ar

143266: بيوى كو طلاق كى نيت سے كہا: مشكل حل كرنے كے ليے لوگوں كو كہو اور تم نكل جاؤ


ميں نے ايك لڑكى سے عقد نكاح كيا اور اس سے خلوت بھى كى دخول كے علاوہ باقى سارے ازدواجى تعلقات قائم كيے...
ميرا اور بيوى كا ٹيلى فون پر جھگڑا ہوا سبب يہ تھا كہ وہ ميرى اجازت كے بغير باہر جاتى تھى، ميں نے اسے كہا ميں قسم نہيں اٹھانا چاہتا، كيونكہ مجھے خدشہ تھا كہ كہيں قسم واقع نہ ہو جائے اور ہم حرام طريقہ سے نہ رہتے رہيں.
صلح كے ليے بيوى نے لوگوں كو درميان ميں ڈالنا چاہا ليكن ميں نے اسے كہا ہمارى مشكل ميں كوئى شخص بھى دخل نہ دے بلكہ ہم اكيلے ہى اپنى مشكل كو حل كرينگے.
ليكن بيوى نہ مانى اور كہنے لگى: ميں تو سارے گاؤں كے لوگوں كو اس مشكل حل كرنے كے ليے شامل كرونگى، ميں نے بيوى سے كہا:
ٹھيك ہے تم لوگوں كو داخل كرو اور خود نكل جاؤ، اس كلمہ كے كہنے كے بعد ( لوگوں كو داخل كرو اور خود نكل جاؤ ) ميرے كان ميں وسوسہ سا ہوا كہ تمہيں طلاق ہوگى، تو ميں نے يہ كلمہ تم نكل جاؤگى كئى بار كہا وہ بغير سمجھے ہى مجھے كہنى لگى: جى ہاں.
ميں پھر يہ كلمہ دہرايا كہ تم خود نكل جاؤگى اور لوگوں كو شامل كروگى، تو وہ كہنے لگى: نہيں، ميں نے خيال كيا كہ وہ سمجھ گئى ہے، اب ميں پريشان ہوں:
آيا يہ معلق طلاق ميں شامل ہوتا ہے، اور كيا اس كا كوئى كفارہ ہے ؟
اور كيا اگر كوئى ہمارے معاملات ميں دخل اندازى كرے تو بيوى كو طلاق ہو جائيگى ؟
نيت كے متعلق گزارش يہ ہے كہ ميں اسے طلاق نہيں دينا چاہتا تھا، ليكن اسے خاوند كى اطاعت سكھانا اور خوفزدہ كرنا چاہتا تھا.
برائے مہربانى يہ بتائيں كہ ميں اس وسوسے كا علاج كيسے كروں ؟
ميں ہميشہ محسوس كرتا ہوں كہ دخول كے بعد كہيں اس كے ساتھ حرام طريقہ سے ہى نہ رہتا رہوں، مجھے كيا كرنا چاہيے ؟

Published Date: 2011-06-12

الحمد للہ:

آپ كا اپنى بيوى كو يہ كہنا كہ: " تم لوگوں كو شامل كرو اور خود نكل جاؤ "

اور آپ كا يہ كہنا: " تم نكل جاؤ "

يہ طلاق كے صريح الفاظ ميں شامل نہيں ہوتے، بلكہ يہ كنايہ كے الفاظ ہيں جن ميں طلاق كا بھى احتمال ہے اور طلاق كا احتمال نہيں بھى ہے.

كنايہ كےالفاظ ميں قاعدہ اور اصول يہ ہے كہ اگر طلاق كى نيت نہ ہو تو ان الفاظ سے طلاق واقع نہيں ہوتى، اگرچہ يہ الفاظ جھگڑے اور غصہ كى حالت ميں بھى كہے جائيں، اس ميں راجح يہى ہے كہ طلاق واقع نہيں ہوتى.

مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 136438 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

اس بنا پر جب آپ نے يہ الفاظ بولتے وقت طلاق كى نيت نہيں كى تھى تو طلاق واقع نہيں ہوئى، اور اگر يہ الفاظ بولتے وقت آپ نے طلاق كى نيت كى تھى تو آپ كى مشكل حل كرنے كے ليے لوگوں كے داخل ہونے كى صورت ميں ايك طلاق واقع ہو جائيگى اور اس ميں آپ كو رجوع كرنے كا حق حاصل ہے، اور اگر لوگ دخل اندازى نہ كريں تو پھر كچھ نہيں ہوگا.

جو شخص بھى طلاق كنايہ كے الفاظ استعمال كرے اور اسے شك ہو كہ پتہ نہيں اس نے طلاق كى نيت كى تھى يا نہيں تو طلاق واقع نہيں ہوگى، كيونكہ اصل ميں طلاق نہيں ہے.

يہاں ايك چيز پر متنبہ رہنا چاہيے كہ اس نيت كو وسوسہ كا نام نہيں ديا جاتا ـ جو نيت يقينى طلاق كى ہو يا پھر طلاق نہ دينے كى يا پھر تردد ميں ہو ـ بلكہ وسوسہ تو معاملہ كے تكرار كو كہا جاتا ہے، مثلا يہ كہ جب بھى وہ كوئى معين كلمہ كہے يا كسى چيز كے متعلق سوچے تو وہ گمان كرے كہ اس نے اس سے بيوى كو طلاق دے دى ہے.

جب آدمى وسوسہ كى حالت كو پہنچ جائے تو طلاق واقع نہيں ہوتى، جيسا كہ سوال نمبر ( 62839 ) اور ( 83029 ) كے جواب ميں بيان ہو چكا ہے.

ليكن جب انسان وسوسہ كى حد كو نہ پہنچا ہو اور طلاق كنايہ كى كلام كرے تو اسے اپنى ني تكو ٹٹولنا چاہيے اگر تو طلاق كى نيت تھى تو طلاق واقع ہو جائيگى، اور اگر طلاق كى نيت نہ تھى تو طلاق واقع نہيں ہوگى.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments