13901: قرض كو معاف كر كے اسے زكاۃ ميں شمار كرنا جائز نہيں ہے


تين برس قبل ميرا ايك دوست كام كى تلاش كے سلسلہ ميں ميرے شہر ميں آيا جہاں ميں ملازمت كرتا ہوں، اور اس نے مجھ سے ويزہ اور ميڈيكل وغيرہ كا خرچہ ادا كرنے كا مطالبہ كيا جو تقريبا ساڑھے چار ہزار درہم ( تقريبا بارہ سو ڈالر ) بنے، ليكن وہ حالات كا مقابلہ نہ كر سكا اور واپس انڈيا چلا گيا اور وعدہ كيا كہ وہ يہ رقم بعد ميں واپس كر دے گا.
ايك برس بعد وہ صرف ايك ہزار درہم واپس كر سكا، اور ابھى تك ساڑھے تين ہزار درہم اس كے ذمہ ہيں، ميں جب آخرى بار انڈيا گيا تو اس نے خط لكھا تھا كہ اس كے مالى حالات بہت زيادہ تنگ ہيں، اور وہ باقى رقم كسى بھى صورت ميں ہرگز واپس كرنے كى استطاعت نہيں ركھتا، اور مجھ سے مطالبہ كيا كہ وہ بقيہ رقم كو زكاۃ شمار كر لے.
ميرا سوال يہ ہے كہ:
كيا ميرے ليے جائز ہے كہ ميں باقى رقم كے مطالبہ سے دستبردار ہو جاؤں اور اسے اپنى زكاۃ ميں سے ايك حصہ شمار كرلوں، كيونكہ اس ماہ رمضان ميں زكاۃ كا وقت قريب ہے؟
كيا ميں اس ماہ مبارك ميں فقرا كو دى جانے والى زكاۃ ميں سے يہ رقم كاٹ لوں ؟

Published Date: 2011-10-08

الحمد للہ:

بخارى اور مسلم ميں ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے مروى ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے معاذ بن جبل رضى اللہ تعالى عنہ كو يمن كى طرف روانہ كرتے ہوئے فرمايا تھا:

" تم انہيں يہ بتانا كہ اللہ تعالى نے ان كے اموال ميں زكاۃ فرض كى ہے جو ان ميں سے غنى اور مالدار لوگوں سے حاصل كر كے ان كے فقراء ميں ہى تقسيم كر دى جائے گى"

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے يہ بيان كيا كہ زكاۃ ايك ايسى چيز ہے جو لى جاتى ہے، اور واپس كى جاتى ہے، تو اس بنا پر آپ كے ليے جائز نہيں كہ اپنے قرضدار كا قرض معاف كر كے اسے زكاۃ ميں شمار كرليں، كيونكہ قرض معاف كرنا نہ تو لينا ہے، اور نہ ہى واپس كرنا.

اور شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالى نے يہ ذكر كرتے ہوئے كہا ہے:

بغير كسى نزاع اور اختلاف كے قرض معاف كرنے سے بعينہ زكاۃ ادا نہيں ہو گى.

ليكن آپ كے ليے يہ جائز ہے كہ آپ اس محتاج اور ضرورتمند شخص كو اپنى زكاۃ ميں سے اتنا مال ديں جو اس كى ضروريات پورى كرے، اور اس كے ذمہ جو قرض ہے ان شاء اللہ اللہ تعالى اسے بعد ميں ادا كر دے گا.

ديكھيں: فتاوى منار الاسلام للشيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى ( 1 / 309 - 310 ).
Create Comments