en

13730: ميت كى قدر كرتے ہوئے دوست كے جنازہ ميں شركت كے ليے چرچ ميں جانا


كيا مسلمان شخص كے ليے ميت كى قدر اور احترام كرتے ہوئے اپنے كسى غير مسلم دوست كے جنازہ ميں شركت كے ليے چرچ ميں جانا جائز ہے ؟

Published Date: 2008-06-17

الحمد للہ:

مسلمان كے ليے كسى كافر كے جنازہ ميں شريك ہونا جائز نہيں، اور نہ ہى وہ ان كے چرچ ميں داخل ہو، چاہے وہ احترام يا قدر كى بنا پر ہى كيوں نہ ہو, كيونكہ جنازہ ميں شريك ہونا محبت و احترام اور قدر كى ايك قسم ہے، اور صحيح قول كے مطابق اسے كسى كافر كے ليے صرف كرنا جائز نہيں.

پھر سائل يہ كہہ رہا ہے كہ: ( وہ اپنے غير مسلم دوست كے جنازہ ميں شريك ہو ) اور كسى بھىمسلمان شخص كے ليے جائز اور حلال نہيں كہ وہ كسى كافر كو اپنا دوست بنائے، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى نے ہميں ان سے دشمنى كرنے اور ان سے دورى اور ان كے ساتھ بائيكاٹ كا حكم ديا ہے.

اس كا معنى يہ نہيں كہ ہم ان كے ساتھ لين دين اورتجارت بھى نہ كريں، اور شراكت بھى نہ كريں، يہ عليحدہ مسئلہ ہے، اور انہيں دوست بنانا ايك عليحدہ چيز ہے.

فرمان بارى تعالى ہے:

{آپ اللہ تعالى اور يوم آخرت پر ايمان ركھنے والى قوم كو ہرگز ان لوگوں سے محبت كرتے ہوئے نہيں پائيں گے جو اللہ تعالى اور اس كے رسول سے دشمنى ركھتے ہيں، چاہے وہ ان كے آباء واجداد يا ان كے بھائى، يا ان كا كنبہ قبيلہ ہى كيوں نہ ہو، يہى لوگ ہيں جن كے دلوں ميں اللہ تعالى نے ايمان لكھ ديا ہے، اور اپنى جانب سے روح القدس كے ساتھ ان كى تائيد كى ہے، اور انہيں ايسے باغات ميں داخل كرے گا جس كے نيچے سے نہريں بہتى ہيں، وہ اس ميں ہميشہ رہيں گے، اللہ تعالى ان سے راضى ہوگيا، اور وہ اللہ تعالى سے راضى ہوگئے، يہى اللہ تعالى كى جماعت ہے، خبردار بلاشبہ اللہ تعالى ہى كى جماعت كاميابى و كامرانى حاصل كرنے والى ہے} المجادلۃ ( 22 ).

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" يہوديوں اور عيسائيوں كو سلام كرنے ميں پہل نہ كيا كرو، اور جب تم انہيں راستے ميں ملو تو انہيں تنگ راستے ميں چلنے پر مجبور كردو"

امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے اسے صحيح مسلم حديث نمبر ( 2167 ) ميں روايت كيا ہے.

الشيخ سليمان بن ناصر العلوان
Create Comments