاس ہے وہی جواب دیں گے اور جب پادری سےپوچھاجائے تو وہ کہتاہے کہ مطران جواب دے گا { اس کا مر تبہ پادری سے زیادہ ہوتا ہے } اور مطران بطر یق جو کہ پاد ر یوں کاافسر ہے اس کی طرف بھیج دیتا ہے کہ وہ جواب دے گا اور بطر ق اپنے سے بڑےافسراسقف بشپ کی طرف اوراسقف بشپ پوپ کی طرف بھیجتا ہے اور پوپ ان تین سو اٹھارہ کی طرف جو کہ قسطنطین کے دور میں اکٹھےہوئے اورانہوں نےاس تثلیث اورشرک جوکہ عقل اورادیان کےبھی خلاف ہے گھڑا تھاان کی طرف بھیج دیتا ۔

مفتاح دارالسعادۃ (2/148)

اور لفظی اعتبار سے نہ تو اس کا وجود قرآن اورنہ ہی حدیث میں ملتاہے بلکہ علماءکی کلام میں آیا ہے اوروہ بھی اس وقت جب وہ استنجاءاوروضوء اور غسل اوریامیت کےغسل اور رکوع میں تسبیحات اورگھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کرنے وغیرہ میں کلام کر تے ہیں تو پھریہ لفظ تثلیث استعمال کرتے ہیں ۔

اور سب کچھ جوابھی پہلی سطور میں ذ کرہوا ہے اس کامعنی یہ ہے کہ اس فعل کوتین مرتبہ کرنا اوراس کا عیسائیوں کی تثلیث کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اوراللہ تعالی نےاس کےمتعلق یہ بیان فرمایا ہے کہ فقط یہ ان کاقول ہے اورانہیں یہ حکم دیا ہے کہ وہ اللہ تعالی کی توحید کااقرارکریں اوریہ اعتقاد رکھیں کہ عیسی علیہ السلام اللہ تعالی کےرسول ہیں اوروہ الہ اورمعبود نہیں ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کاقول ہےکہ :

فرمان باری تعالی ہے :

{ اےاہل کتاب اپنےدین میں غلونہ کرواورحدسے نہ بڑ ھواوراللہ پرحق کے علاوہ اورکچھ نہ کہو مسیح عیسی بن مریم (علیہ السلام ) توصرف اللہ تعالی کے رسول اوراس کے کلمہ ( کن سے پیداشدہ ) ہیں جسے مریم ( علیہا السلام ) کی طرف ڈال دیا اوراس کی طرف سے روح ہیں اس لۓتم اللہ تعالی کواوراس کے سب رسولوں کو مانواوریہ نہ کہو کہ اللہ تین ہین اس سے بازآجاؤاسی میں تمہاری بہتری ہے }

تواللہ تعالی نےاس آیت میں تثلیث اور اور اتحاد کاذ کر کیاہے اور انہیں ان دونوں سے منع کیا اور روکاہے اوریہ بیان کیا ہےکہ بیشک مسیح علیہ السلام توصرف :

{ مسیح عیسی بن مریم ( علیہ السلام ) توصرف اللہ تعالی کے رسول اوراس کے کلمہ ( کن سے پیداشدہ )ہیں جسے مریم (علیہاالسلام ) کی طرف ڈال دیا اوراس کی طرف سے روح ہیں }

اوراللہ عزوجل نےفرمایا :

( تواللہ تعالی اوراس کے رسولوں پر ایمان لا ؤ )

پھراسکے بعد اللہ تعالی نے فرمایا :

{ اور یہ نہ کہو کہ اللہ تین ہیں اس سے بازآجاؤ اسی میں تمہاری بہتری ہے }

الجواب الصحیح (2/15)

اور بعض عیسا ئیوں نےاپنی جہالت کی بنا پریہ گمان کیاہے جمع کی ضمیر جو کہ تعظیم پر دلالت کرتی ہے ۔

مثلا اللہ تعالی کافرمان ہے :

{ بیشک ہم نے آپ کےلۓ فتح دی } اور یہ فرمان {بیشک ہم اسےنازل کی ہے }

یہ سب کچھ ان کے اس با طل اور فاسدعقیدہ تثلیث پردلالت کر تا ہے یہ ان کا گمان ہی ہے اس میں حقیقت کوئی نہیں ۔

شیخ الا سلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے کہ :

اور امت کے آئمہ سلف اور ان کے بعدوالے سلف علماءکا مذ ھب ہے کہ :

کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید جبریل امین سے سنااور جبریل نے اللہ عزوجل سے سنااور اللہ تعالی کایہ فرمان :

{ ہم پڑھتے اور تلاوت کر تے ہیں } اوریہ { ہم قصے بیان کرتے ہیں } اور یہ فرمان ۔

{ توجب ہم اسے پڑ ھتے ہیں }

کلام عرب میں یہ صیغہ اس کے لۓبولاجاتا ہے جس کےمعاون ہوں جوکہ اس کی بات مانتے ہوں اور اطاعت کرتے ہوں تو جب اس کے حکم سے معاون کوئی کام کرتے ہیں تووہ کہتاہے کہ ہم نے یہ کام کیا ، جس طرح کہ بادشاہ کہتاہےکہ ہم نے اس ملک اور شہر کو فتح کیااوراس لشکر اور فوج کوشکست سے دوچارکیاوغیرہ ۔

کیو نکہ وہ یہ کام اپنےمعاونین کے ساتھ مل کر کرتا ہے اور اللہ تعالی توفرشتوں کارب ہےاوروہ فرشتے اللہ تعالی کے حکم کے سامنےکچھ نہیں کہتے اور وہ اللہ تعالی کے حکم سے عمل کر تےہیں اور جو اللہ تعالی انہیں حکم دیتا ہے اوراس کے کر نے میں ذرا بھی ہچکچاہت محسوس نہیں کرتے اورا س کے ساتھ ساتھ ان فرشتوں کاخالق بھی ہےاور ان کے افعال اوران کی قدرت کا بھی خالق ہے اور وہ ان سےغنی ہے اوراللہ تعالی اس بادشاہ کی طرح نہیں کہ جس کے معاونین اس قدرت اور حرکت سے کام کر تے ہیں جس سے وہ بادشاہ سے غنی ہوتے ہیں ، تو اللہ تعالی کا اس چیز پرجسےفرشتوں نے کیاہو یہ کہنا کہ ہم نے کیا کسی بادشاہ کے قول سے زیا دہ حق داراوراولی ہے ۔

اوریہ لفظ متشابھات میں سے ہےجوکہ ذ کرکیاگیاہےکہ عیسائیوں نےجب قرآن میں یہ لفظ : { اِنافتحنا لك } موجود پایا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم پراسے تثلیث کی حجت سمجھی تواللہ تعالی نے ان کی مزمت کی کہ انہو ں نے قرآن میں محکم کو چھوڑ کرکہ اللہ تعالی ایک ہےمتشابہ کو جوکہ اس ایک کا احتمال رکھتاہے جس کے معاون اور مدد گار اوراس کے غلام اورمخلوق ہوا سے پکڑ لیااورا نہو ں نے اس متشابہ سے فتنہ اور فساد چاہا ہے جو کہ دلو ں میں اس بات کا وہم ڈا لے کہ الہ کئی ایک ہیں اور اس کی تاویل جا ننے کی کو شش کی ہے اور اس کی تاویل تواللہ تعالی کے علا وہ کوئی اور جانتا ہی نہیں ۔اورعلم میں رسوخ ر کھنے وا لے بھی ۔

مجو ع الفتاوی (5/233۔234)

اسکی مزید تفصیلات کے لۓ سوال نمبر (606) کودیکھیں ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments