ar

129487: شادى كے كچھ عرصہ بعد علم ہوا كہ بيوى اللہ كے وجود ميں شك كرتى ہے


ميرى شادى كے كچھ ماہ بعد مجھے علم ہوا كہ ميرى بيوى غير مسلم ہے...
شروع ميں تو مجھے ايسا لگتا تھا كہ وہ مسلمان ہے ليكن وہ فرائض كى پابندى نہيں كرتى تھى اور اسى طرح ميں بھى فرائض كى پابندى نہيں كرتا تھا... اب اس نے صراحت كے ساتھ كہہ ديا ہے كہ وہ يقين نہيں ركھتى كہ كوئى رب ہے يا نہيں، ليكن ميرا تو اعتقاد يہ ہے كہ ايمان ميں اصل چيز تو يقين ہے تو كيا ميرى بيوى ملحدہ عورت ہے ؟
اور اگر واقعى ايسا ہے تو كيا اس سے ميرى شادى باطل ہو گى، يا كہ جب مجھے اس كے متعلق ہوا تو اس وقت نكاح باطل ہوا ہے، اور مجھے كيا كرنا چاہيے، اگر وہ ابھى مسلمان نہيں ہوتى تو شادى باطل ہونے كى وجہ سے ميں اس كے ساتھ نيا نكاح كروں، يا كہ پہلا نكاح ہى صحيح ہے، اور كيا مجھے اس كے والد كو اس كے متعلق بتانا ضرورى ہے تا كہ نيا نكاح كيا جا سكے، اس كا والد انتہائى ديندار ہے اور مجھے خدشہ ہے كہ اگر اس نے اپنى بيٹى كے متعل يہ معلوم كر ليا تو اسے نقصان ہو سكتا ہے، برائے مہربانى اس كے متعلق ہميں معلومات فراہم كريں.؟

Published Date: 2009-11-07

الحمد للہ:

اول:

ايمان اس وقت صحيح ہوتا ہے جب اس پر پختہ يقين ہو چنانچہ جب بھى ايمان ميں شك پيدا ہو جائے تو ايمان صحيح نہيں ہوتا، اور ايسا كرنے والے شخص كو مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہونے كا حكم ديا جائيگا.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ مومن تو وہ ہيں جو اللہ پر اور اس كے رسول پر ( پكا ) ايمان لائيں پھر شك و شبہ نہ كريں، اور اپنے مالوں سے اور اپنى جانوں سے اللہ كى راہ ميں جہاد كرتے رہيں، يہى سچے اور راست گو ہيں }الحجرات ( 15 ).

سعدى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اللہ سبحانہ و تعالى نے ايمان ميں عدم ريب كى شرط لگائى ہے جو كہ شك ہے، كيونكہ ايمان وہى فائدہ مند ہے ميں شك و شبہ نہ ہو بلكہ يقينى اور پختہ ہو، اللہ سبحانہ و تعالى نے جن اشياء پر ايمان لانے كا حكم ديا ہے جن ميں كسى بھى قسم كى شك كى گنجائش نہيں اس پر يقين ركھنا ضرورى ہے " انتہى

ديكھيں: تفسير السعدى ( 802 ).

اور امام مسلم رحمہ اللہ نے صحيح مسلم ميں ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ميں گواہى ديتا ہوں كہ اللہ كے علاوہ كوئى اور معبود برحق نہيں اور ميں اللہ تعالى كا رسول ہوں، جو بندہ بھى ان پر ايمان ركھ كر اس ميں بغير كسى شك و شبہ كے اللہ سے ملے تو وہ جنت ميں داخل ہو گا "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 27 ).

چنانچہ جب مسلمان شخص كو اللہ كے وجود ميں ہى شك پيدا ہو جائے تو وہ اس شك كى بنا پر ايمان سے خارج ہو جائيگا اور وہ كافر و مرتد شمار ہو گا.

دوم:

آپ نے سوال ميں بيان كيا ہے كہ آپ دونوں ہى فرائض ( نماز ) كى ادائيگى ميں كوتاہى كرتے تھے: اگر تو آپ كا مقصد نماز كى عدم ادائيگى سے مراد مكمل طور پر نماز ادا نہ كرنا ہے تو يہ كفر اور مخرج من الاسلام ہے، اور اگر آپ كا اس سے مقصد بعض اوقات نماز كى ادائيگى اور بعض اوقات ترك كرنا ہے تو يہ كفر نہيں ہو گا .

مزيد آپ سوال نمبر (89722 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام سے درج ذيل سوال كيا گيا:

ميں آپ كے علم ميں لانا چاہتا ہوں كہ ميں نماز كى ادائيگى نادر طور پر كبھى كبھار كرتا ہوں، اور ميں نے اس عرصہ ميں شادى بھى كى ہے، اور الحمد للہ اب ميں نمازى بن چكا ہوں، اور حج بھى كر ليا ہے اور اللہ سے اپنے پچھلے گناہوں كى توبہ كر چكا ہوں ليكن مجھے يہ علم نہيں كہ اس عقد نكاح كا حكم كيا ہے آيا يہ جائز ہے يا نہيں ؟

اور اگر جائز نہ تھا تو مجھے كيا كرنا ہو گا، يہ علم ميں رہے كہ اس بيوى سے ميرے پانچ بچے بھى ہيں ؟

كميٹى كے علماء كرام كا جواب تھا:

" اگر تو عقد نكاح كے وقت آپ كى بيوى آپ كى طرح بعض اوقات نماز ادا كرتى اور بعض اوقات ادا نہيں كرتى تھى تو نكاح صحيح ہے، اور اس نكاح كى تجديد ضرورى نہيں، كيونكہ تم دونوں ہى ترك نماز كے متعلقہ حكم ميں برابر تھے اور وہ كفر ہے.

ليكن اگر عقد نكاح كے وقت عورت نماز پنجگانہ كى پابندى كرتى تھى تو علماء كرام كے صحيح قول كے مطابق نكاح كى تجديد كرنا ہو گى، جب تم ميں سے ہر ايك دوسرے كى رغبت ركھتا ہو، اور اس كے ساتھ ساتھ ترك نماز سے توبہ كرنا ہو گى اور توبہ پر قائم رہنا ہو گا.

اور تجديد نكاح سے قبل جو اولاد پيدا ہوئى ہے وہ شرعى اولاد ہے، انہيں نكاح شبہ كى بنا پر اپنے باپ كى طرف منسوب كيا جائيگا.

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ آپ دونوں كى اصلاح فرمائے اور ہر قسم كى خير و بھلائى كى توفيق نصب كرے " انتہى

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 18 / 290 ).

اور شيخ ابن باز رحمہ اللہ كا كہنا ہے:

" اور اگر وہ دونوں عقد نكاح كے وقت سارى نمازيں ادا نہيں كرتے تھے، اور پھر بعد ميں اللہ سبحانہ و تعالى نے انہيں ہدايت نصب فرمادى اور وہ نماز كى پابندى كرنے لگے تو ان كا نكاح صحيح ہے.

بالكل ايسے ہى جيسے اگر كوئى كافر شخص مسلمان ہو جائے تو اور نكاح كے باقى ہونے ميں كوئى شرعى مانع نہ ہو تو ان كے نكاح كى تجديد نہيں ہو گى؛ كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فتح مكہ كے موقع پر مسلمان ہونے والے كسى بھى كافر كو تجديد نكاح كا حكم نہيں ديا تھا " انتہى

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن باز ( 10 / 291 ).

سوم:

رہا نكاح صحيح ہونے كا مسئلہ تو اس ميں تفصيل پائى جاتى ہے، اور ہم يہاں ہم اس تفصيل كو بيان كرينگے تا كہ اس كا حكم معلوم ہو جائے، اور اگر اس كو كوئى اشكال پيدا ہو تو وہ دوبارہ سوال كر لے اور جس حالت ميں اسے اشكال پيدا ہوا ہو اس كى تحديد و تعيين ضرور كرے.

اگر خاوند اور بيوى كا عقد نكاح ہو اور ان ميں سے كوئى ايك بھى مسلمان اور دوسرا مرتد ہو تو ان كا نكاح باطل ہے، اور كا وجود ايسے ہى ہو گا جيسے وہ تھا ہى نہيں، كيونكہ مسلمان شخص كے ليے كسى مرتد عورت سے شادى كرنا جائز نہيں، اور اسى طرح كسى مسلمان عورت كے ليے كافر يا مرتد شخص سے شادى كرنا جائز نہيں ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اے ايمان والو جب تمہارے پاس مومن عورتيں ہجرت كر كے آئيں تو انہيں آزماؤ، اللہ تعالى ان كے ايمان كو زيادہ جانتا ہے، اور اگر تمہيں علم ہو جائے كہ وہ مومن ہيں تو انہيں كفار كى طرف مت لوٹاؤ، نہ تو وہ عورتيں ان كےليے حلال ہيں، اور نہ ہى وہ كافر مرد ان عورتوں كے ليے حلال ہيں ﴾الممتحنۃ ( 10 ).

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اور مرتد عورت سے نكاح حرام ہے چاہے وہ كسى بھى دين پر تھى " انتہى

ديكھيں: المغنى ( 7 / 101 ).

ليكن اگر خاوند اور بيوى كے درميان نكاح اس حالت ميں ہوا كہ وہ دونوں كافر يا مرتد ہوں تو ان كا نكاح صحيح ہے، اور اگر وہ دونوں اسلام قبول كر ليں تو اپنے سابقہ نكاح پر باقى رہينگے، اور تجديد نكاح كى كوئى ضرورت نہيں.

اور اگر كافر خاوند اور بيوى ميں سے كوئى ايك مسلمان ہو جائے، يا پھر عقد نكاح كے بعد مسلمان خاوند بيوى ميں سے كوئى ايك مرتد ہو جائے، اور دوسرا اتنظار كرے كہ ہو سكتا ہے وہ اسلام كى طرف واپس پلٹ آئے تو اس ميں كوئى حرج نہيں، اور جب بھى وہ اسلام كى طرف واپس آ جائے تو وہ اپنے سابقہ نكاح پر ہى ہونگے، اور اسلام كى طرف واپس آنے تك ان كے مابين معاشرت حرام ہو گى حتى كہ مرتد شخص اسلام قبول كر لے.

ليكن اگر وہ اسلام قبول نہيں كرتا تو ان كا نكاح فسخ ہو جائيگا.

مزيد آپ سوال نمبر ( 21690 ) اور ( 89722 ) كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں.

چہارم:

اور اس وقت لڑكى كے والد كو بتانا ضرورى ہے كيونكہ عقد نكاح كا صحيح ہونا اس وقت ہى ممكن ہے جب وہ موافقت كرے اس ليے كہ وہ ولى ہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" ولى كے بغير نكاح نہيں "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 1101 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے سنن ترمذى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

ہم آپ كو يہى نصيحت كرتے ہيں كہ آپ اپنى بيوى سے مناقشہ كريں، اور اس كے دل ميں پيدا ہونے والے شك كے اسباب معلوم كر كے ان اسباب كا علاج كرنے كى كوشش كريں، اللہ سبحانہ و  تعالى كے وجود پر دلائل  ہم سوال نمبر ( 26745 ) كے جواب ميں بيان كر چكے ہيں آپ اس كا مطالعہ كريں.

اگر تو وہ اس كو تسليم كر لے تو الحمد للہ اور اگر قبول نہ كرے تو پھر اس كے والد كو بتانا ضرورى ہے، كيونكہ والد كو اس كى والايت و ذمہ دارى حاصل ہے، اور والد كو اس پر وہ تاثير حاصل ہے جو كسى اور كو حاصل نہيں، خاص كر آپ نے بيان كيا ہے كہ اس كا والد انتہائى ديندار ہے، اور اس طرح كے شخص كے ليے بيٹى كا اسلام سے نكل كر مرتد ہونا مخفى نہيں رہنا چاہيے.

ليكن بيوى كے ساتھ افہام و تفہيم ميں نرم رويہ ركھنا ہو گا كيونكہ يہ قبوليت كے زيادہ لائق ہے اور وہ اس طرح حق كى طرف واپس پلٹ سكتى ہے.

اللہ تعالى سے ہم دعا گو ہيں كہ وہ آپ دونوں كو ہدايت و توفيق سے نوازے.

واللہ اعلم.

الاسلام سوال و جواب
Create Comments