ar

140072: خاوند نے بيوى كو طلاق كے مقابلہ ميں اپنے حقوق سے دستبردار ہونے پر مجبور كيا اور دو ہفتوں كے بعد فوت ہو گيا


ميرے والد نے ميرى والدہ كو طلاق دينے كے بعد ايك عورت سے شادى كى، اور جب والد شديد بيمار ہوئے تو اس عورت نے طلاق كا مطالبہ كر ديا كہ تين برس تك يہ شخص حقوق زوجيت ادا كرنے كے قابل نہيں تھا اس ليے اس نے طلاق كا مطالبہ كر ديا كيونكہ وہ ايك اپاہچ شخص كے ساتھ رہنے سے تنگ آ چكى تھى.
ليكن ميرے والد نے اسے طلاق دينے سے انكار كر ديا، ليكن اگر وہ اپنے سارے حقوق سے دستبردار ہو جائے تو طلاق ہو سكتى ہے، اور اس عورت نے اس پر اتفاق كر ليا كہ وہ اپنے سارے حقوق چھوڑتى ہے اسے طلاق دى جائے، كيونكہ اس كا بدل تو يہى تھا يا تو وہ اس كے ساتھ ہى رہے، يا پھر عدالت ميں جائے تا كہ وہ يہ ثابت كر سكے كہ اسے ضرر ہو رہا ہے اور وہ طلاق چاہتى ہے، اور اس طرح اس كے سارے حقوق محفوظ ہو جائيں گے، ليكن اس نے والد كے دباؤ پر اپنے سارے حقوق سے دستبردار ہو كر طلاق لينے پر رضامندى ظاہر كر دى اور اس طرح طلاق ہو گئى.
اور طلاق كے دو ہفتے بعد ميرے والد فوت ہو گئے تو كيا سابقہ بيوى كے كچھ حقوق ہيں ؟ يہ علم ميں رہے كہ يہ طلاق رجعى نہيں تھى يعنى ميرے والد صاحب اس سے رجوع نہيں كر سكتے بلكہ نيا نكاح ہى ہو سكتا تھا ؟

Published Date: 2011-04-19

الحمد للہ:

جب آدمى بيمار ہو جائے اور حقوق زوجيت كى ادائيگى سے عاجز ہو جائے تو اس كى بيوى كے ليے عقد نكاح فسخ كرنے كا حق ثابت ہو جاتا ہے، اور اس صورت ميں بيوى كو سارے حقوق مليں گے، كيونكہ اس حالت ميں فسخ نكاح كا سبب خاوند ہے نہ كہ بيوى.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" بيوى سے وطئ نہ كرنے سے بيوى كو حصول ضرر ہر حالت ميں فسخ نكاح كا مقتضى ہے چاہے يہ خاوند كے قصد سے يا بغير قصد كے، اور چاہے اس كى قدرت يا عاجز ہونے كے ساتھ ہو مثلا نفقہ " انتہى

ديكھيں: الفتاوى الكبرى ( 5 / 481 - 482 ).

اس سلسلہ ميں اختلاف ذكر كرنے كے بعد شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" صحيح وہى ہے جو شيخ نے كہا ہے؛ كيونكہ اكثر عورتيں اپنے خاوند كے ساتھ معاشرت كرنا چاہتى ہيں، اور وہ مال سے زيادہ اولاد چاہتى ہيں، ان امور ميں اسے مال اہم نہيں ہوتا... اس ليے صحيح وہى ہے جو شيخ رحمہ اللہ نے كہا ہے كہ جب خاوند بيمارى كى وجہ سے وطئ كرنے سے عاجز ہو اور بيوى نے فسخ نكاح كا مطالبہ كيا تو نكاح فسخ كيا جائيگا.

ليكن اگر يہ بيمارى ايسى ہو كہ اس كا علاج ہو سكتا ہے يا پھر ظن غالب ہو كہ علاج معالجہ سے يہ بيمارى جاتى رہے گى يا حالت كے اختلاف كى بنا پر تو پھر بيوى كو فسخ نكاح كا حق حاصل نہيں ہوگا؛ كيونكہ اس بيمارى كے زائل ہونے كا انتظار كيا جائيگا " انتہى

ديكھيں: الشرح الممتع ( 12 / 154 ).

اور العدوى المالكى اپنے حاشيۃ ميں لكھتے ہيں:

" طلاق پر پانچ احكام لاگو ہوتے ہيں: اباحت، اور مندوب اور كراہت اور حرام اور وجوب.

واجب اس طرح ہو گى كہ طلاق نہ دينے كى صورت ميں عورت كو ضرر لازم آتا ہو، مثلا اس پر خرچ كرنے والا كوئى نہ ہو، يا پھر وطئ سے عاجز ہو اور اس كے ساتھ عورت كى عدم رضا ہو .. انتہى

ديكھيں: حاشيۃ العدوى ( 2 / 80 ).

اس بنا پر اگر بيوى نے ضرر كى بنا پر طلاق طلب كى تھى كہ اس كا خاود اس كے حقوق معاشرت ادا كرنے كى قدرت نہيں ركھتا تھا تو اسے يہ حق حاصل ہے، اور اس حالت ميں خاوند كے ليے جائز نہيں كہ وہ اس كو طلاق كے مقابلہ ميں اپنے حقوق سے دستبردار ہونے پر مجبور كرے.

ليكن اگر اس نے اس ليے طلاق طلب كى ہے كہ وہ ايك بوڑھے شخص كے ساتھ نہيں رہنا چاہتى، اس ليے نہيں كہ اسے كوئى ضرر اور نقصان ہو رہا كہ معاشرت نہ ہو تو ضرر ہوگا تو اس صورت ميں خاوند كو حق حاصل ہے كہ وہ اس سے مال لے يا پھر طلاق كے مقابلہ ميں اسے سارے حقوق سے دستبردار ہونے كا مطالبہ كرے، اور اسے خلع كے نام سے پہچانا جاتا ہے"

اس ليے آپ كو چاہيے كہ آپ اپنے والد كى بيوى كے حال كو ديكھيں اگر تو اس نے پہلے سبب كى بنا پر طلاق طلب كى ہے تو اس كے سارے حقوق ثابت ہونگے، اور انہيں واپس كرنا واجب ہے.

اور اگر اس نے دوسرے سبب كى بنا پر طلاق طلب كى ہے تو جو كچھ ہوا ہے وہ صحيح ہے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments