ar

127635: بيوى نے ماضى كے كچھ اعترافات كيے تو اب خاوند اسے عار دلاتا اور طعنے د يتا اور گاليا نكالتا ہے


خاوند كى منت و سماجت اور اصرار كے بعد ميں نے اپنے ماضى كے بارہ ميں بتا ديا، حالانكہ ميں توبہ كر چكى تھى اور شادى سے تين برس قبل اپنى اصلاح كر كے دين احكام كا التزام بھى كرنا شروع كر ديا تھا، اور اللہ كے فضل و كرم سے اب تك اس پر قائم ہوں.
ليكن مجھے اس كى باتيں پريشان كرتى ہيں، اور وہ مجھے طعنے ديتا اور فاسق قسم كى عورتوں كے ساتھ تشبيہ ديتا ہے اور كہتا ہے كہ ميرى تربيت اچھى نہيں كى گئى، ميں اپنى تقدير پر راضى ہوں، اور اپنے خاوند سے محبت كرتى ہوں اللہ سے دعا ہے كہ وہ ہميں ہدايت نصيب فرمائے، اور ہمارے حالات كى اصلاح فرمائے، اور جن اور انسانوں ميں سے شيطان كو ہم سے دور كرے.
ميرا سوال يہ ہے كہ: كيا ميرى غلطياں اور وہ گناہ جو ميں ماضى ميں كر چكى ہوں، ان كى بنا پر مجھے پاك اور عفت و عصمت والى كہنے ميں مانع ہيں، كہ ميں ايك اچھى اور فاضل پاكباز مسلمان عورت نہيں كہلا سكتى ؟
اور كيا ميرا خاوند ميرے بارہ ميں سوء ظن ركھنے كى بنا پر اور مجھ پر سب و شتم كرنے كى وجہ سے گنہگار ہوگا ؟
اور كيا ايسا كرنے پر ميرا خاوند ايك پاكباز عورت پر بہتان لگانے والا شمار كيا جائيگا يا نہيں، يا كہ ميرى جيسى عورت كو پاكباز عورت كہنا جائز نہيں ہے ؟

Published Date: 2011-12-21

الحمد للہ:

اول:

خاوند كا اپنى بيوى سے اس كے ماضى كے بارہ ميں بتانے كا مطالبہ كرنا يہ اس كى كم فہمى اور سوء تقدير پر دلالت كرتا ہے، نہ تو عقل ہى اس كو كريدنا اور تلاش كرنا پسند كرتى ہے، اور نہ ہى شريعت اسلاميہ اسے قبول كرتى ہے.

اور پھر بيوى نے خاوند كى بات مان كر اسے اپنا ماضى بتا كر اچھا نہيں كيا بلكہ اس نے بہت بڑى غلطى كى ہے كيونكہ خاوند اور بيوى كے مابين اكثر ايسا ہو جاتا ہے، ليكن بيوى كو اپنے ماضى كے راز افشا نہيں كرنے چاہيں.

خاوند اور بيوى دونوں كو يہ معلوم ہونا چاہيے، خاوند اور بيوى دونوں كو اس برے عمل اور فعل سے اجتناب كر كے دور ہى رہنا بہتر ہے، ہم ہر خاوند اور بيوى سے يہى عرض كريں گے كہ آپ لوگ جو كچھ اس سلسلہ ميں كرتے ہو كہ ايك دوسرے كو اپنے ماضى كى باتيں بتانے لگتے ہو يہ شرعى طور پر حلال نہيں.

اور پھر عقل و دانش ركھنے والے شريف لوگوں كا بھى يہ عمل نہيں ہے، اور بيويوں سے بھى ہمارى گزارش ہے كہ وہ اللہ كى سترپوشى سے اپنے آپ ماضى كو پردہ ميں ہى رہنے ديں اور كسى بھى لحظہ يہ حماقت كر كے اپنى ازدواجى زندگى كو اجيرن مت بنائيں.

كہ خاوند تمہيں كہے كہ اپنے ماضى كے متعلق بالكل صاف صاف بتاؤ كہ تمہارے كس كس سے تعلقات رہے ہيں يا تم كيا كرتى رہى ہو، تو تم اپنے خاوند كو راضى كرنے كے ليے اپنے راز افشا كرنے لگو اور اسے ماضى كے بارہ ميں بتا دو، ايسا بالكل مت كرنا!! كيونكہ اس كى اندھى غيرت اسے برداشت نہيں كر پائےگى

اس ميں كوئى شك نہيں كہ جب بيوى اپنا ماضى ظاہر كريگى جس پر اللہ سبحانہ و تعالى نے پردہ ڈال ركھا تھا تو پھر خاوند كى حالت يہ ہو گى كہ وہ بيوى كے تصرفات ميں شك كرنے لگےگا اور آئندہ كے ليے اس پر اعتماد نہيں كريگا.

اس طرح شيطان كو موقع مل جائيگا اور وہ خاوند كو بيوى كى بات چيت اور اس كى شكل اور ہر كام ميں شك پيدا كرنے كى كوشش كريگا، يہاں ہم ديكھتے ہيں كہ اكثر خاوند اپنى مردانگى كے معانى ہى كھو بيٹھتے ہيں، اور ان كا دين كم ہو جاتا ہے، اور وہ اپنى بيوى كو ماضى كے طعنے دينے لگتے ہيں.

بلكہ بعض اوقات تو خاوند اپنى بيوى پر بہتان بھى لگانے لگتا اور اسے گالياں تك نكالنے لگتا ہے، حالانكہ اس نے بيوى سے وعدہ كيا تھا كہ اگر وہ اپنے ماضى كے كردار كے بارہ ميں بتا دے تو وہ ناراض نہيں ہوگا اور كچھ نہيں كہےگا.

ايسا كرنے ميں اس حقيقت كے سوا كچھ نہيں كہ وہ اپنے خراب ماضى كو كھول كر ركھتى ديتى ہے اور اس طرح شيطان كو موقع مل جاتا ہے كہ وہ ان كى سعادت والى زندگى ميں اس طرف سے داخل ہو كر اپنے مكر و فريب كے ذريعہ سے گھر اور خاندان كو تباہ كر كے ركھ دے.

ہم تو اس كے علاوہ كچھ نہيں كر سكتے كہ عورتوں كو يہى نصحيت كريں كہ ايسا كرنا حرام ہے، چاہے خاوند اصرار بھى كرے اور منت و سماجت اور لجاجت كے ساتھ بھى مطالبہ كرے تو پھر بھى اسے ماضى كے بارہ ميں كچھ بتانا حرام ہے، بلكہ تم ميں سے ہر ايك اپنے برے ماضى سے انكار ہى كرے.

اور اسے عفت و عصمت اور پاكبازى پر مصر رہنا چاہيے كہ وہ عفت و عصمت كى مالك ايك پاكباز خاتون ہے، اگر كسى كا ماضى برا بھى ہو تو اللہ سبحانہ و تعالى نے جس پر پردہ ڈال ركھا ہے وہ اللہ كے اس پردہ كو مت اتار پھينكے، كيونكہ جو شخص توبہ كر ليتا ہے وہ تو بالكل اسى طرح ہو جاتا ہے جس كا كوئى گناہ نہ ہو.

ہم خاوندوں سے بھى كہيں گے كہ تم بھى اپنے گھرانہ اور خاندان كے متعلق اللہ كا ڈر اور تقوى اختيار كرو، اور يہ جان لو كہ تمہارے ليے اپنى بيويوں سے اس كے ماضى كے بارہ ميں دريافت كرنا حلال نہيں ہے.

تم ان كے ماضى كے بارہ ميں دريافت كر كے اپنے آپ كو دھوكہ ميں مت ڈالو كہ يہ چيز تمہارى ازدواجى زندگى پر اثرانداز نہيں ہوگى؛ بلكہ اس كا برا اثر ضرور ہوگا، اور آپ اپنے اوپر اس كا برا اثر ضرور ديكھيں گے، اور پھر يہيں پر بس نہيں بلكہ آپ كى ازدواجى زندگى پر بھى بہت جلد برا اثر پڑےگا.

حالانكہ اگر آپ كسى كو برا كام اور معصيت و گناہ كرتے ہوئے ديكھيں تو اس حالت ميں آپ كو اس پر ستر پوشى كا حكم ديا گيا ہے، تو پھر آپ كسى ايسے ماضى كو كيسے كھديڑ سكتے ہيں جس ميں آپ موجود ہى نہ تھے تا كہ آپ كى سماعت اس پر گواہى دے؟ اور پھر اس بيوى كا ماضى ادھيڑنے كى كوشش جو تيرے بستر كى امين كہلاتى ہے اور تيرے گھر كى محافظ؟!!

اس ليے اپنے آپ اور اپنى بيويوں كے بارہ ميں اللہ سبحانہ و تعالى كا ڈر اور تقوى اختيار كرو.

صحيح بخارى اور صحيح مسلم ميں انس رضى اللہ تعالى عنہ سے حديث مروى ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ:

" زوال كے بعد رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نكلے اور ہميں ظہر كى نماز پڑھائى، جب سلام پھيرا تو منبر پر كھڑے ہو قيامت كا ذكر كيا، اور قيامت سے قبل كچھ عظيم اور بڑے امور كا ذكر كيا، پھر فرمايا:

جو شخص مجھ سے كسى چيز كے متعلق پوچھنا چاہتا ہے وہ دريافت كر لے، اللہ كى قسم تم مجھ سے جس چيز كے متعلق بھى دريافت كرو گے جب تك ميں اپنى اس جگہ ميں ہوں تمہيں اس كے بارہ ضرور بتاؤں گا!!

انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے لوگوں نے يہ بات سنى تو كثرت سے رونے لگے، اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كثرت سے كہنے لگے مجھ سے پوچھ لو.

تو عبد اللہ بن حذافہ رضى اللہ تعالى عنہ كھڑے ہو كر عرض كرنے لگے: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم مجھے بتائيں كہ ميرا باپ كون ہے ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: تيرا باپ حذافہ ہے!! ...

صحيح بخارى حديث نمبر ( 7294 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2359 ).

انس رضى اللہ تعالى عنہ سے حديث بيان كرنے والے راوى ابن شھاب زہرى كہتے ہيں:

مجھے عبيد اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے بتايا كہ:

عبد اللہ بن حذافہ كى ماں عبد اللہ بن حذافہ كو كہنے لگى ميں نے تجھ سے زيادہ كسى نافرمان بيٹے كے متعلق كبھى نہيں سنا؛ كيا تم نے سمجھا كہ تيرى ماں نے وہ كچھ كيا ہے جو اہل جاہليت كى عورتيں كيا كرتى تھيں، اور تم اسے لوگوں كے سامنے ذليل كرنا چاہتے تھے ؟!!

اس عورت كى عقلندى ديكھيے اس نے اس سوال ميں جو عظيم خرابى پائى جاتى تھى وہ كس طرح سمجھى كہ سائل كے ليے اس ميں كتنى عظيم خرابى اور فساد پايا جاتا ہے، اور اس كے نتيجہ ميں جو سائل نے فائدہ اور مصلحت سوچى تھى اس سے اس سے حاصل ہونے والى تنگى اور مشتقت كئى حصہ زائد ہے، حالانكہ اسے اپنے اوپر يقين تھا كہ وہ بچہ ( عبد اللہ ) اپنے باپ كے علاوہ كسى اور كا ہو!!

صحيح بخارى اور مسلم وغيرہ ميں ہے كہ اسى سلسلہ ميں اللہ سبحانہ و تعالى نے يہ فرمان نازل كيا:

{ اے ايمان والو تم ايسى اشياء كے بارہ ميں مت دريافت كرو كہ اگر ان كے بارہ ميں ظاہر كر ديا جائے تو تمہيں برا لگے }المآئدۃ ( 101 ).

ابن كثير رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اللہ سبحانہ و تعالى كى جانب سے يہ اس كے بندوں كو ادب سكھايا گيا ہے اور انہيں " ايسى اشياء " كے بارہ ميں سوال كرنے سے منع كيا گيا ہے جس ميں ان كے ليے كوئى فائدہ نہيں؛ كيونكہ اگر ان كے ليے ان امور كو ظاہر كر ديا جائے تو پھر انہيں برا لگے اور ان كے ليے اسے سننا مشكل ہو جائے " انتہى

ديكھيں: تفسير ابن كثير ( 3 / 203 ).

شيخ سعدى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اللہ سبحانہ و تعالى اپنے مومن بندوں كو ايسے اشياء دريافت كرنے سے منع كر رہے ہيں جب انہيں بيان كر ديا جائے تو وہ انہيں اچھى نہ لگيں اور وہ پريشان ہو جائيں، مثلا كچھ مسلمانوں كا رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے اپنے آباء و اجداد كے متعلق دريافت كرنا، اور ا نكى حالت ميں بارہ ميں دريافت كرنا كہ آيا وہ جنت ميں ہيں يا جہنم ميں.

ہو سكتا ہے ہو سكتا ہے اگر سائل كے ليے اسے بيان كر ديا جائے تو اس ميں خير نہ ہو، مثلا ان كا ايسے امور كے بارہ ميں دريافت كرنا جو واقعہ ہى نہيں، اور اسى طرح ايسا سوال جس كے نتيجہ ميں شريعت ميں تشديد پيدا ہو جائے، اور ہو سكتا ہے امت تنگى ميں پڑ جائے، اور اسى طرح لا يعنى سوالات كرنا " انتہى

ديكھيں: التفسير السعدى ( 245 ).

سوم:

ہمارى سائل بہن آپ نے جو كچھ اپنے خاوند سے كہا ہے اس كى اللہ سبحانہ و تعالى سے توبہ و استغفار كريں كيونكہ يہ معصيت و نافرمانى ہے، آپ كو ايسا نہيں كرنا چاہيے تھا، اور يہ علم ميں ركھيں كہ ماضى ميں جو كچھ ہوا اس سے آپ كى پكى و سچى توبہ كرنا اللہ سبحانہ و تعالى كے ساتھ زندگى كا ايك نيا صفحہ كھولنا ہے.

كيونكہ " توبہ كرنے والا شخص بالكل ايسى ہى ہے جيسے كسى كا كوئى گناہ نہ ہو "

صحيح ابن ماجہ كى حديث نمبر ( 4250 ) ميں بھى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ايسے ہى مروى ہے علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابن ماجہ ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

نہيں بلكہ ہم تو اللہ تعالى سے اميد ركھتے ہيں كہ آپ كى برائيوں كو نيكيوں سے تبديل كر دےگا؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى نے بندے كا كبيرہ گناہوں كے مرتكب ہونے پر وعيد كا ذكر كرنے كے بعد فرمايا ہے:

{ مگر وہ جس نے توبہ كر لى اور ايمان لے آيا اور نيك و صالح اعمال كيے تو انہى لوگوں كى برائيوں كو اللہ تعالى نيكيوں ميں تبديل كر ديتا ہے، اور اللہ سبحانہ و تعالى بخشنے والا رحم كرنے والا ہے، اور جو كوئى بھى توبہ كرتا اور نيك و صالح اعمال كرتا ہے تو يہى اللہ كى طرف حقيقتا سچا رجوع كرتا ہے } الفرقان ( 70 - 71 ).

اس ليے ان شاء اللہ آپ اپنے گناہوں كى توبہ كرنے سے بالكل عفت و عصمت والى پاكباز بن كر لوٹيں گى، اور آپ فاسقہ نہيں اور نہ ہى آپ جيسى عورتيں فاسق ہوتى ہيں.

چہارم:

آپ كے خاوند كے ليے جائز نہيں كہ وہ آپ كے ماضى پر آپ كو عار دلائے اور اس پر طعن و تشنيع كرے، اور نہ ہى آپ كو گالى نكال سكتا ہے، اور اگر وہ ايسا كرتا ہے تو آپ كو اذيت و تكليف دينے، اور سب و شتم كى بنا پر خود گنہگار ٹھرےگا، يہ سب كچھ مسلمان شخص كے ليے اپنے دوسرے مسلمان بھائى كے خلاف كرنا حرام ہے.

عبد اللہ بن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" مسلمان كو گالى دينا فسق ہے، اور اس سے لڑنا اور قتال كرنا كفر ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5697 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 64 ).

امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" لغت عرب ميں سب يعنى گالى شتم اور انسان كى عزت ميں ايسا عيب لگانا جو اس ميں نہيں پايا جاتا گالى كہلاتا ہے.

اور فسق لغت عرب ميں خروج كو كہتے ہيں جس سے شرعيت ميں اطاعت سے باہر ہونا مراد ہے.

اور حديث كا معنى يہ ہے كہ:

مسلمان شخص كو ناحق گالى دينا اور ناحق عيب لگانا بالاجماع حرام ہے، اور ايسا كرنے والا شخص فاسق كہلائيگا جيسا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے حديث ميں بتايا ہے. انتہى

ديكھيں شرح مسلم ( 2 / 53 - 54 ).

اور پھر حديث ميں تو كسى كو اذيت و تكليف دينے اور گناہ كى عار دلانے اور طعنہ دينے اور كسى كا عيب تلاش كرنے سے منع كيا گيا ہے اور ايسا كرنے والے كے ليے شديد وعيد آئى ہے.

ثوبان رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اللہ كے بندوں كو اذيت و تكليف مت دو، اور نہ ہى انہيں عاد دلاؤ، اور ان كے عيب تلاش مت كرو؛ كيونكہ جس نے بھى اپنے كسى مسلمان بھائى كے عيب تلاش كيے تو اللہ تعالى اس كے عيب كے پيچھے پڑ كر اسے اس كے گھر ميں رسوا كر دے گا "

مسند احمد ( 37 / 88 ) مسند احمد كے محققين نے اسے صحيح قرار ديا ہے.

ليكن اگر اس كا سب و شتم بہتان پر مشتمل ہو يعنى زنا اور فحاشى جيسے فعل كا ارتكاب، آپ نے جو كچھ ماضى ميں كيا ہے اور خاوند كے سامنے ظاہر كيا ہے اس كے نتيجہ ميں اس كى تفصيل پائى جائيگى:

1 ـ معذرت كے ساتھ ہم يہ كہيں گے كہ: اگر تو آپ سے زنا كا ارتكاب ہوا تھا اور آپ نے خاوند كے سامنے اس كا اقرار بھى كر ليا تو پھر وہ ايسى عبارت بولنے ميں جس ميں بہتان جيسى بات ہو اس سے وہ بہتان لگانے والا نہيں بن سكتا كيونكہ آپ نے زنا كا اقرار كر كے اپنى پاكبازى و عفت و عصمت ساقط كر دى ہے.

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ اور زيد بن خالد الجھنى رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ:

ايك اعرابى شخص رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آيا كر عرض كرنے لگا:

" اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميں آپ كو اللہ كا واسطہ ديتا ہوں كہ ميرا اللہ كى كتاب كے ساتھ فيصلہ فرمائيں.

اس اعرابى كے مد مقابل دوسرے شخص نے كہا: جو كہ اس سے زيادہ سمجھدار شخص تھا ـ جى ہاں آپ ہمارے درميان اللہ كى كتاب كے ساتھ ہى فيصلہ فرمائيں ليكن مجھے كچھ كہنے كى اجازت بھى ديں.

چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: كہو كيا كہنا چاہتے ہو ؟

تو وہ يوں گويا ہوا: ميرا بيٹا اس شخص كا ملازم تھا .....

صحيح بخارى حديث نمبر ( 6440 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1697 ).

ابن عبد البر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" يہ اس شخص كى جانب سے بيوى پر بہتان تھا، ليكن جب عورت نے زنا كا اعتراف كر ليا تو پھر بہتان كا حكم ساقط ہو گيا.

ديكھيں: الاستذكار ( 7 / 482 ).

اس كا يہ معنى نہيں كہ وہ قاذف يعنى بہتان لگانے والا نہيں تو گنہگار بھى نہيں ہوگا اور نہ ہى اس پر بطور سزا تعزير لگائى جائيگى، نہيں بلكہ وہ اذيت دينے اور فحش كلام كى بنا پر گنہگار ہوگا، اور حاكم و قاضى جو مناسب سمجھے اسے تعزيرا سزا دےگا، اور اس كے ليے ايسا قول تكرار كے ساتھ كہنا جائز نہيں ہوگا.

اس ميں قاعدہ اور اصول يہ ہے كہ: مقذوف يعنى جس پر قذف اور بہتان لگايا جا رہا ہے اس كے پاكباز نہ ہونے كى وجہ سے قاذف پر حد قذف واجب نہيں ہوگى، بلكہ اسے تعزير لگائى جائيگى، كيونكہ اس نے ايسے شخص كو اذيت و تكليف دى ہے جسے تكليف و اذيت نہيں دينى جائز نہيں تھى "

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 33 / 19 ).

اوپر جو بيان ہوا ہے وہ اصل كے اعتبار سے ہے، ليكن يہاں دو مسئلے ہيں:

اول:

آپ يا كسى اور سے زنا كا اعتراف كرنے والے پر قذف لگانے والا قاذف كہلائيگا يا نہيں ؟

اس ميں راجح يہى ہے كہ اگر اس نے مبہم زنا كى تہمت لگائى تو وہ قاذف شمار ہوگا، يا پھر آپ كے سامنے اس نے زنا كا اعتراف نہ كيا ہو اور تہمت لگائى جائے تو قاذف شمار ہو گا.

جس كے متعلق گواہى يا اقرار كے ساتھ زنا ثابت ہو جائے اس كے بارہ ميں الموسوعۃ الفقھيۃ ميں درج ہے:

" ابراہيم نخعى اور ابن ابى ليلى رحمہما اللہ سے بيان كيا گيا ہے كہ:

اگر اس نے اس زنا كے بغير يا پھر مبھم زنا كى تہمت لگائى تو اسے حد لگائى جائيگى؛ كيونكہ تہمت اور بہتان حد واجب كرتى ہے.

ليكن اگر تہمت اور بہتان لگانے والا سچا ہو، اور وہ سچا اس طرح ہو سكتا ہے كہ جب اس نے اس زنا كو بعينہ كسى شخص سے معين كيا، ليكن اس كے علاوہ ميں وہ جھوٹا ہوگا اور سچا نہيں مانا جائيگا " انتہى

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 33 / 19 ).

دوم:

اگر زنا كے بعد توبہ كر لى ہو تو كيا پھر بھى وہ قاذف شمار نہيں ہو گا ؟

اس ميں راجح يہ ہے كہ جس نے زنا سے توبہ كر لى ہو تو وہ بالكل اس كى طرح ہے جس نے زنا نہيں كيا دنيا و آخرت ميں اسے كوئى گناہ نہيں ہوگا كيونكہ حديث ميں آيا ہے:

" توبہ كرنے والا شخص بالكل ايسے ہى ہے جيسے كسى شخص كا كوئى گناہ نہيں "

ليكن بعض شافعيہ كہتے ہيں كہ يہ صرف آخرت ميں ہے.

اس بنا پر اگر آپ كى توبہ كے بعد اس نے ايسى بات كى جس ميں بہتان اور قذف والى بات ہو تو وہ قاذف شمار ہو گا چاہے آپ نے اس كے سامنے اس فعل كا اقرار بھى كيا ہو.

مداوى حنبلى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جس نے بھى زنا سے توبہ كر لى اور پھر اس پر قذف لگائى گئى تو قذف لگانے والے كو صحيح مسلك كے مطابق حد قذف لگائى جائيگى.

ديكھيں: الانصاف ( 10 / 171 ).

2 ـ اور اگر آپ سے يہ فحش كام كا ارتكاب نہيں ہو ليكن صرف حرام تعلقات ہى تھے يعنى ميل جول تھا جو زنا كے ارتكاب تك نہيں پہنچا تو اس حالت ميں اگرلا خاوند نے كوئى ايسى بات كى جس ميں تہمت اور بہتان تھا تو وہ قاذف شمار ہو گا.

اور اس بنا پر اسے سب و شتم كے علاوہ اور بھى گناہ ہو گا، اور ا سكا يہ فعل كبيرہ گناہ شمار ہوتا ہے، اس بنا پر اسے حد قذف لگانى واجب ہوگى، اور يہ حديث اسى ( 80 ) كوڑے ہونگے، اور اس پر فسق كا حكم لگايا جائيگا، اور اس كى گواہى قبول نہيں كى جائيگى.

كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور وہ لوگ جو پاكباز عورتوں پر بہتان لگاتے ہيں اور پھر وہ اس پر چار گواہ پيش نہ كريں تو انہيں اسى ( 80 ) كوڑے لگاؤ اور ہميشہ كے ليے ان كى گواہى قبول نہ كرو، ا ور يہى لوگ فاسق ہيں }النور ( 4 ).

اور پھر اللہ سبحانہ و تعالى نے بہتان لگانے والے كو دنيا و آخرت ميں وعيد سنانے ہوئے فرمايا ہے:

{ يقينا وہ لوگ جو پاكباز اور غافل مومن عورتوں پر بہتان لگاتے ہيں ان پر دنيا و آخرت ميں لعنت ہے، اور ان كے ليے عذاب عظيم ہے }النور ( 23 ).

خلاصہ يہ ہوا كہ:

آپ كے خاوند كے ليے حلال نہيں كہ وہ آپ كى ماضى كے آپ كو طعنے دے، اگر آپ نے فحش كام نہيں كيا تو اس كا آپ كى عزت ميں طعن كرنا تہمت اور قذف كہلائيگا، اور اگر آپ سے يہ فحش كام صادر تو ہوا ليكن آپ اس سے توبہ كر چكى ہيں تو بھى وہ قاذف يعنى بہتان لگانے والا ٹھرےگا، اور اس طرح وہ حد قذف اور وعيد كا مستحق ہوگا.

ہم آپ سے گزارش كرتے ہيں كہ آپ درج ذيل سوال نمبر كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں:

سوال نمبر ( 7650 ) اور ( 91961 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments