ar

128802: بيوى كو كہا اگر تم ابھى پيسے نہ لائى تو تمہيں طلاق تو بيوى نے انكار كر ديا


ميں اپنى بيوى سے مناقشہ كر رہا تھا، ميرے اور بھائى كے درميان كچھ حساب و كتاب تھا بھائى اوپر والى منزل پر رہتا ہے ميں نے بيوى سے كہا: ابھى اوپر جاؤ اور ميرے بھائى سے پيسے لاؤ اگر نہ لائى تو طلاق ( وضاحت يہ ہے كہ: ميرے بھائى كے ذمہ كچھ پيسے تھے، اور ميرى بيوى كى كميٹى كے پيسے ميرے بھائى كے پاس تھے.
جب بيوى نے ميرے بھائى سے كميٹى كى رقم مانگى تو اس نے كہا تم اپنے خاوند سے لے لو، تو مجھے اس سے تنگى ہوئى اور ميں نے اسے كہا تيرے اور اس كے درميان جو حساب ہے اس ميں ميرا كوئى دخل نہيں، ميرے اس كے پاس كچھ پيسے ہيں، اور مجھے معلوم نہيں ہو رہا كہ ميں اس سے كيسے لوں، ميرے اور بيوى كے مابين جھگڑا ہوگيا، اور ميں نے اسے كہا: ابھى اوپر جاؤ اور جا كر اس سے پيسے لو وگرنہ طلاق، تو اس نے اوپر جانے سے انكار كر ديا اور جا كر سو گئى " ميں نے اب اسے چھوڑ ركھا ہے، آيا اب اسے طلاق ہو گئى ہے، اور ميں اسے كيسے واپس لا سكتا ہوں، اور شادى كے پندرہ برس بعد يہ پہلى طلاق تھى، ہمارے تين بچے بھى ہيں.

Published Date: 2010-02-21

الحمد للہ:

آپ كا بيوى كو كہنا: " مجھ پر طلاق ابھى اوپر جاؤ اور اس سے پيسے لو " يہ طلاق كى قسم ہے، اور جمہور علماء كرام كے ہاں قسم توڑنے كى صورت ميں طلاق واقع ہو جائيگى، چنانچہ اگر بيوى نے وہ كام نہ كيا جو خاوند نے چاہا تو ايك طلاق واقع ہو جائيگى، اور آپ كو عدت كے اندر اندر رجوع كرنے كا حق حاصل ہے، جب يہ پہلى طلاق ہو.

رجوع كرنے كا طريقہ يہ ہے كہ خاوند اپنى بيوى كو كہے ميں نے تجھ سے رجوع كيا، يا ميں نے تجھے ركھ ليا.

مزيد آپ سوال نمبر ( 11798 ) كے جواب ميں مطالعہ ضرور كريں.

اور بعض اہل علم كہتے ہيں كہ: يہ قسم اٹھانے والے كى نيت پر منحصر ہے، اگر تو اس نے طلاق كا ارادہ كيا تو طلاق ہو جائيگى، اور اگر اس نے طلاق كا ارادہ نہيں كيا تو طلاق واقع نہيں ہوگى، ليكن اس نے بيوى كو اس فعل پر ابھارنے كے ليے قسم اٹھائى تھى، تو يہ قسم ہوگى، اور اسے قسم كا كفارہ ادا كرنا ہوگا.

يہى قول راجح ہے كہ اس سے طلاق نہيں ہوتى، اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ نے بھى يہى قول اختيار كيا ہے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" راجح يہ ہے كہ جب طلاق كو قسم كى جگہ استعمال كيا جائے، وہ اس طرح كہ اس سے كسى چيز پر ابھارنا يا منع كرنا يا تصديق يا تكذيب كرنا يا تاكيد كرنا مقصد ہو تو يہ قسم كے حكم ميں ہے.

كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{اے نبى ( صلى اللہ عليہ وسلم ) جس چيز كو اللہ نے آپ كے ليے حلال كر ديا ہے اسے آپ كيوں حرام كرتے ہيں ؟ ( كيا ) آپ اپنى بيويوں كى رضامندى حاصل كرنا چاہتے ہيں، اور اللہ بخشنے والا رحم كرنے والا ہے، تحيقيق اللہ تعالى نے تمہارے ليے قسموں كو كھول ڈالنامقرر كر ديا ہے، اور اللہ تمہارا كارساز ہے اور وہى پورے علم والا حكمت والا ہے }التحريم ( 1 - 2 ).

تو اللہ سبحانہ و تعالى نے تحريم كو قسم بنايا ہے، اور اس ليے بھى كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اعمال كا دارومدار نيتوں پر ہے، اور ہر شخص كے ليے وہى ہے جو اس نے نيت كى "

اسے بخارى نے روايت كيا ہے.

اور اس شخص نے طلاق كى نيت نہيں كى، بلكہ قسم كى نيت كى ہے، يا پھر قسم كے معنى كى نيت كى، چنانچہ جب وہ اس كو توڑےگا تو اس كے ليے قسم كا كفارہ كافى ہوگا، يہى قول راجح ہے " انتہى

ديكھيں: فتاوى المراۃ المسلمۃ ( 2 / 754 ).

اس بنا پر آپ قسم كا كفارہ ادا كريں، اور طلاق واقع نہيں ہوئى، اگر آپ نے طلاق واقع نہ ہونے كا قصد ركھتے تھے.

قسم كے كفارہ كى تفصيل معلوم كرنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 45676 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments