ar

127880: مسلمان بہنوں كے فائدہ والے كام ميں ركاوٹ ڈالنے والے سے شادى كرنے كا انكار كرنا


ميں ليڈى ڈاكٹر ہوں، اور اس كے ساتھ ساتھ ميں ڈاكٹريٹ كى تعليم مكمل كر رہى ہوں، ديكھا گيا ہے كہ اكثر نوجوان ملازمت كرنے والى لڑكى سے شادى كرنے سے انكار كرتے ہيں چاہے وہ دين كا التزام كرتى ہو يا التزام نہ كرتى ہو، اور چاہے ملازمت والى جگہ مرد و عورت كا اختلاط ہو يا نہ ہو...
ميرے خيال ميں تو ميں اپنى ملازمت ميں اچھى نيت ركھتى ہوں كيونكہ اس ميں مسلمان عورتوں كى عفت و عصمت ہے كہ اگر ليڈى ڈاكٹر نہ ہوں تو وہ مرد ڈاكٹر كے پاس جائينگى ..
ميں ہر اس شخص سے شادى كرنے سے انكار كرونگى كہ جو بھى مجھے ميرى ملازمت سے روك دے، كيونكہ ميرے خيال ميں يہ ميرا حق ہے، اور اس كے ساتھ ميں ايك مباح اور واقعى چيز كى بات كر رہى ہوں....
اور اگر سب اسى كو اختيار كر ليں تو پھر مسلمان نوجوان لڑكيوں كا كون پرسان حال ہو گا ؟
كيا ميں ان امور اور سوچ ميں غلطى پر ہوں يا صحيح ؟

Published Date: 2010-10-19

الحمد للہ:

اصل تو يہى ہے كہ عورت اپنے گھر ميں رہے، اور اس كى معلقہ تمام اخراجات كى ذمہ دارى اس كے نگران پر ہے چاہے وہ والد ہو يا خاوند جيسا كہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

} مرد عورتوں پر حاكم ہيں، اس وجہ سے كہ جو اللہ تعالى نے بعض كو بعض پر فضيلت دى ہے، اور اس وجہ سے كہ انہوں نے جو ان پر جو اپنا مال خرچ كيا ہے {النساء ( 34 ).

اور جب بھى عورت كو اجرت پر كام كى ضرورت پيش آ جائے تو اس كے ليے اس كى طبعيت كے مطابق كام كرنا جائز ہے ليكن يہ كام شرعى ضوابط كے مطابق ہو اور حرام كام اور باقى تمام خرابيوں سے خالى ہونا ضرورى ہے.

اس سلسلہ ميں تفصيل آپ سوال نمبر ( 22397 ) اور ( 33710 ) كے جوابات كا مطالعہ كريں.

جب آپ يہ سمجھ گئى ہيں كہ عورت كے اصل يہى ہے كہ وہ اپنے گھر ميں ہى رہے، اور اس كا اور گھر كا نگران مرد ہے، اس كا يہ حق نہيں كہ وہ عورت كوئى اور كام كرے، چاہے وہ گھر ميں ہى كيوں نہ ہو، چہ جائيكہ وہ كام ملازمت ہو مثلا جس طرح آج كل ملازمت ہوتى ہے ليكن اس صورت ميں كہ اگر خاوند اسے اس كى اجازت دے تو پھر.

حافظ ابن رجب حنبلى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" ہمارے علم كے مطابق تو علماء كرام كا اس ميں كوئى اختلاف نہيں كہ عورت خاوند كى اجازت كے بغير مسجد نہيں جا سكتى، ابن مبارك شافعى اوراحمد وغيرہ كا يہى قول ہے " انتہى

ديكھيں: فتح البارى ابن رجب ( 6 / 140 ).

لہذا علماء كرام كے متفقہ فيصلہ كے مطابق اگر بيوى خاوند كى اجازت كے بغير مسجد نہيں جا سكتى تو وہ ملازمت اور كام كے ليے كيسے جا سكتى ہے؟!

حنبلى كتب زاد المستقنع اور اس كى شرح الروض المربع ميں ہے:

" عقد نكاح كے بعد عورت خاوند كى اجازت كے بغير اپنے آپ كو مزدورى پر نہيں لگا سكتى؛ كيونكہ اس ميں خاوند كا حق فوت ہو جاتا ہے "

ديكھيں زاد المستقنع ( 271 ).

اوپر جو كچھ بيان ہوا ہے اس سے يہ واضح ہوتا ہے كہ خاوند كو حق حاصل ہے وہ اپنى بيوى كو ملازمت كے ليے جانے سے روك سكتا ہے، اور يہ واضح ہے، ليكن يہ اس صورت ميں ہے جب عقد نكاح ميں يہ شرط نہ ركھى گئى ہو، ليكن اگر شرط ركھى گئى ہو كہ وہ نكاح كے بعد ملازمت كريگى، يا پھر اس كى حالت سے ظاہر ہوتا كہ وہ شادى كے بعد بھى ملازمت كريگى، مثلا وہ ملازمہ ہو اور خاوند اس پر راضى ہو يا پھر خاموشى اختيار كر لے، تو پھر اسے نكاح كے بعد روكنے كا حق حاصل نہيں.

الروض المربع ميں ہے:

" خاوند كو حق حاصل ہے كہ وہ بيوى كو اپنا كام كرنے سے روكے، كيونكہ اس طرح خاوند كا حق فوت ہوتا ہے؛ چنانچہ بيوى خاوند كى اجازت كے بغير كام نہيں كر سكتى، اور اگر نكاح سے قبل وہ ملازمت كرتى ہے تو يہ صحيح ہے اور لازم ہو گى "

ديكھيں: الروض المربع ( 365 ).

اور جب خاوند كے ليے بيوى كو ملازمت اور كام كرنے سے روكنے كا حق حاصل ہے، اور سوال كرنے والى اس كو سمجھتى بھى ہے، جيسا كہ ہميں معلوم ہو رہا ہے، تو اس كو يہ حق ہے كہ وہ مشكلات اور جھگڑے سے راحت پائے اور وہ يہ شرط ركھے كہ وہ ايسى بيوى سے شادى نہيں كريگا جو ملازمت اور كام كرتى ہے، اور وہ كوئى ايسى عورت اختيار كرے جو كام نہ كرتى ہو، تا كہ وہ اپنا وقت اور جدوجھد گھر كے ليے ہى صرف كرے اور اپنے بچوں كى تربيت كرے.

اور آپ كو بھى يہ حق حاصل ہے كہ ـ آپ ايسا خاوند اختيار نہ كريں جو شادى كے بعد آپ كو ايسے كام كرنے سے منع كرے جو آپ اور لوگوں كے ليے مفيد ہو، ہم اللہ تعالى سے اميد ركھتے ہيں كہ وہ آپ كو اس نيك و صالح نيت كا اجروثواب عطا فرمائيگا جس كى طرف سوال ميں آپ نے اشارہ كيا ہے.

اور ہم يہ بھى كہيں گے كہ ہمارے خيال ميں ہر شادى كا پيغام دينے والے مرد كا يہى حال ہے كہ وہ بيوى كى ملازمت نہ كرنے كى شرط ركھتے ہوں جس كا آپ ذكر كر رہى ہيں.

اگر ايسا ہو يا پھر آپ كى اس ملازمت كى بنا پر آپ كو برابرى كا صحيح رشتہ نہ ملے اور شادى ميں تاخير كا باعث بنے تو ہم آپ سے ايك اہم سوال كرتے ہيں:

كيا حكمت اور عقل مندى يہى ہے كہ آپ اسى طرح شادى كے بغير رہيں، اور آپ كى شادى كى عمر جاتى رہے اور پھر كوئى مناسب خاوند بھى نہ مل سكے جو آپ كى عزت و اور ديكھ بھال ميں مبالغہ كرے، اور آپ كو طبعى كام كى طرف گھر واپس كر دے اس بنا پر كہ آپ عورتوں كا علاج كرتى ہيں ؟!

كيا يہ معقول ہے كہ انسان اپنے آپ كو كسى ايسے معاملہ كى بنا پر نقصان دے جو واجب اور ضرورى نہيں، حتى كہ اگرچہ وہ فى ذاتہ كام قابل تعريف بھى ہو، حالانكہ ليڈى ڈاكٹر كا كام كئى ايك شرعى مخالفات پر مشتمل ہے، اور پھر شرعى طور پر حرام كردہ خلوت بھى پائى جاتى ہے.

خاص كر جب وہ ملازمت كے ليے جائے، يا پھر اپنى تعليم كرنے كے ليے ڈاكٹريٹ كرے؛ تو اس كے كيسے ہو سكتا ہے كہ وہ اپنى تعليم اور كام ميں مردوں كے اختلاط سے بچ سكے؟!

ہمارى نصيحت كا خلاصہ يہى ہے كہ:

آپ اپنے شرعى واجب كو ادا كريں، اور اپنے دين اور نفس كى حفاظت كريں، اور شرعى مصلحت كو مدنظر ركھتے ہوئے گھر ميں بيٹھيں، اور اپنے خاوند اور بچوں ميں مشغول رہيں؛ اور اگر آپ كو ايسى شادى ميسر آ جائے جس ميں آپ كى خواہش عورتوں كا علاج معالجہ كرنا اور مرد ڈاكٹر حضرات سے انہيں بچانا اور بچوں اور خاوند ميں مشغول ہونا شامل ہو تو يہ اچھى بات ہے، اور اگر ايسا نہ ہو سكے تو آپ شرعى اور معاشرتى مصحلت كو مقدم كرتے ہوئے جلد شادى كر ليں.

اللہ كى بندى آپ كسى غائب كا زيادہ انتظار مت كريں جس كے متعلق آپ كو علم ہى نہيں كہ وہ كب آئے؛ صرف آپ دين والا اور صاحب اخلاق اپنے اور حالت كے مناسب خاوند اختيار كريں.

رہا مسئلہ مسلمان مريض عورتوں كا تو اللہ تعالى ان كے ليے آسانى پيدا فرماتے ہوئے ان كى ضرورت بھى پورى كريگا اور ان كا علاج كريگا.

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ آپ كے معاملہ ميں آسانى پيدا فرمائے، اور آپ كا شرح صدر كرے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments