ar

134659: بيوى كا سامان گاڑيوں پر ركھ كر علاقے ميں گھومنا


ہمارے ہاں ايك رواج ہے كہ جب لڑكى كى شادى ہوتى ہے اور اسے جو سامان ديا جاتا ہے وہ پانچ يا چھ گاڑيوں ميں ركھ كر لاؤڈ سپيكر اور موسيقى لگا كر مين روڈ پر گھمايا جاتا ہے، اور لوگ اس سامان كے متعلق ايك دوسرے سے پوچھتے ہيں، ان كے ليے يہ اہم ہوتا ہے كہ سامان كتنى گاڑيوں پر لادا ہے.
اور اس كے نتيجہ ميں جب وہ اپنى لڑكى كى شادى كرتا ہے تو جتنى گاڑيوں ميں اس نے سامان ديكھا تھا اس سے زيادہ سامان ديتا ہے.
ميرا سوال يہ ہے كہ: كيا شرعى طور پر اس سامان كى مشہورى كرنا اور لوگوں كو دكھانے كے ليے شہر ميں گھومنا اور سامان دينے ميں ايك دوسرے سے آگے نكلنا جائز يا نہيں ؟
برائے مہربانى اس كے متعلق شرعى دلائل واضح كريں، اور اس كے متعلق آپ كا منہج كيا ہے، يا پھر اس ويب سائٹ ميں اس موضوع كے متعلق كچھ سوالات كے متعلق بتائيں تا كہ ميں ان كا مطالعہ كروں، يا كچھ كتابوں كے نام بتائيں جن ميں يہ موضوع بيان ہوا ہو تا كہ لوگوں كو شريعت مطہرہ كى اتباع كے متعلق لايا جائے.
اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ آپ كى نيكيوں ميں اضافہ كرے.

Published Date: 2010-03-16

الحمد للہ:

ہميں تو يہى لگتا ہے كہ درج ذيل اسباب كى بنا پر ايسا كرنا جائز نہيں:

1 ـ اس طريقہ سے موسيقى لاؤڈ سپيكروں ميں بجانا حرام ہے اور ايك كے بعد دوسرا اندھيرا اور گمراہى ہے، شرعى دلائل سے موسيقى كے آلات اور گانے بجانے كى حرمت بالكل واضح ہے، اور اس ميں صرف دف اور وہ بھى بعض حالات يعنى نكاح ميں جائز ہے اس كے علاوہ نہيں.

اس كى تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 5000 ) اور ( 20406 ) كے جوابات كا مطالعہ كريں.

اس طرح موسيقى بجانے ميں تو اعلانيہ معصيت و نافرمانى پائى جاتى ہے، اور پھر اس ميں مومنوں كے ليے اذيت بھى ہے جو موسيقى سننے سے اذيت محسوس كرتے ہيں.

ـ اس طريقہ سے سامان كو شہر ميں گھمانے ميں كئى ايك شرعى ممانعت پائى جاتى ہيں:

ا ـ اس ميں تكبر اور فخر اور لوگوں كے اوپر آنا پايا جاتا ہے اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اللہ نے ميرى طرف وحى كى ہے كہ تم عاجزى و انكسارى اختيار كرو حتى كہ كوئى بھى كسى دوسرے پر زيادتى مت كرے اور نہ ہى كوئى كسى دوسرے پر فخر كرے "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 4895 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 4179 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے سلسلۃ الاحاديث الصحيحۃ حديث نمبر ( 570 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

ب ـ اس رواج ميں سامان اور مہر ميں زيادتى اور لوگوں سے آگے نكلنے پايا جاتا ہے، اور يہ چيز شريعت مطہرہ كے مخالف ہے كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مہر كى كمى اور شادى كے اخراجات ميں آسانى كرنے كى ترغيب دلائى ہے.

اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" سب سے بہتر نكاح وہ ہے جو آسان ہو "

اسے ابن حبان نے روايت كيا اور علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 3300 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور اس وجہ سے انسان اسراف و فضول خرچى ميں پڑ جائيگا جس سے اللہ سبحانہ و تعال نے منع فرمايا ہے:

فرمان بارى تعالى ہے:

{ اور تم اسراف و فضول خرچى مت كرو يقينا اللہ تعالى اسراف اور فضول كرنے والوں سے محبت نہيں كرتا }الانعام ( 141 ).

مزيد فائدہ كے ليے سوال نمبر ( 10525 ) اور ( 12572 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

ج ـ يہ فعل ايسا ہے جس سے فقراء اور مسكين لوگوں كے دل ٹوٹ جائيگے جو ان لوگوں كا مقابلہ نہيں كر سكتے اور اتنا سامان نہيں دے سكتے، تو اس طرح جب ايك فقير اور مسكين و تنگ دست اپنى بچى كى شادى كريگا تو وہ غمگين رہے گا اور اس كا دل گھٹتا رہے كہ كاش وہ بھى اپنى بچى كو اس طرح سامان ديكھ سكتا.

اور پھر يہ خاندان كے درميان بھى اختلافات اور جھگڑے كا سبب بن سكتا ہے، لڑكى اپنے والد سے بھى اتنا ہى سامان طلب كريگى جتنا كسى اور لڑكى كو ديا گيا ليكن اس كا والد ايسا نہيں كر سكےگا، يا پھر وہ ايسا كرنے پر راضى نہيں تو اس طرح جھگڑے اور اختلافات ہونگے.

د ـ يہ فعل حسد و بغض كے دروازے كھولےگا، اور كمزور ايمان قسم كے لوگوں ميں نفسياتى پريشانى پيدا ہوگى، جب وہ اس سامان كو ديكھےگے ـ اور وہ قيمتى سامان ہو ـ تو اللہ نے دوسروں كو جو اپنے فضل سے نواز ركھا ہے اس ميں حسد كرنے لگيں گے، اور وہ اس سے چھن جانے كى خواہش كرينگے.

اس ليے ميرى تو نصيحت يہى ہے كہ عقل و دانش والے لوگ اس طرح كى غلط عادت اور رسم و رواج كو ختم كرنے كى كوشش كريں اور اس كا مقابلہ كريں، اور لوگوں كو اس قيمتى سامان اور شادى كے اتنے زيادہ اخراجات نہ كرنے كى ترغيب دلائيں، اور صرف اسى پر اكتفا كريں جو انسان كو ضرورت ہوتى ہيں.

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ سب مسلمانوں كے حالات كى اصلاح فرمائے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments