ar

133184: والد نے دھمكى دى كہ اگر بيوى كو طلاق نہ دو گے تو تمہارى ماں كو طلاق دے دوں گا


باپ اور بيٹے كے مابين غلط فہمى ہے اور باپ بيوى كو طلاق دينے پر مجبور كرتا ہے، اور دھكمى ديتا ہے كہ اگر اس نے اپنى بيوى كو طلاق نہ دى تو وہ اس كى ماں كو طلاق دے دے گا، چنانچہ بيٹے نے امريكہ سے يمن اپنى بيوى كو طلاق كا پيپر ارسال كر ديا، اور اب اس مطلقہ عورت جو كہ بيٹے كى بيوى تھى كے پاس لوگوں كا رشتہ آتا ہے، اور طلاق دينے والا بيٹا كہتا ہے كہ اس نے تو اپنے والد كو راضى كرنے اور اپنى والدہ كى مشكل حل كرنے كے ليے دى تھى تا كہ والدہ كى طلاق نہ ہو، تو كيا اس كا يہ عمل صحيح ہے، اور كيا اس كى بيوى كو طلاق ہوئى ہے يا نہيں ؟

Published Date: 2010-05-12

الحمد للہ:

اول:

بيوى كو طلاق دينے كے معاملہ ميں بيٹے كے ليے اپنے والدين كى اطاعت اس وقت تك لازم نہيں جب تك اس طلاق كا كوئى سبب نہ ہو؛ كيونكہ والدين كى اطاعت تو نيكى اور اس كام ميں ہے جس ميں بيٹے كو كوئى ضرر اور نقصان نہ ہو، اور بغير كسى سبب كے بيوى كو طلاق دينا نيكى و بھلائى نہيں.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:

ايك شادى شدہ شخص كى اولاد بھى ہے اور اس كى والدہ اسے بيوى كو طلاق دينے پر مجبور كرتى ہے كيا اسے طلاق دينا جائز ہے ؟

شيخ الاسلام كا جواب تھا:

" اپنى ماں كے كہنے پر اس كے ليے اپنى بيوى كو طلاق دينا حلال نہيں، بلكہ اسے چاہيے كہ وہ اپنى ماں كے ساتھ حسن سلوك كرے، اور اپنى بيوى كو طلاق دينا ماں كے ساتھ حسن سلوك ميں شامل نہيں ہوتا. واللہ اعلم. انتہى

ديكھيں: الفتاوى الكبرى ( 3 / 331 ).

اور " المطالب اولى النھى " ميں لكھتے ہيں:

" بيوى كو طلاق دينے كے مسئلہ ميں بيٹے پر اپنے والدين كى اطاعت واجب نہيں، چاہے اس كے والدين عادل ہى ہوں؛ كيونكہ يہ نيكى ميں شامل نہيں " انتہى

ديكھيں: مطالب اولى النھى ( 5 / 320 ).

شيخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:

اگر والد بيٹے سے مطالبہ كرے كہ اپنى بيوى كو طلاق دے دو تو اس كا حكم كيا ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" جب باپ اپنے بيٹے بيوى كو طلاق دينے كا مطالبہ كرے تو اس كى دو حالتيں ہيں:

پہلى حالت:

والد كوئى ايسا شرعى سبب بيان كرے كہ يہ سبب طلاق اور عليحدگى كا تقاضا كرتا ہو، مثلا وہ كہے: اپنى بيوى كو طلاق دے دو؛ كيونكہ اس كا اخلاق صحيح نہيں، مثلا وہ مردوں سے تعلقات بناتى ہے، يا پھر وہ ايسى جگہ جاتى ہے جو صحيح نہيں، يا اس طرح كا كوئى اور سبب، تو اس حالت ميں بيٹا اپنے والد كى بات مانتے ہوئے طلاق دے گا؛ كيونكہ اس نے اسے اپنى خواہش سے طلاق دينے كا مطالبہ نہيں كيا، بلكہ اس نے تو اپنے بيٹے كى عفت و عصمت اور بستر كى حمايت و حفاظت كے ليے ايسا كيا ہے تا كہ اس كا بستر اس گندگى سے گندا نہ ہو تو وہ اسے طلاق دےگا.

دوسرى حالت:

والد بيٹے كو كہے " تم اپنى بيوى كو طلاق دے دو " كيونكہ بيٹا اس سے بہت محبت كرتا تھا تو باپ نے بيٹے كا بيوى سے محبت ديكھتے ہوئے غيرت ميں آ كر يہ عمل كرنے كو كہا، اور ماں تو زيادہ غيرت والى ہوتى ہے، اس ليے بہت سارى مائيں جب ديكھتى ہيں كہ بيٹا اپنى بيوى سے بہت زيادہ محبت كرتا ہے تو وہ غيرت كھا جاتى ہيں حتى كہ وہ بہو كو اپنى سوكن بنا بيٹھتى ہيں، اللہ تعالى اس سے محفوظ ركھے اور عافيت دے.

تو اس حالت ميں بيٹے كے ليے اپنى بيوى كو طلاق دينا لازم نہيں كہ وہ باپ يا ماں كے كہنے پر طلاق دے دے، ليكن اسے چاہيے كہ وہ اپنے والدين كى خيال كرے اور حسن سلوك سے پيش آئے اور انہيں بہلائے اور اپنى بيوى كو پاس ہى ركھے اور والدين كو اچھى اور نرم كلام سے مطمئن كرنے كى كوشش كرے تا كہ وہ مطمئن ہو جائيں اور بہو كو ركھنے پر راضى ہو جائيں اور خاص كر جب دين و اخلاق كى مالك ہو تو يہ ضرورى ہے كہ اسے طلاق نہ دى جائے.

امام احمد رحمہ اللہ سے اس مسئلہ كے بارہ ميں دريافت كيا گيا:

ايك شخص امام احمد رحمہ اللہ كے پاس آيا اور كہنے لگا ميرا باپ مجھے كہتا ہے كہ ميں اپنى بيوى كو طلاق دے دوں، تو امام احمد رحمہ اللہ نے فرمايا: تم اسے طلاق مت دو، تو وہ شخص كہنے لگا: كيا جب عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے بيٹے كو اپنى بيوى كو طلاق دينے كا حكم ديا تھا تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہ كو حكم نہيں ديا تھا كہ وہ اسے طلاق دے دے ؟

تو امام احمد رحمہ اللہ نے فرمايا: كيا تمہارا باپ عمر رضى اللہ تعالى عنہ جيسا ہے ؟

اور اگر باپ اپنے بيٹے كو يہ دليل دے كہ بيٹے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بھى تو عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہما كو طلاق دينے كا كہا تھا جب عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے انہيں بيوى كو طلاق دينے كا حكم ديا تھا، تو اس كا رد اور جواب بھى يہى ہوگا.

يعنى كيا تم عمر رضى اللہ تعالى عنہ جيسے ہو ؟

ليكن بات ميں نرمى اختيار كرنى چاہيے اور يہ كہنا چاہيے كہ عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے كوئى ايسى چيز ديكھى جس كى مصلحت يہى تھى كہ ان كا بيٹا اپنى بيوى كو طلاق دے دے ، تو اس مسئلہ كا جواب يہى ہے جس كے متعلق بہت سوال ہوتا ہے " انتہى

ديكھيں: الفتاوى الجامعۃ للمراۃ المسلمۃ ( 2 / 671 ).

بيٹے كو دھمكى دينا كہ وہ اس كى ماں كو طلاق دے دے گا يہ ظلم اور بہت بڑى غلطى ہے، كيونكہ اس كے ساتھ ماں كا كوئى تعلق نہيں، اور ايسا كوئى سبب نہيں پايا جاتا جو ماں كو طلاق دينے كا تقاضا كرتا ہو، اور نہ ہى يہ دھمكى بيٹے كو ضرر و نقصان دےگى، اور اگر باپ حقيقى دھمكى بھى ديتا ہو كيونكہ ضرر كو ضرر كے ساتھ زائل نہيں كيا جاتا.

دوم:

اگر بيٹے نے طلاق كے الفاظ كى ادائيگى كى ہو تو طلاق واقع ہو گئى ہے، چاہے اس نے ايسا اپنے والد كو راضى كرنے كے ليے بھى كيا ہو، يا پھر اس نے طلاق كے الفاظ بغير نيت كے ادا كيے ہوں تو بھى طلاق ہو جائيگى؛ كيونكہ صريح طلاق ميں نيت شرط نہيں ہے.

اس ليے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تين اشياء حقيقت ميں بھى حقيقى ہيں اور مذاق ميں بھى حقيقى ہيں: نكاح اور طلاق اور رجوع "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 2194 ) سنن ترمذى حديث نمبر ( 1184 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 2039 ) حافظ ابن حجر نے التلخيص الحبير ( 3 / 424 ) ميں اور علامہ البانى نے صحيح سنن ترمذى حديث نمبر ( 944 ) ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

اور اگر اس نے كسى كاغذ پر لكھا ہو اور اس الفاظ كى ادائيگى نہ كى ہو تو اس ميں تفصيل ہے:

اگر تو اس نے طلاق كى نيت كى تھى تو طلاق واقع ہو گئى ہے، اور اگر اس نے طلاق كى نيت نہيں كى تو طلاق واقع نہيں ہوئى؛ كيونكہ طلاق لكھنا صريح طلاق نہيں.

اس كى تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 72291 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

سوم:

جب ہم نے طلاق واقع ہو جانے كا حكم لگايا ہے اور يہ طلاق پہلى يا دوسرى ہو تو اس بيٹے كے ليے عدت ميں اپنى بيوى سے رجوع كرنا جائز ہے، اور اگر عدت گزر چكى ہو اور اس نے رجوع نہيں كيا تو وہ اس كى بيوى اسى صورت ميں بن سكتى ہے كہ اس سے نيا نكاح كيا جائے.

اور بيٹے كو چاہيے كہ وہ اپنے باپ كے ساتھ حسن سلوك كے ساتھ پيش آئے، اور اگر كوئى ايسا سبب نہيں پايا جاتا جو طلاق دينے كا مقتضى ہو تو بيوى كو طلاق ديے بغير ہى اپنے والد كو راضى كرے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments