12911: وراثت ميں بيٹي كا حصہ كيا ہے


كيا ماں كي املاك ميں بيٹي كا حصہ ہے ؟ اگرجواب اثبات ميں ہے تواس كا حصہ كتنا ہوگا اس كي وضاحت كريں ؟

Published Date: 2004-09-14

الحمد للہ :

بيٹي چاہے وہ ماں يا اپنےوالد كي وارث ہوتواس كےحصہ كي كئي ايك حالتيں ہيں جنہيں ذيل ميں بيان كيا جاتا ہے:

1 - جب لڑكي اكيلي ہويعني اس كا كوئي بہن يا بھائي ( يعني مرنےوالي كي فرع ) نہ ہوتو لڑكي كوميراث كا نصف ملےگا ، اللہ تعالي كا فرمان ہے:

{اور اگرلڑكي اكيلي ہو تواس كےليےنصف ہے} النساء ( 11 )

2 - جب ايك سےزيادہ لڑكياں ہوں تو( يعني دو يا دوسےزيادہ ) اور متوفي شخص كا كوئي بيٹا نہ ہو تو بيٹيوں كو دوتہائي ملےگا ، اللہ تعالي كا فرمان ہے :

{اگر عورتيں دوسےزيادہ ہوں توانہيں اس كےتركہ كا دوتہائي حصہ ملےگا} النساء ( 11 )

3 - اور جب لڑكي كےساتھ متوفي شخص كا بيٹا بھي وارث ہو ( ايك يا ايك سےزيادہ ) توہر وارث كا مقررہ حصہ ادا كركےباقي مال ان دونوں ( لڑكےلڑكي ) كوملےگا ، اور لڑكي كا حصہ اس كےبھائي سےنصف ہوگا ( مرد كودوعورتوں كےبرابر كےحساب سے) چاہے دو يا دو سےزيادہ بہن بھائي ہوں تو لڑكےكودولڑكيوں كےبرابر حصہ ملےگا ، اللہ تعالي كا فرمان ہے:

{اللہ تعالي تمہيں تمہاري اولاد كےمتعلق وصيت كرتا ہے لڑكےكےليےدو لڑكيوں كےبرابر ہے} النساء ( 11 )

اوريہ حصےاللہ تعالي كي جانب سےتقسيم كردہ ہيں لھذا كسي شخص كے ليےبھي اس ميں كچھ تبديلي كرني جائزنہيں ، اور نہ ہي كسي كےليےجائز ہے كہ وہ كسي وارث كووراثت سےمحروم كرے ، اور نہ كسي كےليے يہ جائز ہےكہ وہ كسي ايسےشخص كوورثاء ميں داخل كرےجواس كےوارث نہيں ، اور نہ كوئي كسي وارث كےمقرركردہ حصہ سے كمي كرسكتا ہے اور نہ ہي اس كےشرعي حصہ ميں زيادتي كرسكتا ہے .

اللہ تعالي ہمارے نبي محمد صلي اللہ عليہ وسلم پراپني رحمتيں نازل فرمائے .

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments