139631: مضاربت کے تمام شراکت دار اپنے نفع کی زکاۃ ادا کرینگے۔


سوال: چار سال سے مجھے سات ہزار ریال دیے ہوئے ہیں اور میں اس کا حلال کاروبار کرتا ہوں، اور پھر ہر سال ہم نفع تقسیم کر لیتے ہیں، اب میں 16 ہزار ریال تک پہنچ چکا ہوں، اور ہم نے گزشتہ چار سالوں کی زکاۃ ادا نہیں کی، ہمیں اس بارے میں فتوی صادر فرما کے عند اللہ ماجور ہوں ، امید ہے کہ سوال واضح ہے؟

Published Date: 2016-05-07

الحمد للہ:

اول:

زکاۃ ادا کرنا اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہے، اور عظیم ترین دینی فرائض و واجبات میں سے ہے، چنانچہ ہر مسلمان کو زکاۃ فرض ہونے کے بعد اس کی ادائیگی  میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے، لہذا زکاۃ ادا کرتے ہوئے تاخیر کرنا بالکل بھی درست نہیں ہے۔

زکاۃ کا وقت گزرنے سے زکاۃ ساقط نہیں ہوتی، چاہے زکاۃ ادا نہ کیے ہوئے کئی سال ہی کیوں نہ گزر جائیں، یہ زکاۃ اس پر قرض ہی رہے گی، اور اسے ادا کرنا واجب ہوگا۔

نووی رحمہ اللہ "المجموع" (5/302) میں کہتے ہیں:
"اگر کئی سال تک زکاۃ ادا نہیں کی تو گزشتہ تمام سالوں کی زکاۃ ادا کرنا اس پر واجب ہے" انتہی

اسی طرح "الموسوعة الفقهية" (23/298) میں ہے کہ:
"اگر کسی مکلف شخص نے زکاۃ فرض ہونے کی تمام شرائط پوری ہونے کے باوجود کئی سال تک زکاۃ ادا نہیں کی، تو تمام اہل علم کے ہاں سابقہ زکاۃ ساقط نہیں ہوگی، اور اس پر گزشتہ تمام سالوں کی زکاۃ ادا کرنا واجب ہے" انتہی

دوم:

جمہور اہل علم کے ہاں تجارتی سامان پر زکاۃ واجب ہوتی ہے، اور اس بارے میں دلائل کا تفصیلی ذکر پہلے سوال نمبر: (130487) میں گزر چکا ہے۔

چنانچہ سامان تجارت کا حساب لگانے کا طریقہ یہ ہے کہ :
"سال کے آخر میں سارے سامان کی قیمت لگائیں اور پھر اس میں سے 2.5٪ ادا کریں"

ابن قدامہ رحمہ اللہ "المغنی" (4/249) میں کہتے ہیں:
"کسی شخص نے تجارت کی غرض سے سامان خریدا اور نصاب پورا ہونے کے بعد اس پر سال گزر گیا  تو سال کے آخر میں اس کی قیمت لگائے ، جتنی بھی قیمت بنے تو اس میں سے چالیسواں حصہ زکاۃ ادا کر دے" انتہی

دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام کا کہنا ہے کہ:
"شرعی طریقہ یہ ہے کہ سال پورا ہونے پر آپ اپنے پاس موجود مال کی موجودہ مارکیٹ کے حساب سے قیمت لگائیں، قیمت خرید کو بنیاد مت بنائیں" انتہی
"فتاوى اللجنة الدائمة" (9/319)
اسی طرح سامانِ تجارت کیساتھ منافع بھی شامل کر کے سب کی زکاۃ ادا کر دیں۔

اسی طرح "الموسوعة الفقهية" (22/86) میں ہے کہ:
"زکاۃ کا حساب لگانے کیلئے دورانِ سال سامانِ تجارت سے حاصل ہونے والا منافع بھی  سامان تجارت کی قیمت کیساتھ ملایا جائے گا، چنانچہ اگر کسی شخص  نے کوئی سامان محرم کے مہینے میں 200 درہم کا خریدا اور سال پورا ہونے سے کچھ دیر پہلے ہی اس کی قیمت 300 درہم ہوگئی تو سال کے آخر میں 300 درہم کی زکاۃ دے گا" انتہی

مذکورہ بالا حکم رأس المال کے مالک سے متعلق ہے کہ  وہ ہر سال اپنے رأس المال سمیت حاصل شدہ منافع کی  زکاۃ بھی ادا کریگا۔

جبکہ مضاربت کے دوسرے فریق[محنت مزدوری کرنے والا] کو منافع تقسیم نہ ہونے کی صورت میں زکاۃ ادا کرنی پڑے گی یا نہیں؟ اور سوال میں بھی یہی صورت پوچھی گئی ہے،  اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے، تاہم جس موقف کو متعدد معاصر علمائے کرام  نے اپنایا ہے وہ یہ ہے کہ منافع کی مد میں ملنے والی رقم پر بھی زکاۃ لاگو ہوگی۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"مضاربت میں محنت و مزدوری کرنے والے کے حصے پر زکاۃ واجب ہوتی ہے یا نہیں؟ اس بارے میں صحیح یہی ہے کہ اگر نفع پر سال گزر جائے اور اسے ابھی تک تقسیم نہ کیا گیا ہو تو اس میں زکاۃ ہوگی؛ کیونکہ یہ ایسے مال کا منافع ہے جس پر زکاۃ واجب ہوتی ہے، اس لیے اس مال کے منافع پر بھی زکاۃ واجب ہوگی، دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے لیکر آج تک لوگوں کا طریقہ کار ہی یہی رہا ہے کہ جب کسی مال پر زکاۃ واجب ہو تو اس کے منافع میں سے بھی زکاۃ ادا کری جاتی ہے" انتہی
" شرح الكافی" (3/121)

شیخ ابن جبرین رحمہ اللہ سے استفسار کیا گیا:
"مضاربت میں منافع تقسیم ہونے سے پہلے منافع کی مقدار نصاب کو پہنچتی ہو تو کیا اس پر زکاۃ واجب ہوگی؟"
تو انہوں نے جواب دیا:
"مضاربت یہ ہے کہ آپ کسی کو اپنا مال تجارت کیلئے دیں ، چنانچہ آپ نے مثال کے طور پر کسی کو 20 ہزار دیے کہ وہ اس رقم کیساتھ تجارت کرے، اور منافع میں سے نصف اسے ملے گا، اور آپ کو آپ کا رأس المال بھی واپس کریگا، اب ایک سال گزرنے پر یہ مال 20 سے 30 ہوگیا ، اس میں سے 5 مضاربت کیلئے محنت مزدوری کرنے والے کا ہوگا اور 20  رأس المال، تو اب کتنے مال میں سے زکاۃ دی جائے گی؟ مکمل 30 ہزار میں سے زکاۃ دی جائے گی، چنانچہ زکاۃ رأس المال اور منافع سمیت پورے مال کی ادا کرینگے، مضاربت میں زکاۃ ادا کرنے کا یہی طریقہ ہے" انتہی
"فتاوى الشيخ ابن جبرين" (50/8)

اسی طرح شیخ صالح الفوزان رحمہ اللہ سے استفسار کیا گیا :
"میرے پاس کچھ پیسے تھے اور میں نے وہ پیسے اپنے دوست کو تجارت کیلئے دے دیے، تو اب زکاۃ کو ن ادا کریگا؟ وہ یا میں، اور اسی طرح میں صرف رأس المال کی زکاۃ ادا کرونگا یا منافع کی زکاۃ بھی دونگا؟"
تو انہوں نے جواب دیا:
"آپ اپنے حصے میں آنے والے نفع کی زکاۃ اسی وقت ادا کرینگے جب وہ نصاب کو پہنچتا ہو، جبکہ ر أس المال  کا مالک نفع سمیت پورے مال کی زکاۃ ادا کریگا، کیونکہ منافع کو اصل رأس المال کے حکم میں رکھا جاتا ہے، اس لیے چاہے منافع کم ہی کیوں نہ ہو اس کی زکاۃ ادا کریگا" انتہی
"فتاوى الشيخ ابن جبرين" (50/8)

مذکورہ  بالا تفصیل کے بعد آپ ہر سال رأس المال میں شامل کیے جانے والے منافع کا حساب لگائیں، اور پھر رأس المال کا مالک  اپنے اصل مال اور منافع دونوں کی زکاۃ ادا کریگا، اور آپ اپنے منافع  میں سے سابقہ سالوں کی زکاۃ ادا کرینگے۔

نوٹ: سامانِ تجارت کا سال زکاۃ تجارتی سامان کی خریداری سے شروع نہیں ہوگا، بلکہ  سال زکاۃ اسی وقت سے شروع ہے جب سے آپ کے پاس تجارت  کیلئے رقم نصاب کو پہنچ چکی تھی۔

اس کی تفصیل جاننے کیلئے آپ سوال نمبر: (32715) کا مطالعہ کریں۔

واللہ اعلم.

اسلام سوال و جواب
Create Comments