13747: اجنبی عورتوں سے ملناملانااورشریرروحیں کیا ہیں


اسلام میں عورتوں اوربچوں کا کردارکیا ہے ؟
کیاکوئ شریرقسم کی روحوں کاوجود ہے ؟
مسلمانوں کواجنبی عورتوں کے ساتھ ملنے کی اجازت کیوں نہیں ؟

Published Date: 2012-12-06

الحمدللہ :

عورتوں کے متعلق گزارش ہے کہ مردوں کی طرح عورتوں کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں ، توعورت کواپنی استطاعت کے مطابق دعوت الی اللہ کاکام کرتے ہوۓ اسے کوشش کرنی چاہۓ کہ وہ عورتوں کوکفارکی مشابہت سے بچنے کی تلقین کرے اور انہیں شرعی علم کے حصول اوراللہ تعالی کے ذکراورصرف اس اللہ وحدہ کی عبادت کی دعوت دے اورانہیں ہر صغیرہ اورکبیرہ گناہ سے بچنے کا کہے ، اوراس میں اسے دوسروں کےلیے ایک اچھا نمونہ پیش کرنا چاہيۓ یہ دعوت ہر ہراس جگہ جہاں پرعورتیں جمع ہوتی ہوں دی جاسکتی ہے ۔

اورجوبچے دس برس کے کم عمرکے ہیں ان کی مسؤلیت ان کے والدین پر ہے کہ وہ ان کی اچھی اورصالح تربیت کریں ، تواگروہ بچے کسی خلل کا شکار ہویا پھران سے حرام کام ہو جاۓ تواس کا گناہ ان کے والدین پرہوگا ، اوراسی طرح والدین انہیں سگرٹ نوشی اور نشہ وغیرہ سے دوررہنے کی تنبیہ کریں تاکہ وہ صحیح اوراچھی پرورش کرسکیں ۔

شریرروحيں وہ شیطان کی روحیں ہیں اوراسی طرح انسانوں میں سےبھی شیطان جوکہ بری تربیت اورپرورش میں بڑے ہوۓ اور ان کی گھٹی میں شرکی محبت اورشریرلوگوں سے انس پیدا ہوچکا ہو تویہ بھی شریرروحیں ہیں ۔

اوروہ لوگ جن کی نظریں دوسروں کو لگ جاتی ہیں اوروہ دوسروں کونقصان پہنچانے کی کوشش میں رہتے ہيں وہ بھی شریرہیں تواس طرح جنوں اورانسانوں میں شریرروحیں پائی جاتی ہیں ان کی طرف مائل ہونےوالوں کا نقصان بہت ہی زيادہ ہوتا ہے ۔

لیکن جب انسان ان کے شرسے بچتا اور اپنی زندگی میں اطمنان حاصل کرنا چاہتا ہے توجن و انس سے اللہ تعالی کی پناہ میں آۓ تواللہ تعالی اسے ان کے شرو فتنہ سے محفوظ رکھے گا۔

کتبہ : شیخ عبداللہ بن جبرین ۔

کسی مسلمان مرد کےلیے یہ جائزنہيں کہ وہ کسی اجنبی عورت سے عھدوپیمان کرے اوراس کے ساتھ کہیں نکلے اس لیے کہ اللہ تعالی نے مومنوں کو اس سے منع کرتے ہوۓ کچھ اس طرح فرمایا ہے :

{ سب پاکیزہ اشیاء آج تمہارے لیے حلال کردی گئي ہيں اوراہل کتاب کا ذبیحہ تمہارے لیے اورتمہارا ذبیحہ ان کےلیے حلال ہے ، اورپاک دامن مومن عورتیں اورجولوگ تم سے پہلے کتاب دیۓ گۓ ہیں ان کی پاک دامن عورتیں جب تم ان کے مہر ادا کردوتوتمہارے لیے وہ بھی حلال ہیں ، اس طرح کہ تم ان سے باقاعدہ نکاح کرو یہ نہیں کہ زنا کرویا پوشیدہ دوستیاں لگا کربدکاری کرو ، منکرین ایمان کے اعمال ضائع اوراکارت ہیں ، اورآخرت میں وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہيں } المائدۃ ( 5 ) ۔

اورایک دوسرے مقام پراللہ تعالی نے کچھ اس طرح فرمایا ہے :

{ اورجب تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے کوئ چيز طلب کرو توپردے کے پیچھے سے طلب کرو ، تمہارے اوران کے دلوں کے لیے پاکيزگی یہی ہے } الاحزاب ( 53 ) ۔

اوراس لیے بھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :

( جب بھی کوئ‏ مرد کسی عورت سے خلوت کرتا ہے توان میں تیسرا شیطان ہوتا ہے ) سنن ترمذي حدیث نمبر ( 2165 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی عنہ نے صحیح ترمذی ( 1758 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

اوراللہ تعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments