ar

132370: بيوى سے دبر ميں وطئ كرنا مباح سمجھنا


ميں لكھتے وقت بہت متردد تھى ليكن مشورہ كرنا اور دريافت كرنا ضرورى تھا كيونكہ ميں اس پر مطمئن نہيں، برائے مہربانى ميرى مدد فرمائيں.
ميں شادى شدہ ہوں اور ميرا خاوند الحمد للہ دين پر عمل كرنے والا اور شريعت كا طالب علم بھى ہے، ليكن ميں جس سے پريشان اور تنگ ہوں وہ يہ كہ ميرا خاوند ميرے ساتھ دبر ميں وطئ كرتا ہے، ميں اللہ سے ڈرتى ہوں كہ كہيں اس كے نتيجہ ميں مجھے سزا كا مستحق نہ ٹھرنا پڑے، اور اس كے علاوہ اس كے نتيجہ ميں پيدا ہونے والى بيمارياں پيدا ہونے كا بھى خدشہ ہے.
ليكن مصيبت يہ ہے كہ ميرا خاوند اس كام پر مكمل مطمئن ہے بلكہ اسے جائز وہ اسے جائز سمجھتا ہے، اور يہ حرام نہيں، اور كہتا ہے كہ ايك مسلك يہ بھى كہ وہ اسے جائز حلال قرار ديتا ہے، اور اس كى حرمت والى سب احاديث ضعيف ہيں، اور وہ كہتا ہے كہ اسے حلال كرنے كى تمام ذمہ دارى اس پر ہے.
جناب مولانا صاحب مجھے بتائيں كہ اس سلسلہ ميں آپ كى رائے كيا ہے، مجھے اس كے بارہ ميں معلومات فراہم كريں ميں اس سے بہت تنگ آ چكى ہوں، اور اللہ كے عذاب سے خوفزدہ ہوں، اور بتائيں كہ اسے مطمئن كرنے كے ليے كيا حل اور طريقہ ہے ؟

Published Date: 2012-02-11

الحمد للہ:

اول:

مرد كے ليے بيوى كى دبر ميں وطئ كرنا حرام ہے، بلكہ يہ گناہ كبيرہ ميں شامل ہوتا ہے، اس كى حرمت پر كتاب و سنت سے بہت سارے دلائل دلالت كرتے ہيں اور جمہور سلف علماء اور آئمہ كرام كا قول بھى يہى ہے.

اور اس سلسلہ ميں جو احاديث وارد ہيں اہل علم كے كہنے كے مطابق وہ قابل احتجاج ہيں يعنى وہ استدلال كرنے كے قابل ہيں، اور بالفرض اگر انہيں ضعيف بھى سمجھ ليا جائے تو پھر اس قبيح اور گندے فعل كى حرمت پر قرآن مجيد بھى دلالت كرتا ہے، ذيل ميں ہم چند ايك دلائل آپ كے سامنے پيش كرتے ہيں:

علامہ محمد امين شنقيطى رحمہ اللہ " اضواء البيان " ميں رقمطراز ہيں:

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ جب وہ ( عورتيں ) پاك ہو جائيں تو پھر تم ان كے پاس وہيں سے آؤ جہاں سے اللہ سبحانہ و تعالى نے تمہيں حكم ديا ہے }.

يہاں اللہ سبحانہ و تعالى نے اس مامور مكان اور جگہ كا ذكر نہيں فرمايا جسے يہاں " حيث " كے لفظ سے تعبير كيا ہے يعنى جہاں سے حكم ديا گيا ہے، ليكن اس سے مراد قبل ہے جسے اللہ سبحانہ و تعالى نے دو آيات ميں بيان فرمايا ہے:

پہلى آيت:

فرمان بارى تعالى ہے:

{ تم اپنى كھيتيوں ميں آؤ }.

كيونكہ يہاں " فاتوا " ميں آنے كا حكم ہے جو كہ جماع كے معانى ميں ہے.

اور فرمان بارى تعالى:

{ اپنى كھيتيوں ميں }.

يہ بيان كرتا ہے كہ جہاں سے آنے كا حكم ديا گيا ہے وہ كھيتى كى جگہ ہے، يعنى بچے كا نطفہ كے ذريعہ بيج ڈالنا، اور يہ قبل ہى ہے دبر نہيں، اور يہ چيز كسى بھى شخص پر مخفى نہيں ہے؛ كيونكہ دبر يعنى پاخانہ والى جگہ اولاد كے ليے بيج والى جگہ نہيں ہے، جو كہ ضرورى ہے.

دوسرى آيت:

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ تو اب تم ان سے مباشرت كرو اور اللہ سبحانہ و تعالى نے جو لكھ رہا ہے اسے تلاش كرو }.

كيونكہ " اللہ تعالى نے جو تمہارے ليے لكھ ركھا ہے " سے مراد اولاد ہے، جمہور علماء كرام نے يہى قول اختيار كيا ہے اور ابن جرير كا بھى يہى اختيار ہے، انہوں نے يہ قول ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما اور مجاہد اور حكم اور عكرمہ اور حسن بصرى اور سدى اور ربيع اور ضحاك بن مزاحم رحمہم اللہ سے نقل كيا ہے.

اور پھر يہ تو معلوم ہے كہ اولاد كا حصول قبل ميں جماع كر كے ہى ہو سكتا ہے، تو اس طرح قبل ہى وہ جگہ ہے جہاں سے مباشرت كرنے كا حكم ديا گيا ہے، جو كہ جماع كے معانى ميں ہے.

اس طرح آيت كا معنى يہ ہوگا كہ: تو اب تم ان ( بيويوں ) سے جماع كرو، اور يہ مباشرت اور جماع اس جگہ ہونا چاہيے جہاں سے بچہ حاصل كيا جاتا ہے، جو كہ قبل ہے اور كوئى جگہ نہيں، اس كى دليل يہ ہے كہ:

اور تم وہ تلاش كرو جو اللہ نے تمہارے ليے لكھ ديا ہے " يعنى اولاد.

اس سے يہ واضح ہوا كہ " انى شئتم " يعنى جہاں سے تم چاہو كے معانى يہ ہونگے كہ كسى بھى حالت ميں مرد چاہے وہ جماع قبل يعنى شرمگاہ ميں ہى كريگا، چاہے عورت ليٹى ہوئى ہو يا پھر گھٹنوں كے بل ہو، يا پہلو كے بل ہو، يا كسى اور طرح.

اور پھر اس كى تائيد صحيح بخارى اور صحيح مسلم اور ترمذى اور سنن ابو داود كى درج ذيل حديث سے بھى ہوتى ہے جس ميں ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" يہودى كہا كرتے تھے كہ: اگر بيوى سے اس كى پچھلى جانب سے جماع كيا جائے تو بچہ بھينگا پيدا ہوتا ہے، تو يہ آيت نازل ہوئى:

{ تمہارى بيوياں تمہارى كھيتياں ہيں تو تم اپنى كھيتيوں ميں جہاں سے چاہو آؤ }.

اس سے يہ ظاہر ہوا كہ جابر رضى اللہ تعالى عنہ اس آيت كے معانى يہ سمجھتے تھے كہ تم كسى بھى حالت ميں بيوى كى قبل ميں جماع كرو چاہے بيوى كى پچھلى جانب سے ہى ہو ليكن جماع قبل ميں ہى كيا جائے.

علم حديث اور علم تفسير ميں يہ بات طے شدہ ہے كہ آيت كے سبب نزول كے متعلق جو صحابى كى تفسير ہے اسے مرفوع كا درجہ حاصل ہے.

قرطبى رحمہ اللہ تعالى اپنى تفسير ميں رقمطراز ہيں:

قولہ تعالى:

{ تم اپنى كھيتى ميں جہاں سے چاہو آؤ }.

مخالف نے جو يہ استدلال كيا ہے كہ اللہ عزوجل كا فرمان: جہاں سے چاہو " عمومى طور پر سب كو شامل ہے، اس ليے اس ميں حجت اور دليل نہيں؛ اس كى يہ بات غلط ہے كيونكہ ہم بيان كر چكے ہيں كہ يہ مخصوص ہے اور صحيح اور حسن مشہور احاديث كے ساتھ مخصوص ہے جسے دسيوں صحابہ كرام نے مخلتف متون كے ساتھ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے روايت كيا ہے، اور يہ سب متن عورت كى دبر ميں وطئ كرنے كى حرمت پر دلالت كرتے ہيں، امام احمد بن حنبل نے مسند احمد ميں اور ابو داود نے سنن ابو داود ميں اور نسائى نے سنن نسائى ميں اور ترمذى وغيرہ نے سنن ترمذى ميں اسے بيان كيا ہے.

ابو الفرج جوزى رحمہ اللہ نے انہيں سب طرق كے ساتھ ايك ہى جزء ميں جمع كر كے اس كتاب كو " تحريم المحل المكروہ " كا نام ديا ہے.

اور ہمارے استاد ابو ا لعباس رحمہ اللہ نے بھى اس ميں ايك جزء مرتب كى ہے جس كا نام " اظھار ادبار من اجاز الوطء فى الادبار " ركھا ہے.

ميں كہتا ہوں: اور حق بھى يہى ہے جس پر عمل ہے اور مسئلہ ميں صحيح بات بھى يہى ہے.

كسى بھى ايسے شخص كے لائق نہيں جو اللہ تعالى اور آخرت كے دن پر ايمان ركھتا ہے كہ وہ اس مسئلہ ميں كسى عالم دين كى غلطى پر عمل كرے حالانكہ وہ عالم دين اس سے صحيح بھى كر چكا ہو، اور پھر كسى عالم دين كى غلطى كے سے بچنے كا ہميں كہا گيا ہے، اور پھر ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہ سے اس كے خلاف بھى مروى ہے، اور اسى كے ساتھ ايسا كرنے والے كو كافر قرار دينے كا قول بھى ثابت ہے، جو كہ ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہ كے شايان شان بھى ہے، اور اسى طرح جس نے يہ خبر دى ہے اسے جھوٹا كہا گيا ہے جيسا كہ امام نسائى رحمہ اللہ نے بيان بھى كيا ہے.

اور امام مالك رحمہ اللہ نے اس سے انكار كيا اور اسے بہت زيادہ بڑى بات قرار ديا ہے، اور جس نے بھى اسے ان كى طرف منسوب كيا ہے اسے جھوٹ قرار ديا ہے.

اور دارمى رحمہ اللہ نے مسند دارمى ميں سعيد بن يسار ابى الحباب سے روايت كيا ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ: ميں نے ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے عرض كيا:

آپ لونڈيوں كے بارہ ميں كيا كہتے ہيں جب ان كے ساتھ حمض كيا جائے ؟

ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما نے دريافت كيا: تحميض كيا ہے ؟

تو ميں نے دبر كا ذكر كيا تو انہوں نے فرمايا: كيا كوئى مسلمان شخص ايسا بھى كرتا ہے ؟

اور خزيمہ بن ثابت سے بيان كيا ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ بيان كرتے ہوئے سنا:

" لوگو اللہ سبحانہ و تعالى حق بيان كرتے سے نہيں شرماتا، تم عورتوں كى دبر ميں وطئ مت كيا كرو "

اور على بن طلق سے بھى ايسے ہى مروى ہے.

اور ابو ہريرہر ضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جو شخص بھى اپنى بيوى كى دبر ميں وطئ كرتا ہے اللہ سبحانہ و تعالى اسے روز قيامت ديكھے گا بھى نہيں "

اور ابو داود طيالسى نے مسند طيالسى ميں قتادہ عن عمرو بن شعيب عن جدہ كے طريق سے بيان كيا ہے كہ عمرو بن عبد اللہ بن عمرو بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" يہ لواطت صغرى ہے "

يعنى عورتوں كى دبر ميں وطئ كرنا لواطب صغرى كہلاتى ہے.

اور طاؤوس رحمہ اللہ سے مروى ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ لوط عليہ السلام كى قوم كے عمل كى ابتدا عورتوں كى دبر ميں وطئ سے شروع ہوئى.

ابن منذر رحمہ اللہ بيان كرتے ہيں كہ: جب كوئى چيز رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہو جائے تو يہ باقى سب سے مستغنى كر ديتى ہے "

قرطبى نے بھى يہى الفاظ بيان كيے ہيں.

قرطبى رحمہ اللہ نے يہ بھى بيان كيا ہے كہ:

" جب ابن وہب اور على بن زياد نے امام مالك رحمہ اللہ كو يہ بتايا كہ مصر ميں كچھ لوگ ان سے اس كا جواز بيان كرتے ہيں تو انہوں نے اس سے نفرت كى اور يہ بات نقل كرنے والے كى تكذيب كرتے ہوئے كہا:

انہوں نے مجھ پر جھوٹ بولا ہے، مجھ پر جھوٹ بولا ہے، مجھ پر جھوٹ بولا ہے، پھر فرمانے لگے: كيا تم عرب قوم سے تعلق نہيں ركھتے، كيا اللہ سبحانہ و تعالى نے يہ نہيں فرمايا:

" تمہارى بيوياں تمہارى كھيتياں ہيں "

اور كيا اگانے والى جگہ كے علاوہ اور بھى كوئى جگہ كھيتى كہلا سكتى ہے ؟ ".

اور پھر دبر ميں وطئ كرنے كى حرمت كى تائييد اس سے بھى ہوتى ہے كہ اللہ سبحانہ و تعالى نے حيض كى حالت ميں گندگى كى بنا پر جماع كرنا حرام كيا ہے حالانكہ يہ گندگى تو عارضى ہے، اور اس حرمت اور ممانعت كى علت گندگى بيان كرتے ہوئے اللہ سبحانہ و تعالى نے فرمايا:

{ كہہ ديجئے كہ يہ گندگى ہے، چنانچہ تم حالت حيض ميں عورتوں سے عليحدہ رہو }.

اس ليے گندگى اور مستقل نجاست كى بنا پر تو دبر ميں وطئ كرنا بالاولى حرام ہے....

اور پھر دبر ميں وطئ كرنے كى ممانعت كو تقويت اس سے بھى حاصل ہوتى ہے كہ وہ عورت جس سے وطئ نہ كى جا سكتى ہو اسے اس عيب كى بنا پر رد كر ديا جائيگا.

ابن عبد البر رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اس ميں علماء كرام كا كوئى اختلاف نہيں، الا يہ كہ جو عمر بن عبد العزيز رحمہ اللہ سے ايك طريق ميں بيان كيا جاتا ہے اور وہ طريق بھى قوى نہيں ہے كہ: رتقاء كو رتق كى وجہ سے رد نہيں كيا جائيگا.

ليكن سب فقھاء اس كے خلاف ہيں.

قرطبى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" ان كے اس اتفاق اور اجماع ميں دليل پائى جاتى ہے كہ دبر وطئ كى جگہ نہيں، اور اگر دبر وطئ كى جگہ ہوتى تو پھر جس كى فرج ميں وطئ نہ كى جا سكتى تھى اسے اس عيب كى وجہ سے رد نہ كيا جاتا.

اور اگر يہ كہا جائے كہ:

ہو سكتا ہے رتقاء كا رد كرنا تو عدم نسل كى بنا پر تو يہ دبرميں وطئ كےمنافى نہيں.

اس كا جواب يہ ہے كہ: بانجھ پن كى بنا پر رد نہيں جاتا اور اگر رتقاء يعنى جس كى فرج ميں وطئ نہيں كى جا سكتى اسے رد كرنے كى علت عدم نسل ہوتى تو پھر بانجھ پن بھى موجب رد ہوتا.

امام قرطبى رحمہ اللہ نے اللہ تعالى كے فرمان:

تم اپنى كھيتى ميں جہاں سے چاہو آؤ " كى تفسير ميں اجماع نقل كيا ہے كہ بانجھ پن كى بنا پر رد نہيں كيا جائيگا.

جب ان دلائل سے يہ ثابت ہو گيا كہ عورت كى دبر ميں وطئ كرنا حرام ہے تو يہ علم ميں ركھيں كہ اس كے جواز ميں جس سے بھى روايت كى گئى ہے مثلا ابن عمر اور ابو سعيد اور متقدمين اور متاخرين ميں سے ايك گروہ اسے اس پر محمول كيا جائيگا كہ انہوں نے دبر سے مراد دبر كى جانب سے فرج ميں جماع كرنا مراد ليا ہے، جيسا كہ جابر رضى اللہ تعالى عنہ كى حديث ميں بيان ہوا ہے.

اور پھر جب جمع كرنا ممكن ہو تو ايسا كرنا واجب ہے، ابن كثير رحمہ اللہ نے درج ذيل آيت كى تفسير ميں كہا ہے:

قولہ تعالى:

{ تم اپنى كھيتى ميں جہاں سے چاہو آؤ }.

ابو محمد عبد الرحمن بن عبد اللہ الدارمى رحمہ اللہ مسند دارمى ميں كہتے ہيں:

ہميں عبد اللہ بن صالح نے حديث بيان كى وہ كہتے ہيں ہميں ليث نے حارث بن يعقوب سے حديث بيان كى انہوں نے سعيد بن يسار ابو الحباب سے بيان كيا وہ كہتے ہيں ميں نے ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے عرض كيا:

آپ لونڈيوں كے بارہ ميں كيا كہتے ہيں كہ ان كے ساتھ تمحيض كى جا سكتى ہے ؟

انہوں نے دريافت كيا تمحيض كيا ہے ؟

تو دبر كا ذكر كيا گيا، تو ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما كہنے لگے:

كيا مسلمانوں ميں سے بھى كوئى ايسا عمل كرتا ہے ؟

ابن وہب اور قتيبہ نے ليث سے ايسے ہى روايت كيا ہے.

يہ سند صحيح ہے اور ان سے اس كى حرمت كى صراحت ہوئى ہے، اس ليے جو بھى ان سے مروى ہے جس كا احتمال ہو وہ اس محكم كى بنا پر مردود ہوگا " انتہى

ماخوذ از: اضواء البيان.

دبر ميں وطئ كرنےكى حرمت پر صحيح مسلم كى درج ذيل حديث بھى دلالت كرتى ہے:

انس رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ: جب عورت حيض كى حالت ميں ہوتى تو يہودى اس كے ساتھ نہ تو كھاتے اور نہ ہى گھروں ميں ان كے ساتھ رہتے، چنانچہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے صحابہ كرام نے اس كے بارہ ميں دريافت كيا تو اللہ سبحانہ و تعالى نے يہ آيت نازل فرمائى:

آپ سے حيض والى عورت كے متعلق دريافت كرتے ہيں آپ كہہ ديجئے كہ يہ گندگى ہے تو تم حيض كى حالت ميں عورتوں سے عليحدہ رہو .... .

چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: تم جماع كے علاوہ باقى سب كچھ كرو، جب يہوديوں كو يہ خبر ملى تو وہ كہنے لگے:

يہ شخص تو ہمارے ہر معاملہ كى مخالفت ہى كرنا چاہتا ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 302 ).

چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمانا كہ:

" جماع كے علاوہ باقى سب كچھ كرو "

دبر ميں و طئ كرنے كى حرمت كى دليل ہے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے وطئ اور جماع كے علاوہ باقى ہر قسم كا استمتاع مباح قرار ديا، اور وطئ يہ قبل اور دبر دونوں كو شامل ہے.

ابن قيم رحمہ اللہ نے دبر ميں وطئ كى حرمت كى كئى ايك وجوہات بيان كي ہيں جن ميں سے چند ايك يہ ہيں:

يہ بھى ہے كہ: عورت كو اپنے خاوند سے وطئ كا حق حاصل ہے، اور بيوى سے دبر ميں وطئ كرنے سے بيوى كا يہ حق فوت ہو جاتا ہے، اور اس طرح اس كى خواہش پورى نہيں ہوتى اور نہ ہى مقصد حاصل ہوتا ہے.

اور يہ بھى ہے كہ: دبر ميں وطئ كرنا مردوں كے ليے نقصان دہ ہے، اسى طرح عقل و دانش ركھنے والے فلاسفہ و اطباء اس سے روكتے ہيں، كيونكہ فرج يعنى قبل كو پھينكے گئے پانى كو جذب كرنے كى صلاحيت حاصل ہے، جس سے مرد كو راحت حاصل ہوتى ہے، ليكن دبر ميں وطئ كرنے سے نہ سارا پانى جذب ہوتا ہے اور نہ ہى مرد كو راحت حاصل ہوتى ہے كيونكہ طبعى امر كى مخالفت ہونے كى بنا پر مكمل پانى كا اخراج ہى نہيں ہوتا.

اور يہ بھى ہے كہ: ايسا كرنا عورت كے ليے بہت مضر اور نقصاندہ ہے، كيونكہ يہ ايسى چيز ہے جو طبعى طور پر بھى انتہائى نفرت كا باعث ہے.

اور يہ بھى ہے كہ اس سے غم و پريشانى اور فاعل و مفعول كے ساتھ نفرت پيدا ہوتى ہے.

اور يہ بھى ہے كہ يہ چہرے كى سياہى كا باعث بنتا ہے اور سينے كو نور سے دور كر ديتا ہے، اور نور قلبى كو ختم كرنے كا باعث بن كر چہرے پر وحشت طارى كر ديتا ہے اور يہ ايك علامت كى شكل اختيار كر ليتا ہے جسے ادنى سى فہم و فراست ركھنے والا شخص بھى پہچان ليتا ہے.

اور يہ بھى ہے كہ: فاعل اور مفعول كے مابين شديد قسم كى نفرت و بغض اور قطع تعلقى كا باعث بنتا ہے. انتہى

ديكھيں: زاد المعاد ( 4 / 262 ).

آپ كے ليے جائز نہيں كہ خاوند كو ايسا فعل كرنے ديں بلكہ اس عمل سے ركنا واجب ہے، چاہے اس كے نتيجہ ميں آپ كو اپنے ميكہ ہى كيوں نہ جانا پڑے، بلكہ اگر اس كے ليے طلاق كا سہارا بھى لينا پڑے تو كوئى حرج نہيں ہے.

خاص كر آپ كے اس خاوند كو جس كے بارہ ميں آپ نے شادى سے قبل كى حالت بيان كى ہے اسے اس برائى اور فحش كام سے روكنا ضرورى ہے، اللہ سبحانہ و تعالى سے عافيت كى دعا ہے، كيونكہ اس كا آپ كے ساتھ اس قبيح اور شنيع عمل جارى ركھنا اور مباح وطئ و جماع پر اكتفاء نہ كرنا اسے دوبارہ فحاشى كى طرف لے جانے كا باعث بن سكتا ہے.

اس نے جو عذر بيان كيے ہيں ان كى كوئى قدر و قيمت نہيں ہے، اور پھر اس كے ان عذروں ميں آپ كو دھيان نہيں دينا چاہيے، كيونكہ وہ تو آپ كو اللہ كے غضب اور جہنم كى آگ كى دعوت دے رہا ہے.

انسان اپنے آپ كو ہلاك كر كے كسى دوسرے كو راحت نہيں ديتا ـ اگر اس جيسے عمل ميں راحت ہو ـ بلكہ اس ميں تو ايك نہيں بلكہ دونوں كى ہلاكت ہے.

اور جب وہ كچھ ايام صحيح راہ اختيار كر چكا ہے تو ہم اميد ركھتے ہيں كہ اللہ سبحانہ و تعالى اسے اس بلاء سے دور كريگا، اور آپ كو چاہيے كہ آپ ہر طرح سے پختگى كے ساتھ اس عمل سے انكار كريں اور اس ميں كوئى ڈھيل مت برتيں تا كہ وہ آپ كى جانب سے اس حرام كام ميں شريك ہونے سے نا اميد ہو جائے، اور اس سلسلہ ميں اس كى اميد بھى ختم ہو جائے.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

اگر كوئى شخص اپنى بيوى كى دبر ميں وطئ كرے تو اس پر كيا واجب ہوتا ہے ؟ اور كيا كسى عالم دين نے اسے مباح بھى قرار ديا ہے ؟

شيخ الاسلام كا جواب تھا:

الحمد للہ رب العالمين:

سب تعريفات اللہ پروردگار كے ليے ہيں، كتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم ميں بيوى كے ساتھ دبر ميں وطئ كرنا حرام ہے، اور عام مسلمان آئمہ كرام بھى اسى حرمت كے قائل ہيں، جن ميں صحابہ كرام اور تابعين عظام وغيرہ شامل ہيں.

كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى نےاپنى كتاب عزيز ميں فرمايا ہے:

{ تمہارى بيوياں تمہارى كھيتياں ہيں تم اپنى كھيتى ميں جہاں سے چاہو آؤ، اور اپنے ليے آگے بھيجو }.

اور صحيح حديث ميں ثابت ہے كہ: يہودى كہا كرتے تھے كہ اگر كوئى شخص اپنى بيوى سے دبر كى جانب سے اس كى قبل ميں جماع كرے تو بچہ بھينگا پيدا ہوتا ہے، چنانچہ مسلمانوں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے اس كے متعلق دريافت كيا تو اللہ سبحانہ و تعالى نے يہ آيت نازل فرمائى:

{ تمہارى بيوياں تمہارى كھيتياں ہيں، چنانچہ تم اپنى كھيتى ميں جہاں سے چاہو آؤ اور اپنے ليے آگے بھيجو }.

اور حرث يعنى كھيتى وہ جگہ ہے جہاں كاشت كى جائے اور بچہ تو فرج يعنى شرمگاہ ميں كاشت ہوتا ہے نہ كہ دبر ميں اور اثر ميں وارد ہے كہ: دبر ميں وطئ كرنا لواطت صغرى ہے اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" يقينا اللہ عزوجل حق بيان كرنے سے نہيں شرماتا، تم عورتوں كى دبر ميں وطئ مت كرو "

يہاں الحش سے مراد دبر ہے، جو كہ گندگى والى جگہ ہے اور پھر اللہ عزوجل نے حيض كى حالت ميں بيوى سے جماع كرنا حرام قرار ديا ہے حالانكہ يہ گندگى تو اس كى فرج ميں ايك عارضى گندگى ہے، ليكن وہ جگہ جہاں مستقل طور پر بڑى نجاست يعنى پاخانہ ہو اس كے بارہ ميں كيا حكم ہوگا.

اور يہ بھى ہے كہ: يہ لواطت كى جنس سے ہے" شيخ الاسلام رحمہ اللہ نے يہان تك كہا ہے:

" جس نے اپنى بيوى سے اس كى دبر ميں وطئ كى اسے ايسى سزا دينى چاہيے جو اسے اس كام سے منع كرنے كا باعث بن سكے، اور اگر يہ علم ہو جائے كہ وہ دونوں ايسا كرنے سے باز نہيں آ رہے تو پھر ان دونوں ميں عليحدگى كرانا واجب ہے " واللہ تعالى اعلم " انتہى

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 32 / 267 ).

جناب مولانا صاحب ميں درج ذيل سوال كا جواب چاہتى ہوں، كيونكہ يہ مجھے بہت پريشان كيے ہوئے ہے، اور ميرے ليے بہت اہم ہے:

ميرا خاوند مطالبہ كرتا ہے كہ وہ پيچھے سے آئے ـ يعنى پاخانہ والى جگہ استعمال كرنا چاہتا ہے ـ ليكن ميں اس سے انكار كرتى ہوں، اور وہ مجھے ايسا كرنے پر اس درجہ تك مجبور كرتا ہے كہ ميں رونے لگتى ہوں اور ايسا كرنے سے انكار كرتى ہوں، ليكن وہ مجھے ايسا كرنے پر مجبور كرتا ہے، برائے مہربانى مجھے معلومات فراہم كريرں، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

عورت سے دبر ميں وطئ كرنا كبيرہ گناہ ہے، حتى كہ اس سلسلہ ميں شديد قسم كى وعيد آئى ہے، يہاں تك كہ اس كے متعلق كفر كى وعيد بھى وارد ہے، اور لعنت كى وعيد بھى ہے اور اسے لواطت صغرى كا نام ديا جاتا ہے.

اور اس كى حرمت پر بہت سارے دلائل دلالت كرتے ہيں اور اس سلسلہ ميں جو بعض سلف سے منقول ہے كہ انہوں نے اسے مباح كہا ہے يہ ان كے ذمہ غلط لگايا گيا ہے، جيسا كہ ابن قيم وغيرہ نے زاد المعاد ميں نقل كيا ہے.

انہوں نے تو اس سے مراد يہ ليا ہے كہ دبر كى طرف سے فرج ميں جماع كيا جائے، اور يہ جائز ہے كہ انسان اپنى بيوى سے فرج ميں جماع كرے ليكن پچھلى جانب سے، اصل يہ ہے كہ جماع صرف شرمگاہ يعنى قبل ميں ہو تو اس ميں كوئى حرج نہيں.

اس ليے كہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ تمہارى بيوياں تمہارى كھيتي ہيں تم اپنى كھيتى ميں جہاں سے چاہو آؤ }البقرۃ ( 223 ).

ليكن دبر ميں وطئ نہيں كرنى چاہيے، يہاں ايك مسئلہ ہے:

بعض لوگ يہ خيال كرتے ہيں كہ اگر اس نےايسا كيا ـ يعنى اگر اس نے بيوى كى دبر ميں وطئ كى ـ تو نكاح ٹوٹ جاتا ہے، حالانكہ ايسا نہيں، بلكہ نكاح باقى ہے، ليكن اگر وہ اس كے عادى ہو جائيں اور مسلسل ايسا كريں توان كے ماين عليحدگى كرانى واجب ہوگى، يعنى ايسا كام كرنے والے خاوند اور بيوى ميں عليحدگى كرا دى جائيگى.

اور عورت كے ليے حكم يہ ہے كہ وہ حسب قدرت و استطاعت اس سے اجتناب كرے، ميرى پہلے تو خاوندوں كو نصيحت ہے كہ وہ اپنے اور اپنے گھر والوں بيوى بچوں كے متعلق اللہ تعالى كا تقوى اختيار كريں اور اپنے آپ كو سزا كا مستحق مت بنائيں.

اور پھر ميرى بيويوں كو نصيحت ہے كہ وہ ايسے عمل سے بالكل رك جائيں اور ايسا نہ كرنے ديں چاہے اس كے نتيجہ ميں انہيں خاوند كے گھر سے اپنے ميكہ ہى كيوں نہ جانا پڑے تو ميكے چلى جائے اور وہ خاوند كے پاس مت رہے، اس حالت ميں وہ خاوند كى نافرمان نہيں ہوگى، كيونكہ وہ تو ايك معصيت و نافرمانى سے بھاگى ہے.

اور اس حالت ميں بيوى كا اپنے خاوند پر نان و نفقہ ہو گا، اگر وہ اپنے ميكے ايك يا دو ماہ رہتى ہے تو اسے اخراجات مانگنے كا حق حاصل ہے، كيونكہ خاوند كى جانب سے ظلم ہوا ہے؛ اس ليے كہ خاوند كے ليے حلال نہيں كہ وہ اپنى بيوى كو ايسے فحش عمل پر مجبور كرے " انتہى

ماخوذ از: اللقاء الشھرى ( 59 / 14 ).

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ آپ كے خاوند كو ہدايت عطا فرمائے، اور اسے سيدھى راہ اورحق كى طرف لوٹائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments