ar

132904: خفيہ جگہ ميں برص ہونے كى صورت ميں بتانا ضرورى ہو گا


ميرى عمر تيس برس ہے اور ان شاء اللہ شادى كى نيت ركھتا ہوں، اللہ سبحانہ و تعالى نے مجھے شرمگاہ ميں برص كى بيمارى كى آزمائش دى ہے، اور ميں شادى كرنے ميں دو سبب كى بنا پر متردد سا ہوں:
پہلا سبب:
برص كا منظر قبيح ہوتا ہے اور يہ ايك خفيہ جگہ ميں ہے ليكن مجھے خدشہ ہے كہ شادى كے بعد اگر ميرى بيوى اسے ديكھے ت واسے ناپسند كرنے لگے اور اس كى وجہ سے مجھے مشكلات سے دوچار نہ ہونا پڑے.
اور دوسرا سبب يہ ہے كہ:
ڈاكٹر نے مجھے بتايا ہے كہ يہ بيمارى متعدى تو نہيں ليكن آپ كى نسل ميں منتقل ہو سكتى ہے، اور يہ سب اللہ كى مشئيت پر ہے، جس طرح ايك مرد ناپسند كرتا ہے كہ بيوى كو برص كى بيمارى نہ ہو كيونكہ يہ اس كى اولاد ميں بھى منتقل ہو سكتى ہے.. مجھے خدشہ ہے كہ اسى طرح شادى كے بعد بيوى بھى اسے ناپسند كريگى.
ميں دو برس سے اس كا علاج كرا رہا ہوں ليكن ابھى تك شفايابى نہيں ہوئى، مجھے ڈاكٹر نے علاج بند كرنے كا كہا ہے كيونكہ اس كے جلد پر سلبى اثرات ہونگے، خاص كر شرمگاہ كى جلد پر اور ميں نے اپنے گھر والوں كو بھى اور والدہ كو بھى اسب يمارى كا نہيں بتايا، كيونكہ وہ بھى پريشان ہو سكتے ہيں.
لہذا اس سلسلہ ميں آپ كى رائے كيا ہے كيا شادى كروں اور اپنى اس حالت ميں چھپا كر ركھوں ؟ كيونكہ مجھے خدشہ ہے كہ اسے چھپانا دھوكہ شمار ہو گا، اور مجھے اس كا بھى خدشہ ہے كہ اگر اعلان كيا تو انجام برا ہوگا، اور شادى نہيں ہو گى آپ كيا نصيحت كرتے ہيں، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

Published Date: 2010-02-13

الحمد للہ:

اگر تو يہ برص جس كے متعلق دريافت كيا جا رہا ہے بيوى كے ليے نفرت كا باعث بنتى ہو تو پھر عقد نكاح سے قبل اسے بتانا ضرورى ہے؛ تا كہ اس كو چھپانا بعد ميں دھوكہ اور فراڈ شمار نہ كيا جائے.

اور قاعدہ اور اصول يہ ہے كہ: ہر وہ عيب جو نفرت كا باعث بنتا ہو اور جس سے نكاح كا مقصد محبت و پيار حاصل نہ ہوتا ہو وہ عيب شمار ہوتا ہے، ا سكا بيان كرنا ضرورى ہے اور اسے چھپانا جائز نہيں.

سوال نمبر ( 103411 ) كے جواب ميں اس كى تفصيل بيان ہو چكى ہے.

شيخ محمد بن صالح عثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

ايك شخص نے ايك عورت سے منگنى كى اور اس عورت كے متعلق معروف ہے كہ اس كى خلقت ميں عيب پايا جاتا ہے ليكن يہ عيب چھپا ہوا ہے ظاہر نہيں، اور يہ عيب دور ہونے كى اميد ہے يعنى شفا مل جائيگى، مثلا برص وغيرہ تو كيا منگيتر كو اس كے متعلق بتانا ضرورى ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" اگر كوئى مرد كسى ايسى عورت سے منگنى كرے جس ميں خفيہ عيب ہو، اور كچھ لوگوں كو اس عيب كا علم ہو: اگر منگنى كرنے والا شخص اس عورت كے متعلق دريافت كرے تو اس كو بيان كرنا ضرورى ہے، اور يہ واضح ہے.

اگرچہ وہ اس كے متعلق نہ بھى سوال كرے تو اس كو اس كے متعلق بتايا جائيگا؛ كيونكہ يہ بطور نصيحت ہے، اور خاص كر جب وہ عيب ختم ہونے كى اميد نہ ہو، ليكن اگر وہ عيب ختم ہونے كى اميد ہو تو يہ خفيف و ہلكا ہے، ليكن كچھ ايسى اشياء ہيں جو ختم تو ہو سكتى ہيں ليكن بہت سستى كے ساتھ مثلا ـ اگر يہ صحيح ہو كہ وہ ختم ہو جائيگا ـ ليكن مجھے تو ابھى تك علم نہيں ہوا كہ يہ ختم ہو جاتا ہے.

اس ليے جو جلد ختم ہو اور جو دير ميں ختم ہو اس عيب ميں فرق كرنا چاہيے " انتہى

ديكھيں: لقاءات الباب المفتوح ( 5 ) سوال نمبر ( 22 ).

اور يہ معاملہ اللہ كے سپرد كرنا چاہيے، اور ايسى عورت تلاش كى جائے جو دين اور اخلاق كى مالك ہو، كيونكہ دين اور اخلاق كى مالك عورت نيك و صالح اور صاحب حيثيت منگيتر كو اس طرح كے عيب كى وجہ سے رد نہيں كرتى، اور كتنے ہى عيب والے ايسے ہيں وہ اس سے زيادہ اوپر ہوتے ہيں جو آپ نے بيان كيا ہے اور انہيں ان كى ہر تمنا حاصل ہو جاتى ہے، لہذا آپ فكر مت كريں، اور اللہ سبحانہ و تعالى سے نيك و صالح بيوى كے حصول كا كثرت سے سوال كريں.

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ آپ كو شفايابى و عافيت سے نوازے اور آپ كى پريشانى دور فرمائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments