ar

127277: بہو بيمار ساس كى خدمت اور تيمار دارى كرنے سے انكار كرتے ہوئے عليحدہ رہائش طلب كر رہى ہے


ميں دو بچوں كى ماں ہوں، ايك بچے نے شادى كر كے عليحدہ فليٹ ميں رہائش اختيار كر لى تو ميں اور ميرا خاوند اس كے ساتھ والے فليٹ ميں رہنے لگے، دوسرے بچے كى شادى ہوئى تو وہ ہمارے ساتھ ہى فليٹ ميں رہنے لگا، ميرى دوسرى بہو ميرے خاوند كى بھتيجى ہے اور ہمارے اس بچى اور اس كى والدہ كے ساتھ بہت ہى اچھے تعلقات تھے، ليكن شادى كے كچھ عرصہ بعد ہى مجھے ريڑھ كى ہڈى ميں تكليف كى بنا ہلنے جلنے سے قاصر ہونا پڑا، اس ليے ميں كوئى بھى كام كرنے سے قاصر ہو گئى.
تقريبا دو برس تك ميرى بہو ہمارے ساتھ رہى اور اچانك ہى گھر چھوڑ كر ميكے چلى گئى اور عليحدہ گھر ميں رہنے كا مطالبہ كرنے لگى، حالانكہ اس كا كوئى سبب بھى نہيں تھا، اور خاص كر ميرے دو بچوں كے علاوہ اور كوئى اولاد بھى نہيں ہے، اور نہ ہى كوئى بيٹى ہے، ميں اپنا اور اپنے خاوند كى ديكھ بھال تك نہيں كر سكتى، اور مجھ سے كوئى ايسا عمل بھى نہيں ہوا جو بہو كى ناراضگى كا سبب بن سكتا ہو، بلكہ ميں نے اس سے اپنى بيٹى جيسا برتاؤ ہى كرتى رہى ہوں، اور اپنى اولاد كو چھوڑ نہيں سكتى، ايك دن كے ليے بھى ان كے بغير نہيں رہ سكتى.
ہم نے اصلاح كى پورى كوشش كى تا كہ وہ واپس گھر آ جائے ليكن ان كا مطالبہ شدت اختيار كرتا گيا كہ عليحدہ گھر ميں ہى رہيگى، وقتى طور پر يہ حل بھى پيش كيا كہ ہم ايك ماہ بڑے بچے كے ساتھ رہيں گے، حالانكہ بڑى بہو ملازمت بھى كرتى ہے، اور اس كے تين بچے بھى ہيں، اور اسى طرح ايك ماہ چھوٹى بہو كے ساتھ رہيں گے، چھوٹى بہو كا كوئى بچہ بھى نہيں ہے، بلكہ چھوٹى بہو والدين كا گھر قريب ہونے كى بنا پر صبح و شام اكثر اپنے والدين كے گھر ہى رہتى تھى.
ہم نے اس كى يہ كوتاہى بھى برداشت كى اور رضامندى ہى ظاہر كرتے رہے، اور اپنے بيٹے سے بھى اسے چھپا كر ركھا كہ كہيں مشكلات نہ كھڑى ہو جائيں، ہمارے ليے تو بہو اور اس كے گھر والوں كى جانب سے يہ مشكل كھڑى كرنا بہت بڑا صدمے كا باعث بن گيا ہے، كيونكہ اس كا كوئى سبب بھى نہيں، اور ہمارے تعلقات بھى بہت قوى تھے، اور پھر ميں اپنے بيٹے كو چھوڑ بھى نہيں سكتى، ميں اور خاوند نے چھوٹى بہو كے ليے گھر خالى كر ديا اور بڑے بيٹے كے پاس جا كر رہنے لگے گھر سے نكلى تو ميں بلند آواز سے پھوٹ پھوٹ كر رو رہى تھى، كيونكہ مجھے توقع نہ تھى كہ زندگى ميں مجھے ايسا دن بھى ديكھنا پڑےگا.
اس كے بعد بہو كے والد نے لوگوں كى باتوں كى خاطر اور لوگوں سے بچنے كے ليے بہو كو اس شرط پر واپس لانے كى رضامندى ظاہر كى كہ ہم ميں سے كوئى بھى اس كے گھر ميں داخل نہيں ہوگا، اور نہ ہى بہو كے ميكے كوئى جائيگا، اس طرح ميرى بہو سے محبت كراہت ميں تبديل ہو گئى اور ميں اس كے ليے بد دعا كرنے لگى، اس حالت كو اب تقريبا دس ماہ ہو چكے ہيں، اور اس كے مقابلہ ميں بہو كے ميكے والوں كى جانب سے قطع رحمى بھى ہو رہى ہے، ميں بہت پريشان ہوں اور حرام كام ميں پڑنے سے خوفزدہ ہوں، كہ كہيں يہ حرام نہ ہو، اور ميں اپنے آپ پر كنٹرول بھى نہيں كر سكتى كہ اسے پسند كرنے لگوں، اس ليے آپ سے گزارش ہے كہ آپ ہميں اس سلسلہ ميں معلومات فراہم كريں، كہ ہميں كيا كرنا چاہيے تا كہ ہم حرام عمل ميں نہ پڑ جائيں، اور اللہ كى ناراضگى سے بچ سكيں، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

Published Date: 2012-09-29

الجواب:

الحمد للہ:

اول:

ہمارى سائلہ بہن آپ يہ علم ميں ركھيں كہ آپ كى بيوى كو عليحدہ اور مستقل گھر ميں رہنے كا حق حاصل ہے، جس ميں رہنے سہنے كى سارى ضروريات موجود ہوں، اور يہ رہائش خاوند كى وسعت و قدرت اور بيوى كى حالت كے مطابق ہوگى، يہ بيوى كے حقوق ميں شامل ہے جس سے وہ دستبردار بھى ہو سكتى ہے تا كہ بہو اپنى ساس اور سسر كے ساتھ رہ سكے، اگر وہ دستبردار ہو جائے يا پھر خاوند نے شادى كرنے سے قبل ساس سسر كے ساتھ رہنے كى شرط ركھى اور بيوى نے قبول كر لى، يا پھر بيوى كو علم ہو كہ خاوند اپنے والدين كے ساتھ ہى رہےگا عليحدہ نہيں ہوگا اور بيوى نے اسى حالت ميں شادى كرنا قبول كر ليا تو پھر وہ شادى كے بعد عليحدہ رہائش كا مطالبہ نہيں كر سكتى.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جو شخص بيوى كے ليے شرط ركھے كہ وہ اسے اپنے والد كے گھر ميں ہى ركھےگا اور بيوى نے خاموشى اختيار كر لى پھر بعد ميں بيوى عليحدہ رہائش كا مطالبہ كرے اور خاوند ايسا كرنے سے عاجز ہو تو خاوند پر وہ چيز لازم نہيں كى جا سكتى جس سے وہ عاجز ہے، بلكہ اگر طاقت بھى ہو تو امام مالك كے ہاں بيوى كو ايسا مطالبہ كرنے كا حق نہيں، جس ميں شرط نہيں ركھى اس ميں امام احمد وغيرہ كا بھى ايك قول يہى ہے "

ديكھيں: الاختيارات ( 541 ).

دوم:

ہمارى بہن آپ كو يہ معلوم ہونا چاہيے كہ آپ كى بہوؤں پر آپ يا آپ كے خاوند كى خدمت كرنا واجب نہيں، ليكن اگر وہ راضى خوشى كرتى ہيں تو پھر كوئى حرج نہيں، اور پھر خاوند كے بيوى كے حقوق ميں شامل نہيں ہے كہ بيوى اپنى ساس اور سسر كى خدمت كرے، ان كے مابين جو شرعى عقد نكاح ہوا ہے اس كى بنا پر بيوى كے ذمہ خاوند كى خدمت كرنا واجب ہے، اور خاوند سے پيدا ہونے والى اولاد كى تربيت اور ديكھ بھال كرنا فرض ہوگى.

ليكن خاوند كا اپنى بيوى كو والدين كى خدمت كرنے كا مكلف كرنا اور اس پر انہيں مجبور كرنا جائز نہيں ہے اور نہ ہى شريعت نے اسے واجب كيا ہے، ليكن اگر كوئى عورت اپنى راضى و خوشى سے اجروثواب حاصل كرنے اور خاوند كوخوش ركھنے كے ليے خدمت كرتى ہے تو كوئى حرج نہيں.

بيوى كى جانب سے ايسے مباح امور تلاش كرنا اور اعمال بجا لانا جس سے خاوند راضى ہوتا ہو يہ اس كى عقلمندى اور دينى متانت كى دليل ہے، ليكن اگر كوئى ايسا نہ كرے تو كوئى حرج نہيں ہے.

مزيد آپ سوال نمبر ( 120282 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

سوم:

اگرچہ كسى شرعى دليل كے نہ ہونے كى بنا پر آپ كى بہو پر آپ كى خدمت اور ديكھ بھال كرنا واجب نہيں، ليكن اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان تو يہ ہے:

{ اور تم آپس ميں ايك دوسرے كے فضل كو مت بھولو يقينا اللہ سبحانہ و تعالى جو تم عمل كر رہے ہو انہيں خوب ديكھنے والا ہے }البقرۃ ( 237 ).

اور اللہ سبحانہ و تعالى كا يہ بھى فرمان ہے:

{ اور تم ( ايك دوسرے كے ساتھ ) احسان كرو، يقينا اللہ تعالى احسان كرنے والوں كو پسند فرماتا ہے }البقرۃ ( 195 ).

اہل مروت لوگوں ميں تو يہ رواج بن چكا ہے اور خاص كر جب خاوند اور بيوى كا آپس ميں پہلے سے ہى رشتہ دار ہوں جو كہ آپ ميں موجود ہے، اور پھر اس كى اولاد بھى نہيں بلكہ بيوى سارا دن فارغ رہتى ہے، اور اس كو كوئى كام بھى نہيں.

ليكن آپ كے بچوں پر واجب ہے كہ وہ اس سلسلہ ميں اپنى بيويوں كى معاونت كريں، اور اگر كسى ايك بہو پر بوجھ ہو تو دوسرى بہو اس كى معاونت كرے، اس سلسلہ ميں بھى آپ كے بيٹوں كو ان كى معاونت كرنا ہوگى، اور اگر وہ ملازمہ لا كر ركھنے كى استطاعت ہو تو وہ آپ كے ليے ملازمہ ركھ ليں اور ان كى بيويوں كو بھى حسب استطاعت كام كرنے كا كہہ سكتے ہيں، اور پھر اچھى بات كرنا بھى صدقہ ہے.

چہارم:

اس عورت اور اس كے خاندان والوں كے متعلق آپ ميں جو تبديلى آئى ہے وہ ايك طبعى چيز ہے، كيونكہ احسان كرنے والے كے ساتھ محبت پيدا ہونا اور برا سلوك كرنے والے كو ناپسنديدگى كى نگاہ سے ديكھنا ايك طبعى چيز ہے اور يہ خود بخود پيدا ہو جاتى ہے.

ليكن فضل و كرم والے لوگ اس كے پيچھے نہيں پڑ جاتے بلكہ وہ اس كے اثرات سے چھٹكارا حاصل كرنے كى كوشش كرتے ہيں، اور جو ان كے ساتھ برا سلوك كرے اس معافى و در گزر كى نگاہ سے ديكھتے ہيں.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور برائى كا بدلہ اس جيسى برائى ہے، اور جو معاف كر دے اور اصلاح كر لے اس كا اجر اللہ كے ذمے ہے، يقينا بات يہى ہے كہ اللہ تعالى ظالموں سے محبت نہيں كرتا }الشورى ( 40 ).

اگر انسان اپنے ساتھ برا سلوك كرنے والے كو معاف كر كے احسان كے مقام و مرتبہ تك پہنچ جائے تو اس كے ليے يہ اللہ جل جلالہ كى جانب سے بہت عظيم فضل و كرم كا باعث ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ نيكى اور برائى برابر نہيں ہو سكتى، برائى كو بھلائى سے دور كرو پھر وہى جس كے اور تمہارے درميان دشمنى ہے ايسا ہو جائيگا جيسا دل دوست، اور يہ بات تو صرف صبر كرنے والوں كو ہى حاصل ہوتى ہے، اور اسے سوائے بڑے نصيبے والوں كے كوئى نہيں پا سكتا، اور اگر شيطان كى طرف سے كوئى وسوسہ آئے تو اللہ كى پناہ طلب كرو، يقينا وہ بہت ہى سننے والا خوب جاننے والا ہے }حم السجدۃ ( 34 - 35 ).

شيخ سعدى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" خاص احسان كا موقع بہت بڑا ہے، وہ يہ كہ جس نے آپ كے ساتھ برا سلوك كيا ہے اس كے ساتھ تم احسان كرو، اسى ليے اللہ تعالى نے فرمايا ہے:

" برائى كو اچھائى كے ساتھ دفع اور دور كرو "

يعنى جب مخلوق ميں سے آپ كے ساتھ كوئى شخص برا سلوك كرے، خاص كر وہ شخص جس كا آپ پر بہت بڑا حق ہے مثلا رشتہ دار اور دوست و احباب وغيرہ آپ كو برا كہيں يا آپ كے ساتھ كوئى برا فعل كريں تو آپ اس كے مقابلہ ميں اس كى ساتھ احسان كريں، اگر وہ شخص آپ سے قطع تعلقى كرتا ہے تو آپ اس سے صلہ رحمى كريں، اور اگر وہ آپ پر ظلم كرتا ہے تو آپ اسے معاف كر ديں، اور اگر وہ آپ كے خلاف باتيں كرتا ہے تو آپ اس كا بلد مت ليں بلكہ اسے معاف كر ديں، اور اس كے ساتھ نرم رويہ كے ساتھ بات چيت كريں.

اور اگر وہ آپ سے بائيكاٹ كرتا ہے اور آپ سے كلام نہيں كرتا تو آپ اس كے ساتھ پھر بھى اچھى بات كريں، اور اسے سلام كريں، اس ليے جب آپ برائى كے مقابلہ ميں اچھائى اور نيكى كريں گے تو اس سے عظيم فائدہ حاصل ہوگا.

اسى ليے اللہ سبحانہ و تعالى نے فرمايا:

" تو وہ شخص جس كے اور آپ كے درميان دشمنى ہے وہ دلى دوست بن جائيگا " يعنى وہ قريب اور شفقت كرنے والا بن جائيگا.

اور يہ خصلت صرف اسے ہى حاصل ہوتى ہے اس كى توفيق بھى اسے ہى ملتى ہے جو ناپسند اشيا كے حصول پر صبر سے كام ليتے ہيں، اور جو اپنے آپ كو اللہ تعالى كى محبوب اشياء پر مجبور كر ديتے ہيں، كيونكہ نفوس ميں طبعى طور پر برے سلوك كے بدلے ميں برا سلوك كرنا ہى پايا جاتا ے، اور معاف نہيں كرتے، تو پھر احسان كيسے كريں، اس ليے صبر سے كام لينے والوں ميں ہى احسان پايا جائيگا.

چنانچہ جب انسان اپنے آپ كو صبر پر تيار كرتے ہوئے اللہ سبحانہ و تعالى كے حكم پر عمل كرے، اور اس كے عظيم اجروثواب كو كا علم حاصل كر لے، اور اسے معلوم ہو جائے كہ برا سلوك كرنے والے شخص كے ساتھ اسى طرح كا برا سلوك كرنے سے كوئى فائدہ نہيں ہوتا، بلكہ اس سے بغض و عداوت اور نفرت و دشمنى ميں اضافہ ہوتا ہے، اور ايسے شخص كے ساتھ حسن سلوك اور احسان كرنے سے اس كى عزت ميں كمى واقع نہيں ہوگى، بلكہ تواضح و انكسارى سے تو عزت ميں اور اضافہ ہوتا ہے اگر اسے ان سب اشياء كا علم ہو جائے تو اس كے ليے يہ معاملہ آسان ہو جائيگا، اور وہ اس پر عمل كرتے ہوئے لذت و حلاوت حاصل كريگا.

اور يہ چيز تو نصيبے والوں كو ہى حاصل ہوتى ہے.

كيونكہ يہ خصلت تو مخلوق ميں سے خاص اشخاص كى ہے، جس كے ذريعہ بندہ دنيا و آخرت ميں رفعت و بلندى حاصل كرتا ہے، جو مكارم اخلاق كى سب سے عظيم اور بڑى خصلتوں ميں شامل ہوتى ہے " انتہى

ديكھيں: تفسير السعدى ( 749 ).

اور صحيح مسلم ميں ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" صدقہ كرنے سے مال ميں كمى نہيں ہوتى، اور معافى و درگزر كرنے پر اللہ تعالى بندے كى عزت ميں اضافہ كرتا ہے، اور جو كوئى بھى تواضع اختيار كرے اللہ تعالى اسے اور مقام و مرتبہ عطا كرتا ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 2588 ).

ہم دعا گو ہيں كہ اللہ سبحانہ و تعالى آپ دونوں كے مابين اصلاح فرمائے، اور ہميں سيدھى راہ دكھائے.

واللہ اعلم

الاسلام سوال وجواب
Create Comments