130008: اگر خاوند نے اپنى بيوى كى نانى كا دودھ پيا تو وہ بيوى كا رضاعى ماموں ہوگا


اگر كسى شخص نے ايك عورت سے شادى كى اور بعد ميں ثابت ہوا كہ اس نے تو اپنى بيوى كى نانى كا ايك برس تك ہلكا سا دودھ پيا ہے، نانى بوڑھى اور اس كا طويل عرصہ قبل خاوند فوت ہو چكا تھا، تو كيا يہ نكاح باطل ہو جائيگا يا نہيں ؟

Published Date: 2013-01-07

الحمد للہ:

كتاب اللہ اور سنت مطہرہ سے ثابت ہے كہ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہيں وہى رضاعت كى بنا پر حرام ہو جاتے ہيں، اللہ سبحانہ و تعالى نے اپنى كتاب قرآن مجيد ميں بيان فرمايا ہے كہ رضاعى مائيں اور بہنيں حرام ہو جاتى ہيں، اور سنت نبويہ ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہے كہ آپ نے فرمايا:

" رضاعت سے بھى وہى كچھ حرام ہوتا ہے جو نسب سے حرام ہوتا ہے "

يہاں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نسب سے محرم خواتين كو عام ركھا ہے؛ چنانچہ رضاعى ماں اور رضاعى بيٹى اور رضاعى بہن اور رضاعى بھتيجى اور رضاعى بھانجى اور رضاعى پھوپھى اور رضاعى خالہ يہ سب محرمات ميں شامل ہونگى، جس طرح يہ سب نسبى طور پر حرام ہيں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى نص سے رضاعى بھى حرام ہونگى.

اب يہاں مندرجہ بالا مسئلہ جس كے بارہ ميں سوال كيا گيا ہے كہ اس شخص نے اپنى بيوى كى نانى كا دودھ پيا تو وہ اپنى بيوى كا ماموں اور بيوى كى ماں كا بھائى بن گيا، اگر اس بوڑھى عورت نے اسے سال بھر دودھ پلايا ہے، بلكہ اس كے ليے تو پانچ رضعات اور پانچ بار دودھ پينا ہى كافى تھا جس كے ساتھ حرمت ثابت ہو جاتى ہے، چاہے وہ ايك ہى دن اور مجلس ميں ہو، تو اس طرح وہ بيوى كا ماموں اور اس كى ماں كا بھائى تو وہ اس پر حرام ہو جائيگى.

كيونكہ نسب كى بھانجى ماموں كے ليے حرام ہے تو اسى طرح نص رسول صلى اللہ عليہ وسلم اور اجماع سے رضاعى بھانجى بھى حرام ہو جائيگى، چاہے وہ بوڑھى عورت ہو اور چاہے خاوند والى نہ بھى ہو، اور طويل عرصہ سے خاوند فوت ہو چكا ہو؛ كيونكہ دودھ آ جانے پر جو بھى وہ دودھ پيےگا وہ اس پر حرام ہو جائيگا.

اس طرح يہ بيوى خاوند كى بھانجى لگتى ہے، اور وہ اس كا ماموں ہونے كى بنا پر وہ عورت اس پرحرام ہو جائيگى، اور وہ بوڑھى عورت اس خاوند كى رضاعى ماں اور اس شخص كے بچوں كى رضاعى دادى بن جائيگى، كيونكہ وہ اس عورت كا رضاعى بيٹا ہے؛ چاہے دودھ پتلا ہى تھا جب اس دودھ سے خوراك حاصل ہوتى ہو تو يہ حرمت كا باعث ہوگا وہى رشتے حرام ہونگے جو نسبى طور پر حرام ہيں.

چاہے وہ عورت وقت حاضر ميں خاوند والى نہ بھى ہو اور نوجوان لڑكى اور ابھى شادى بھى نہ ہوئى اور نہ ہى حاملہ ہو تو صحيح قول يہى ہے كہ اگر ايسى لڑكى كو بھى دودھ آ جائے اور اس نے كسى كو پلايا تو وہ اس كى رضاعى ماں بن جائيگى، اور اس لڑكى كے بھائى اس كے رضاعى ماموں بن جائينگے، اور اس كى بہنيں رضاعى خالائيں ہونگى.

اس كے حاملہ ہونے يا پھر وطئ و جماع كى شرط ركھنا صحيح نہيں، رہى وہ عورت جو قديم عرصہ قبل حاملہ ہوئى اور بچہ بھى پيدا ہوا اور اس كا خاوند فوت ہوچكا تو اس عورت كا اس شخص نے دودھ پيا تو اس طرح وہ اپنى بيوى كا رضاعى ماموں بن گيا، اور اس طرح اس كى بيوى اس پر حرام ہو چكى ہے " انتہى

فضيلۃ الشيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ .

ديكھيں: فتاوى نور على الدرب ( 3 / 1554 ).
Create Comments