143844: منگنى كے بعد منگيتر كا چہرہ ديكھنا


كيا منگنى كى موافقت اور ہر قسم كى تفصيلات پر اتفاق ہو جانے اور كئى بار ديكھنے كے بعد منگيتر كا نقاب كے ساتھ چہرہ ديكھنا جائز ہے ؟

Published Date: 2010-10-12

الحمد للہ:

اصل ميں كسى اجنبى شخص كا اجنبى عورت كے چہرہ كو ديكھنا حرام ہے، اس كا تفصيلى بيان سوال نمبر ( 20229 ) كے جواب ميں گزر چكا ہے، اس كا مطالعہ كريں.

اور منگيتر شخص اپنى منگيتر كے ليے اجنبى ہے، صرف شريعت نے اس كے ليے منگنى كرتے وقت ديكھنا مشروع كيا ہے تا كہ وہ بصيرت كے ساتھ شادى جيسا اقدام كرے.

تا كہ يا تو عورت اسے پسند آ جائے اور وہ اس سے نكاح كر لے، يا پھر پسند نہ آئے تو كسى اور عورت سے شادى كر سكے.

اور اسے حق حاصل ہے كہ وہ تكرار سے ديكھے حتى كہ اس سے منگنى كرنے يا نہ كرنے كا يقين ہو جائے، اس ليے جب دونوں ميں سے كوئى ايك فيصلہ كر لے تو پھر حكم اصل پر واپس پلٹ جائيگا، اور وہ عورت كو ديكھنا حرام ہے، كيونكہ اس كے بعد كوئى ايسا سبب نہيں جو اسے مباح كرتا ہو، حتى كہ وہ عقد نكاح كر كے اسے اپنى بيوى نہ بنا لے اس وقت تك نہيں ديكھ سكتا.

الموسوعۃ الفقھيۃ ميں درج ہے:

" منگنى كرنے والے شخص كے ليے " منگنى سے قبل " اپنى ہونے والى منگيتر كو تكرار كے ساتھ ديكھنے كا حق حاصل ہے حتى كہ اس كے ليے عورت كى ہيئت واضح ہو جائے، تا كہ بعد ميں وہ اس سے نكاح كرنے پر نادم نہ ہو، اور اسے بقدر ضرورت مقيد كا جائيگا.

اس ليے اگر صرف ايك نظر سے ديكھنا ہى كافى ہو تو اس سے زائد حرام ہے، كيونكہ ضرورت كے ليے ديكھنا مباح كيا گيا ہے لہذا اسے ضرورت كے ساتھ مقيد كيا جائيگا " انتہى

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 19 / 200 - 201 ).

اور شيخ محمد بن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" منگنى كرنے كے ليے ہونے والى منگيتر كو صرف ضرورت كے ليے ديكھنا ہے، اس ليے اگر اس نے پہلى بار ديكھا اور اس ديكھنے سے اسے پسند آ گئى يا پسند نہ آئى تو وہ اس پر عمل كرے، اور بار بار ديكھنے كى كوئى ضرورت نہيں؛ كيونكہ انسان كو معلوم ہو چكا ہے كہ وہ اس سے شادى كرے يا نہ كرے.

ليكن بغير كسى ضرورت كے عورت كو بار بار ديكھنا جائز نہيں؛ كيونكہ وہ اس كے ليے اجنبى ہے " انتہى

فتاوى نور على الدرب ( 10 / 86 ).

شيخ رحمہ اللہ سے يہ بھى دريافت كيا گيا كہ:

كيا منگيتر كے ليے اپنى منگيتر كے گھر بار بار جانا اور منگيتر كا چہرہ اور ہاتھ ننگے كر كے محرم كى موجودگى ميں اپنے منگيتر كے ساتھ بيٹھنا جائز ہے، يا كہ صرف ايك بار جائے اور گھر والوں كى موجودگى ميں اپنى منگيتر كو ديكھ لے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" جى ہاں، منگنى كرنے والے شخص كے ليے اپنى منگيتر كے گھر بار بار جانا اور اپنى منگيتر سے بات چيت كرنا صحيح نہيں ليكن وہ اسے ديكھے حتى كہ معاملہ واضح ہو جائے، اور جب معاملہ پہلى بار ديكھنے سے ہى واضح نہ ہو اور وہ دوبارہ ديكھنا چاہے تو اس ميں كوئى حرج نہيں، اور وہ تكرار كے ساتھ ديكھ سكتا ہے حتى كہ معاملہ واضح ہو جائے.

ليكن معاملہ واضح ہو جانے كے بعد، اور منگنى كرنے كا عزم كر لينے، يا پھر منگنى ہوجانے كے بعد اسے ان كے ہاں جانے كى كوئى ضرورت نہيں.

اور سوال كرنے والى كا يہ قول كہ:

چہرہ اور ہاتھ كے علاوہ باقى پردہ كر كے بيٹھنا، تو ہم اسے اور دوسرى عورتوں كو كہيں گے كہ: پردہ تو چہرے كا ہوتا ہے.. " انتہى

فتاوى نور على الدرب ( 10 / 80 - 81 ).

مستقل فتوى كميٹى كے علماء سے درج ذيل سوال كيا گيا:

ميں ايك ديندار نوجوان ہوں، نماز روزہ كى پابندى كرتا ہوں، اور سوموار اور جمعرات كا نفلى روزہ بھى ركھتا ہوں، زكاۃ بھى ادا كرتا،ا ور باقى حقوق اسلام كى بھى ادائيگى كرتا ہوں.

ليكن ميں ايك لڑكى سے محبت كرتا اور اس سے شادى كرنا چاہتا ہوں، ميں اس كا رشتہ طلب كرنے گيا تو اس كے گھر والوں نے كہا: ان شاء اللہ ايك برس كے بعد حتى كہ ہم يہ جان ليں كہ تعليم كے بارہ ميں كرنا ہے، اور اس موضوع ميں ان شاء اللہ ايك برس بعد بات كريں گے.

اب ميں ان كے ہاں كسى بھى جاتا ہوں، تو كيا يہ حلال ہے يا حرام ؟

ميں آپ كو يہ بتانا چاہتا ہوں كہ ميں اس لڑكى كو برى نظر سے نہيں ديكھتا، ليكن اللہ جانتا ہے كہ اس كے بارہ ميں ميرے دل اور ضمير ميں كيا ہے ؟

اگر تو واقعتا ايسا ہے جو آپ نے بيان كيا ہے، تو پھر منگنى كے ليے آپ نے اسے ديكھا اس ميں كوئى حرج نہيں، ليكن آپ نے جب اس كى صفات اور شكل معلوم كر لى تو اب بار بار اسے مت ديكھيں، اور نہ ہى اس سے خلوت كريں، كہيں يہ نہ ہو كہ آپ كوئى ايسا كام كر بيٹھيں جس كا انجام اچھا نہ ہو.

يہ علم ميں رہے كہ وہ ابھى آپ كے ليے ايك اجنبى عورت ہے جب تك نكاح نہيں ہو جاتا وہ اجنبى رہےگى.

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ آپ كے مقدر ميں وہ كچھ كرے جو آپ كے دين و دنيا كے ليے بہتر ہے.

اللہ تعالى ہى توفيق دينے والا ہے، اور اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے. انتہى

الشيخ عبد العزيز بن عبد اللہ بن باز.

الشيخ عبد الرزاق بن عفيفى.

الشيخ عبد اللہ بن عبد الرحمن آل غديان.

الشيخ عبد اللہ بن حسن بن محمد القعود.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 18 / 77 ).

چاہيے تو يہ كہ جب رشتہ منظور ہو جائے، تو پھر نكاح جلد كر دينا چاہيے، تا كہ عورت اس كى بيوى بن جائے، اور اسے ديكھنا اور اس سے خلوت كرنا مباح ہو جائے، اور اسى طرح بيوى كى ماں بھى محرم بن جائے.

اس ميں مشقت و تنگى بھى ختم ہو جائيگى، اور پھر گناہ سے بھى محفوظ رہا جائيگا.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments