ar

134438: بيوى كو طلاق سے خوفزدہ كرنا چاہتا ہے تو كيا طلاق واقع ہو جائيگى يا نہيں


ميں اپنى بيوى كو ايك طلاق دے كر خوفزدہ كرنا چاہتا ہوں، ميں نے بہت سے حل تلاش كرنے كى كوشش كى ہے ليكن كئى برسوں كے بعد اس حل كے سوا كوئى اور حل نہيں پا سكا كيا يہ طلاق ہو جائيگى يا نہيں ؟

Published Date: 2011-05-02

الحمد للہ:

اول:

جس نے اپنى بيوى كو صريح الفاظ كے ساتھ طلاق دى اور اسے كہا: تجھے طلاق، يا تومطلقہ ہے، تو اسے فورا طلاق ہو جائيگى، چاہے اس سے اس كا بيوى كو خوفزدہ كرنے كا ارادہ ہو يا دھمكى اور مزاق كرنے كا؛ كيونكہ طلاق كے صريح الفاظ نيت كے محتاج نہيں ہوتے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" طلاق صريح نيت كى محتاج نہيں، بلكہ وہ بغير قصد و ارادہ كے بھى واقع ہو جاتى ہے، اس ميں كوئى اختلاف نہيں... چاہے اس سے خاوند مزاق كر رہا ہو يا پھر حقيقى طور پر كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تين اشياء كى حقيقت بھى حقيقت اور مذاق بھى حقيقت ہے: نكاح اور طلاق اور رجوع "

اسے ابو داود اور ترمذى نے روايت كيا ہے، اور ترمذى نے اسے حسن كہا ہے، ابن منذر كہتے ہيں: جن اہل علم سے ہم نے علم حاصل كيا ان سب كا اس پر اجماع ہے كہ طلاق كى حقيقت يا مذاق دونوں برابر ہيں " انتہى

دوم:

مسلمان شخص كو چاہيے كہ وہ اپنى زبان كو طلاق جيسے الفاظ سے محفوظ ركھے؛كيونكہ طلاق كا معاملہ اتنا آسان نہيں جتنا سمجھا جاتا ہے، اور اس صورت سے معاملات كا علاج ممكن نہيں ہے، بلكہ چاہيے كہ بيوى كو اللہ كا خوف دلايا جائے، اور عورت كا اپنے خاوند كى مخالفت كرنا اور ان امور ميں خاوند كى اطاعت نہ كرنا جن ميں اللہ نے اطاعت كرنے كا حكم ديا ہے يہ كبيرہ گناہ شمار ہوتا ہے.

اور يہ كس طرح نہ ہو حالانكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اگر ميں كسى كو حكم ديتا كہ وہ كسى كے ليے سجدہ كرے تو ميں عورت كو حكم ديتا كہ وہ اپنے خاوند كو سجدہ كيا كرے "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 1159 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے اسى صحيح قرار ديا ہے.

ميرے سائل بھائى آپ كو يہ نصيحت ہے كہ آپ اپنى بيوى سے كيسٹ اور ايسے پمفلٹ كے ذريعہ رابطہ ركھيں جو خاوند اور بيوى كے مابين معاشرت كا علاج كرتى ہوں، اور اس كے ساتھ وعظ و نصيحت بھى ہو، اور اگر اس كى حالت نہ سدھرے اور درست نہ ہو تو آپ اس كو بستر ميں عليحدہ كر ديں، اور اگر اس سے بھى فائدہ نہ ہو تو پھر اسے اتنا ماريں كہ اسے زخمى نہ كرے اور ہڈى وغيرہ نہ توڑے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور جن عورتوں كى نافرمانى اور بد دماغى كا تمہيں خوف ہو انہيں نصيحت كرو، اور انہيں الگ بستروں پر چھوڑ دو اور انہيں مار كى سزا دو پھراگر وہ تابعدارى كريں تو ان پر كوئى راستہ تلاش نہ كرو، بےشك اللہ تعالى بڑى بلندى اور بڑائى والا ہے }النساء ( 34 ).

شيخ سعدى رحمہ اللہ اس كى تفسير ميں كہتے ہيں:

" اور جن عورتوں كى نافرمانى اور بد دماغى كا آپ كو خوف ہو " يعنى وہ اپنے خاوند كى اطاعت نہ كريں، كہ قولى اور فعلى نافرمانى كريں، تو انہيں آسان سے آسان طريقہ سے ادب سكھايا جائے.

" تو انہيں وعظ و نصيحت كرو "

يعنى خاوند كى اطاعت اور اس كى نافرمانى ميں ان كے سامنے اللہ كا حكم بيان كرو، اور انہيں اطاعت كرنے كى ترغيب دلاؤ اور نافرمانى سے ڈراؤ، اگر تو وہ باز آ جائے تو يہى مطلوب ہے، وگرنہ پھر خاوند اسے بستر ميں عليحدہ چھوڑ دے، كہ اس سے اتنى مقدار ميں مجامعت و مضاجعت نہ كرے جس سے مطلوب حاصل ہو جائے، اور اگر اس سے بھى فائدہ نہ ہو تو پھر اسے مارے ليكن وہ مار شديد نہ ہو كہ زخمى ہى كر دے، اور اگر ان امور ميں سے كسى ايك كے ساتھ ہى مقصد حاصل ہو جائے اور تمہارى اطاعت كرنے لگيں تو:

" ان پر تم كوئى راستہ تلاش مت كرو "

يعنى جو تم چاہتے تھے وہ حاصل ہوگيا ہے لہذا اب انہيں پچھلے امور پر ڈانٹ ڈپٹ كرنے سے رك جاؤ، اور ان كى عيب جوئى مت كرو جس كا ذكر نقصاندہ ہو سكتا ہے، اور اس كے باعث شر و برائى حاصل ہوگى " انتہى

اور ابن كثير رحمہ اللہ اس آيت كى تفسير كرتے ہوئے كہتے ہيں:

يقينا اللہ تعالى بڑى بلندى والا اور بڑائى والا ہے "

يہ مردوں كو دھمكايا جا رہا ہے كہ اگر وہ عورتوں پر بغير كسى سبب كے زيادتى كريں گے تو پھر اللہ سبحانہ و تعالى على و كبير ہے، اور وہ ان سے ان عورتوں پرظلم كرنے كا انتقام ضرور لے گا " انتہى

خلاصہ يہ ہوا كہ:

ہم آپ كو نصيحت كرتے ہيں كہ طلاق كے معاملہ ميں جلد بازى سے كام مت ليں، كيونكہ ہو سكتا ہے اس عورت كو طلاق ہو جائے اور پھر اس كى حالت سدھر ہى نہ سكے، اور اسے دوسرى طلاق ہو جائے اور پھر تيسرى طلاق اور اس طرح وہ آپ كے عقد سے ہى نكل جائے اور آپ ندامت كا اظہار كرتے پھريں جبكہ اس وقت نادم ہونے كا كوئى فائدہ ہى نہ ہو.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments